دہشت گردی کا نیا چہرہ
پاکستان نے دہشت گردی کے خلاف جو جنگ لڑی ہے، وہ محض سیکیورٹی آپریشنز کی کہانی نہیں بلکہ قربانیوں، صبر اور اجتماعی حوصلے کی ایک طویل داستان ہے۔ ہزاروں جانیں، اربوں ڈالر کا معاشی نقصان، اور پورے سماج کی نفسیاتی قیمت، یہ سب کچھ اس جنگ کا حصہ رہا ہے۔
ریاست نے دہشت گرد نیٹ ورکس توڑے، کئی علاقوں کو کلیئر کیا، اور وقتی طور پر یہ تاثر بھی قائم ہوا کہ دہشت گردی شکست کھا چکی ہے۔ مگر حالیہ واقعات یہ بتا رہے ہیں کہ دہشت گردی ختم نہیں ہوئی، اس نے اپنی حکمتِ عملی اور ہدف تبدیل کر لیا ہے۔
شہری مراکز، عام شہری، بازار، تعلیمی ادارے اور خصوصاً عبادت گاہیں، یہ سب دہشت گردی کے نئے اہداف بن چکے ہیں۔ اس تبدیلی کا مقصد محض جانی نقصان نہیں بلکہ خوف کو روزمرہ زندگی کا حصہ بنانا ہے، تاکہ شہری خود کو ہر جگہ غیر محفوظ محسوس کرے اور ریاست کی عملداری پر سوال اٹھنے لگیں۔
عبادت گاہوں پر حملے دہشت گردی کی سب سے خطرناک شکل ہیں۔ یہ حملے کسی ایک فرقے یا طبقے کو نشانہ بنانے سے کہیں آگے جاتے ہیں۔ ان کا اصل مقصد معاشرتی ہم آہنگی کو توڑنا، مذہبی شناختوں کو ایک دوسرے کے مقابل لا کھڑا کرنا اور ریاست کو ایک داخلی محاذ پر الجھانا ہوتا ہے۔
جب خوف عبادت تک جا پہنچے تو سماج کا اخلاقی اور روحانی ڈھانچہ متزلزل ہونے لگتا ہے۔ یہ سوال ناگزیر ہے کہ کیا پاکستان اس نئے چیلنج کے لیے تیار ہے؟ ایماندارانہ جواب یہ ہے کہ ہماری تیاری جزوی، ردِعمل پر مبنی اور غیر مربوط رہی ہے۔
ہم نے دہشت گردی کو زیادہ سنجیدہ مسئلہ نہیں سمجھا اور اسی زاویے سے اس کا حل تلاش کیا۔ آپریشنز ضرور ہوئے، مگر شہری سیکیورٹی، مقامی انٹیلی جنس، کمیونٹی پولیسنگ اور سماجی پیش بندی وہ پہلو ہیں جن پر تسلسل کے ساتھ توجہ نہیں دی جا سکی۔
شہری مراکز میں سیکیورٹی کا تصور آج بھی زیادہ تر چیک پوسٹس، ناکوں اور وقتی الرٹس تک محدود ہے۔ یہ ایک خلا ہے، جس سے دہشت گردفائدہ اٹھاتے ہیں۔ جدید دنیا میں دہشت گردی کا مقابلہ صرف بندوق سے نہیں بلکہ معلومات، کمیونٹی روابط اور پیشگی اطلاتی نظام سے کیا جاتا ہے،اور یہی وہ شعبے ہیں جہاں ہمیں سنجیدہ اصلاحات کی ضرورت ہے۔
اس مسئلے کا ایک اور پہلو بھی ہے، جو اکثر نظرانداز کر دیا جاتا ہے: بیانیے کی جنگ۔ دہشت گردی محض جسمانی حملہ نہیں، یہ ذہنی یلغار بھی ہے۔ نفرت انگیز تقاریر، فرقہ وارانہ مواد، سوشل میڈیا پر پھیلایا جانے والا زہر، یہ سب دہشت گردی کے لیے خام مال فراہم کرتے ہیں۔
