کاغذات میں تعمیرات

انگریز چونکہ گھوڑے کو انسان سے ذرا اونچا مقام دیتے تھے، اس لیے محکمہ ’’انسداد بے رحمی حیوانات ‘‘ بنایا گیا

barq@email.com

لارڈ میکالے کی بتائی ہوئی بلکہ ابجاد کی ہوئی اورہندوستان میں لانچ کی ہوئی ’’تعلیمی انڈسٹری‘‘ کے ایک پراڈکٹ پنکھے کاذکر تو ہم کرچکے ہیں جس کا اطراف گھومنا ختم ہوگیا تھا اوراب صرف ایک طرف کھڑا ہوکر ہوا دیتا ہے۔

یعنی اس کے اپنے خاندان کی طرف رخ کرکے ہوا دے رہا تھا ، وہ بھی نہایت ہی بری بری آوازوں کے ساتھ، یہ تھا سرکاری افسر۔آج ہم اسی انڈسٹری کی ایک اورپراڈکٹ کاذکر کرنا چاہتے ہیں جو پنکھے سے بھی بڑھ کر ائیر کولر بلکہ ائیر کنڈیشن تھا۔

تعلیم مکمل کرنے کے بعد اس نے اپنے کیرئیر کاآغاز کارپوریشن کے عہدے سے کیا تھا ۔ پرانے زمانے میں وہ تانگوں کے اڈے میں ہوا کر تھا اورتانگے بانوں سے ایک ایک روپیہ یاآٹھ آٹھ آنے وصول کیا کرتا تھا ۔

یہ وہ زمانہ تھا جب موٹر وہیکلز بہت کم ہوا کرتی تھیں اور آمد و رفت کا زیادہ کام تانگوں سے چلتا تھا، ایک زمانے میں ہرشہر کاسب سے پررونق مقام تانگہ اسٹینڈ ہوا کرتا تھا ۔

انگریز چونکہ گھوڑے کو انسان سے ذرا اونچا مقام دیتے تھے، اس لیے محکمہ ’’انسداد بے رحمی حیوانات ‘‘ بنایا گیا ، اس محکمہ میں ایک سرکاری عہدہ بھی کری ایٹ کیاگیا تھا۔

سرکارکا مقرر کردہ یہ افسر تانگوں میں جتے گھوڑوں کو چیک کیاکرتا تھا کہ کہیں کوچوان ان پر ظلم یابے رحمی تو نہیں کررہا چنانچہ میونسپل کمیٹی کا یہ اہلکار تانگہ اسٹینڈز کا بادشاہ ہوا کرتا تھا ۔

تانگے بانوں نے اس کے سرکاری عہدے جھاڑ کر ایک طرف رکھ دیے اور اسے چوہدری کاخطاب دیا ہوا تھا ۔ مذکورہ سرکاری اہلکار یعنی چوہدری کچھ عرصے بعد متعلقہ سرکاری ادارے میں بابو ہوگیا، پھر اکاونٹ کلرک اورآخر میں اکاونٹنٹ کے عہدے پر ریٹارئرڈ ہوگیا۔

لیکن اس عرصے میں وہ خود کو طبقہ عام سے وی آئی پی کرچکا تھا ،کافی جائیداد دکانیں اورکاروبار پھیلا چکا تھا اوراب گناہوں کے ثواب میں حیات آباد پشاورکی جنت میں پہنچ چکا تھا اورکہیں کبھی کبھار گاؤں کی خاص خاص شادی غمی یاالیکشنوں میں درشن دے دیا کرتا تھا ۔

ہمارے گاؤں کا ایک راستہ بہت خراب ہوگیا، گڑھے پڑگئے تھے اورآمد ورفت کے قابل نہیں رہ گیا تھا، کچھ بزرگوں نے کہا کہ اس پر شنگل (ریت اورپتھروں کامجموعہ) ڈالنے کی ضرورت ہے اوریہ کام ڈسٹرکٹ کونسل کا تھا اوران دنوں ڈسٹرکٹ کونسل کاجو چیرمین تھا، وہ ہمارا شناسا تھا، اس لیے ہم اس کے پاس چلے گئے۔

اپنا مسلہ عرض کیا تو اس نے سیکریٹری کو بلا کر ہدایت کی کہ متعلقہ راستے پر شنگل ڈالنے کابندوبست کیاجائے ۔ سیکریٹری ، یس سر،کہہ کر چلا گیا ۔کچھ دیر بعد جب ہم چائے وغیرہ پی چکے تو وہ ایک موٹا سا رجسٹر سینے سے لگائے اوراپنی انگلی کودرمیان پھنسائے مسکراتا ہوا آیا ۔

چیئرمین کو رجسٹر کھول کر سرگوشیاں کرتا رہا، پھرچیئرمین ہنس کر ہم سے بولا، جس راستے کاذکر آپ کررہے ہیں، اس پرتو اب تک سات بارشنگل ڈالی جاچکی ہے ، دودو تین لاکھ روپے کی ۔ ہمیں حیرت ہوئی کہ اس راستے پر ہمارا گزر بچپن سے ہے اوراب ہم پچپن کے ہوچکے تھے لیکن ہم نے تو اس پر کسی کو مٹھی بھر شنگل بھی ڈالتے ہوئے نہیں دیکھا تھا ۔

