کیا آئی سی سی کا مطلب انڈین کرکٹ کلب ہے؟
پاکستان نے اپنی کرکٹ ٹیم کو ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ میں شرکت کی اجازت تو دے دی ہے مگر بھارت کے خلاف میچ کھیلنے سے روک دیا ہے۔ حکومت پاکستان کے اس فیصلے کو ملکی سطح پر بہت سراہا جا رہا ہے۔
اس فیصلے کو اس لیے بھی سراہا جا رہا ہے کہ اکثر لوگ یہ سوچ رہے تھے اگر پاکستان نے T-20 ورلڈ کپ میں شرکت سے انکار کر دیا تو یہ فیصلہ کرکٹ کو نقصان پہنچانے کے ساتھ ساتھ قومی ٹیم کے کھلاڑیوں کے جذبات کو ٹھیس پہنچانے کے مترادف ہوگا۔
البتہ T-20 ورلڈ کپ کے بائیکاٹ کے فیصلے سے بھارتی حکومت بہت خوش ہوتی کیونکہ وہ تو پاکستان کو عالمی کرکٹ سے بے دخل کرنے کے پہلے سے منصوبے بنا رہی ہے۔
اب پاکستان کے صائب فیصلے سے جہاں ملکی سطح پر خوشگوار تاثر پیدا ہوا ہے وہاں بھارت میں صف ماتم بچھ گئی ہے۔ بھارتی تبصرہ نگاروں کے مطابق پاکستان کے فیصلے سے کرکٹ کے کھیل کو نقصان پہنچا ہے اور T-20 ورلڈ کپ میں کشیدگی اور غیر یقینی صورت حال پیدا کر دی ہے جب کہ پاکستانی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ پاکستان کا فیصلہ اصولی ہے اور مساوی سلوک کی بنیاد پر مبنی ہے۔
ان کا مزید کہنا ہے کہ بھارت نے ماضی میں پاکستان کے خلاف من مانے اور کرکٹ کے اصولوں کے خلاف فیصلے کیے ہیں جن میں میچز کے شیڈول میں تبدیلی اور میچز کے دوران گراؤنڈ میں پاکستانی ٹیم کے ساتھ تضحیک آمیز رویہ شامل ہے۔
بھارتی کرکٹ ٹیم پاکستان میں کھیلنے سے بھی انکار کر چکی ہے یہ بات کوئی پرانی نہیں ہے ابھی پچھلے سال اکتوبر کے مہینے میں جب ایشیا ورلڈ کپ پاکستان میں منعقد ہونا تھا، بھارتی ٹیم نے سیکیورٹی کا بہانہ بنا کر پاکستان آنے سے انکارکردیا تھا جوکہ کسی طرح بھی درست موقف نہیں تھا۔
کیونکہ اس سے کچھ ہی پہلے کئی بین الاقوامی کرکٹ ٹیمیں پاکستان میں اپنی سیریز مکمل کرکے گئی تھیں، انھیں تو کوئی سیکیورٹی کا مسئلہ پیدا نہیں ہوا تھا بلکہ انھوں نے یہاں میچز کھیل کر خوشی کا اظہار کیا تھا۔
پاکستان کے ساتھ یہ بھی زیادتی ہوئی کہ صرف بھارت کی وجہ سے پاکستان کے بجائے ایشیا کپ دبئی میں منعقد کیا گیا جس سے کروڑوں پاکستانی شائقین کے دل ٹوٹے اور ان کی خوشی کو ملیا میٹ کر دیا گیا۔
اس طرح بھارت شروع سے ہی پاکستان دشمنی پر آمادہ ہے اسے جیسے بھی جہاں بھی بنتا ہے پاکستان کو نقصان پہنچانے کی کوشش کرتا ہے مگر اس کی وجہ صرف سیاسی ہے۔