یہ کہنا بھی حقیقت سے فرار ہوگا کہ شدت پسندی صرف بیرونی عوامل کا نتیجہ ہے۔ داخلی کمزوریاں، ناقص تعلیم، معاشی محرومیاں، اور ادارہ جاتی ناانصافیاں، یہ سب عوامل انتہا پسند سوچ کو جگہ دیتے ہیں۔
دہشت گردی کے خلاف جنگ میں میڈیا کا کردار بھی غیر معمولی اہم ہے۔ بدقسمتی سے ہمارا میڈیا اکثر سنجیدہ تجزیے کے بجائے سنسنی، قیاس آرائی اور فوری فیصلوں کی طرف مائل ہو جاتا ہے۔ کسی واقعے کے فوراً بعد غیر ذمے دار زبان، جھوٹ سازی ، یہ سب دہشت گردوں کے مقاصد کو بالواسطہ تقویت دیتے ہیں۔
میڈیا کو یہ سمجھنا ہوگا کہ ہر خبر صرف ریٹنگ نہیں، قومی ذمے داری بھی ہوتی ہے۔ ریاست کے لیے سب سے بڑا امتحان یہ ہے کہ وہ دہشت گردی کے ہر واقعے پر یکساں حساسیت دکھائے۔ کسی عبادت گاہ پر حملہ ہو یا کسی بازار میں، کسی اقلیت کو نشانہ بنایا جائے یا اکثریت کو ریاستی ردِعمل میں کوئی فرق نہیں ہونا چاہیے۔
پاکستان کو اب ایک جامع اور ہمہ جہت قومی حکمتِ عملی کی ضرورت ہے۔ ایسی حکمتِ عملی جو محض سیکیورٹی پلان نہ ہو بلکہ سماجی معاہدہ ہو۔ اس میں شہری سیکیورٹی کی جدید تشکیل، انٹیلی جنس اداروں کے درمیان مؤثر رابطہ، مقامی سطح پر اعتماد سازی، مذہبی قیادت کی شمولیت، تعلیمی اصلاحات اور نفرت انگیز مواد کے خلاف بلاامتیاز کارروائی شامل ہونی چاہیے۔
سب سے بڑھ کر، ہمیں ایک واضح قومی بیانیہ تشکیل دینا ہوگا۔ ایسا بیانیہ جو دہشت گردی کو کسی مذہب، مسلک یا سیاسی نظریے سے جوڑنے کے بجائے اسے ایک خالصتاً مجرمانہ اور انسان دشمن عمل قرار دے۔ ایسا بیانیہ جو ہر شہری کو یہ یقین دلائے کہ ریاست اس کی جان، عزت اور عبادت کے حق کی بلا تفریق محافظ ہے۔
یہ وقت خود احتسابی کا ہے، نہ کہ خود فریبی کا۔ دہشت گردی نے اپنا چہرہ بدلا ہے، اور اگر ہم نے اپنی حکمتِ عملی نہ بدلی تو تاریخ خود کو دہرا سکتی ہے۔ سوال یہ نہیں کہ دشمن کتنا سفاک ہے، سوال یہ ہے کہ کیا ہم بطور ریاست اور بطور معاشرہ اتنے بالغ، متحد اور دور اندیش ہیں کہ اسے دوبارہ جڑ پکڑنے نہ دیں؟
دہشت گردی کے خلاف جنگ اب صرف سرحدوں پر نہیں لڑی جاتی۔ یہ جنگ شہروں کی گلیوں میں، عبادت گاہوں کے صحن میں، میڈیا کے ذریعے، تعلیمی نصاب میں، اور سب سے بڑھ کر ہمارے اجتماعی شعور میں لڑی جاتی ہے۔ اور یہی وہ محاذ ہے جس کی جانب اجتماعی توجہ ضروری ہے۔