سیکریٹری بدستور رجسٹر کی ورق گردانی کررہا تھا اورچیئرمین کو کچھ دکھارہا تھا، آخر میں پتہ چلا کہ صرف وہ راستہ ہی نہیں بلکہ ہمارے گاؤں کے ہرراستے پر اتنی شنگل ڈالی گئی ہے کہ ۔۔۔ وہ تو اﷲ کا لاکھ لاکھ شکر ہے کہ ’نہیں ‘‘ ڈالی گئی تھی ورنہ آج ہمارے گاؤں کے سارے راستے مکانوں کی چھتوں سے بھی اوپر ہوتے۔

بلکہ سیکریٹری نے جب ہمارے کہنے پر وہ پنڈورا باکس کھولا جو ایک رجسٹر کی شکل میں تھا تو پتہ چلا ، ہمارے گاؤں میں پختہ نالیاں، پکی گلیاں اور پلوں کا بھی بہت بڑا ’’ترقیاتی کام‘‘ ہوا ہے۔

سن کر پہلے تو میں نے توبہ توبہ کا ورد شروع کیا لیکن توبہ توبہ سے تائب ہوکر شکر کرنے لگا کہ شکر ہے یہ سارے ’’ترقیاتی کام‘‘ یہاں کاغذات اوررجسٹرات میں ہوئے ہیں ورنہ اگرگاؤں میں ہوتے تو آج سارا گاؤں ہمارے سمیت زیر زمین غائب ہوچکا ہوتا ، اس سیکریٹری نے بتایا کہ یہ ’’ترقیاتی کام‘‘ کیسے ہوئے یا ہوتے ہیں اورجب سارے پردے ہٹائے تو ۔۔

پردہ ہے پردہ ۔۔پردے کے پیچھے

پردہ نشین ہے ۔۔اوریہ پردہ نشین ہمارا ’’چوہدری‘‘نکلا۔ سیکریٹری کے مطابق جب بھی کوئی ممبر ہاتھ لگتا یا موصوف کو ضرورت ہوتی تو گاؤں میں ترقیاتی کام کے لیے فنڈ کی درخواست کرتا ، فنڈ منظور ہوتے ہی پراجیکٹ بنالیاجاتا جو گاؤں کے کسی لاحق یاسابق کونسلر ممبریااس کے کسی عزیز واقرب کی سربراہی میں ’’مکمل‘‘ ہوجاتا۔

اس کو چند ہزار پکڑا کر باقی وہی پہنچ جاتا جہاں کے لیے روانہ ہوچکا ہوتا ۔واپس آٰتے ہوئے اورپھر اس کے بعد بھی کافی عرصے تک بلکہ اب تک ہم ایک اورمعاملے میں بھی اﷲ کالاکھ لاکھ شکراداکرتے ہیں۔ دیہات اورمقامی بلدیات اورکونسلوں سے نکل کر پورے ملک میں ترقیاتی کاموں پر غورکیا تو وہی سوچا جو ڈسٹرکٹ کونسل میں سوچاتھا۔

اچھا ہوا کہ یہ سارے ترقیاتی کام جو گزشتہ ستر اسی سالوں سے ہوتے رہے ہیں، صرف کاغذات میں ہوتے ہیں اورنیچے زمین پر نہیں اترتے۔اگر اترتے تو خدانخواستہ خدانخواستہ بلکہ باربار خدانخواستہ اس ملک کانہ جانے کیاکیا حشرنشر ہوچکا ہوتا ۔

باقی سارے ترقیاتی کاموں کوتوچھوڑئیے جو اس ملک کے چپے چپے پر ہوتے تھے ، ہوتے ہیں اورہوتے رہیں گے ۔ باقی رجسٹروں، فائلوں، میزوں کی درازوں اورالماریوں میں دفن شدہ کاغذات کو بھی چھوڑ دیجیے ، اگرصرف صرف وہ کام بھی شمارکریں جو ان ستراسی سالوں میں حکومتوں نے صرف ’’اخباروں‘‘ میں کیے ہیں اوراگر وہ بھی برسرزمین کیے گئے ہوتے تو آج نہ جانے ہمارا یہ ملک کہاں ہوتا؟

زمین پر ہونے کا تو سوال ہی پیدانھیں ہوسکتا یا تو چاند ستاروں میں کہیں ہوتا یاچین، جاپان ، یوکے اورسٹیس میں کہیں ہوتا ورنہ عرب ممالک میں تو ضرورہوتا ۔ اندازہ لگانے کے لیے کچھ زیادہ محنت کی بھی ضرورت نہیں ہے ،صرف ایک دن کے اخبارات اٹھائیے۔

ان میں سے بیانات کو نکال کر جمع کردئیجے اورپھر اس کو صرف تین سو پینسٹھ سے ضرب دئیجے، آپ کے ہاتھوں کے طوطے، بٹیر، کوے، کبوتر بلکہ بطخ اورمرغیاں اڑنہیں گئیں تو ہمیں ’’لیڈر‘‘ کی سزا دے دئیجے، اصل نام سے پکارکر ۔

ترقیاتی کام زندہ باد، کاغذات پائندہ باد اور کام آیندہ باد۔

Load Next Story