دراصل بھارت میں جب سے نفرتی ہندوتوا حکومت برسر اقتدار آئی ہے اس نے پاکستان دشمنی کی حد ہی کر دی ہے حالانکہ اس سے پہلے پاکستان اور بھارت میں سیاسی رقابت ضرور تھی مگر کھیل کا شعبہ سیاست سے محفوظ تھا۔
کرکٹ کے کھیل میں سیاست کے دخل کی وجہ سے کھیل کی روح کو نقصان پہنچ رہا ہے اور شائقین کے جذبات کو مجروح کیا جا رہا ہے۔
پاکستان کے بھارت سے کرکٹ میچ نہ کھیلنے کے فیصلے پر ایک بھارتی تبصرہ نگار آکاش چوپڑا نے لکھا ہے کہ پاکستان نے بھارت سے اس لیے میچ کھیلنے سے انکار کیا ہے کہ اس کی ٹیم انڈر 19 ورلڈ کپ میں بھارت سے ہار چکی ہے چنانچہ پاکستان کا فیصلہ اپنی شرمندگی چھپانے کے سوا کچھ نہیں ہے۔
بھارتی پارلیمنٹ کے ایک رکن اور مشہور سیاستدان ششی تھرور نے پاکستان کے بھارت کے ساتھ T-20 ورلڈ کپ می میچ نہ کھیلنے کو بھارتی حکومت کو اپنی نفرتی پالیسی بدلنے کا مشورہ دیا ہے، ان کا کہنا ہے کہ مودی حکومت نے پورے بھارت کو تو نفرت زدہ کر ہی دیا ہے ساتھ ہی کرکٹ کے کھیل کو بھی سیاست زدہ کرکے پوری دنیا میں بھارت کو بدنام کر دیا ہے۔
پاکستان کرکٹ بورڈ کے اعلیٰ عہدیدار خالد محمود نے کہا ہے کہ پاکستان کرکٹ بورڈ کو چاہیے کہ وہ ICC کا ایک اجلاس بلا کر بھارت کی زیادتیوں اور کھیل میں سیاست کو ملوث کرنے کا معاملہ اٹھائے۔
یہ معاملہ خاص طور پر آسٹریلیا، نیوزی لینڈ اور انگلینڈ کے سامنے رکھے کہ بھارت کرکٹ کے کھیل کو اپنے سیاسی مفاد میں استعمال کرکے اسے گندا کر رہا ہے۔ ان کے مطابق کرکٹ کو صرف ایک کھیل کے طور پر ہی لینا چاہیے اس کا سیاست سے کیا واسطہ۔
حقیقت یہ ہے کہ کرکٹ میں سیاسی مسائل کو کرکٹ میں داخل کرنے کا سلسلہ بھارت نے ہی شروع کیا ہے اور خاص طور پر مودی حکومت کے دور سے شروع ہوا ہے اسے اب روکا جانا چاہیے ورنہ کرکٹ کا کھیل مذاق بن جائے گا اور اپنی اہمیت کھو دے گا۔
پاکستان نے بھارت کے ساتھ میچ کھیلنے سے ایسے ہی انکار نہیں کیا ہے دراصل پاکستان نے بنگلہ دیش کے خلاف بھارتی زیادتی کے خلاف آواز بلند کی ہے۔ یہ کیسا انصاف ہے کہ بھارت جس ملک میں چاہتا ہے کرکٹ کھیلتا ہے اور جہاں چاہتا ہے منع کر دیتا ہے اور پھر یہ بھی ایک عجیب معاملہ ہے کہ عالمی کرکٹ میں شامل دیگر ممالک بھارت کے نفرتی نظریے کے خلاف آواز نہیں اٹھاتے۔
دراصل ان ممالک کی خاموشی نے ہی بھارت کو من مانی کرنے کا موقع فراہم کیا ہے۔ کچھ تبصرہ نگار یہ بھی کہہ رہے ہیں کہ بھارت دراصل عالمی کرکٹ پر اس لیے چھایا ہوا ہے کہ وہ ایک بڑی آبادی والا ملک ہے وہاں سے سب سے زیادہ ریونیو اکٹھا ہوتا ہے اور یہ حقیقت بھی ہے کہ عالمی کرکٹ کو جو آمدنی حاصل ہوتی ہے اس کا بڑا حصہ بھارت سے ہی آتا ہے۔
ایک اندازے کے مطابق گزشتہ 20 سالوں میں عالمی کرکٹ کو ایک بلین ڈالر کی آمدنی ہوئی ہے۔ بھارت اگر عالمی کرکٹ کی آمدنی میں زیادہ حصہ ڈال رہا ہے تو دوسری جانب وہ عالمی مقابلوں سے خوب کما رہا ہے، آئی سی سی کو جو آمدنی ہوتی ہے اس کا بڑا حصہ بھارت وصول کرتا ہے۔
بھارت کی عالمی کرکٹ میں من مانی کی وجہ سے انٹرنیشنل کرکٹ کلب دراصل انڈین کرکٹ کلب بن کر رہ گیا ہے کیونکہ ICC کوئی بھی فیصلہ بھارت کی مرضی کے خلاف نہیں کرتا۔
بدقسمتی سے بھارت کی متعصب بی جے پی حکومت آئی سی سی کو اپنے مفاد میں استعمال کر رہی ہے۔ بھارتی حکومت اس وقت بنگلہ دیش سے اس لیے تپی ہوئی ہے کہ بنگلہ دیشی عبوری حکومت نے حسینہ واجد کی وجہ سے بھارت سے رشتے توڑ لیے ہیں مگر اس میں بنگلہ دیشی عوام کی مرضی بھی شامل ہے۔
گزشتہ سال بنگلہ دیش کے نوجوانوں نے حسینہ واجد کی بھارت نواز حکومت کا تختہ الٹ دیا تھا اور اسے سیکڑوں بنگلہ دیشیوں کے قتل کی وجہ سے بھارت بھاگنا پڑا تھا۔ اس وقت وہ بھارت میں پناہ لیے ہوئے ہے اور مودی حکومت اس کی پشت پناہی کر رہی ہے۔
حالانکہ بنگلہ دیشی عدلیہ نے حسینہ کو سیکڑوں شہریوں کے قتل کی پاداش میں سزائے موت کا حکم دیا ہے مگر بھارت اسے بنگلہ دیش کے حوالے نہیں کر رہا۔ اس طرح بنگلہ دیش اور بھارت کے تعلقات خراب چل رہے تھے کہ ایسے میں انڈین آئی پی ایل میں پہلے بنگلہ دیشی کھلاڑی مستفیض الرحمن کو شامل کیا گیا مگر بعد میں اسے نکال دیا گیا جس پر بنگلہ دیشی عوام بھارت سے سخت برہم ہو گئے۔
بنگلہ دیشی حکومت نے بھارت کے اس نفرت انگیز واقعے کی وجہ سے اپنی کرکٹ ٹیم کو بھارت جانے سے روک دیا۔ چونکہ بنگلہ دیش کے ساتھ بھارت نے زیادتی کی تھی جس کے خلاف پاکستان نے بنگلہ دیش کے حق بجانب موقف سے اتفاق کرتے ہوئے اپنی ٹیم کو T-20 ورلڈ کپ میں شرکت کی اجازت تو دے دی مگر بھارت سے میچ کھیلنے سے منع کر دیا ہے۔
اب بھارت پاکستان کے بولڈ فیصلے سے تلملایا ہوا ہے، وہ پاکستان سے آگے ضرور انتقام لینا چاہے گا مگر پاکستان کے خلاف ICC کوئی قدم نہیں اٹھا سکتی کیونکہ اس نے T-20 کو ورلڈ کپ کا میچ بھارت کے خلاف نہ کھیل کر اس کے متعصبانہ رویے کو ضرور نقصان پہنچایا ہے مگر آئی سی سی کے قوانین کی کوئی خلاف ورزی نہیں کی ہے۔