گوجرانوالہ میں برا ہوا ہم سے بھی کوتاہیاں ہوسکتی ہیں عابد شیر
ہماری تیاری پوری ہے، جہانگیر ترین، میرا وجدان کہتا ہے کسی بڑے حادثے کا شکار نہیں ہونگے، سراج الحق
حکومت کو کچھ نہ کچھ احتیاطی تدابیر کرنا ہی پڑنی تھیں، عابد شیر علی فوٹو: فائل
امیر جماعت اسلامی سراج الحق نے کہا ہے کہ میرا وجدان کہتا ہے کہ ہم کسی بڑے حادثے کا شکار نہیں ہوں گے تمام معاملات بخیروخوبی طے پا جائیں گے۔
اجتماعی طور پر جلوس پرامن رہا تھوڑے بہت واقعات ہوئے ہیں جو افسوسناک ہیں لیکن ان پر حکومت نے غلطی بھی تسلیم کی ہے۔ ایکسپریس نیوز کی خصوصی نشریات میں گفتگو کے دوران انھوں نے کہا کہ حکومت نے تمام راستے کھول کر اچھا فیصلہ کیا ہم سب اس پر متفق ہیں کہ ہم نے جمہوریت اور آئین کو بچانا ہے۔آصف علی زرداری نے اس معاملے کو حل کی طرف لے جانے میں بڑی رہنمائی کی میں نے دونوں فریقین سے کہا ہے کہ آپ بڑے لوگ ہیں جمہوریت ہویا نہ ہو بڑے لوگ ہمیشہ خیر سے رہیں گے لیکن غریب آدمی کے مسائل بڑھ جائیں گے۔
شہباز شریف کا خیال تھا کہ فوج کسی بھی طورپر مداخلت نہیں کرے گی لیکن میں نے ان سے کہا کہ آپ گاڑی دھیان سے چلائیں تاکہ ایکسیڈنٹ نہ ہو لیکن جب ایکسیڈنٹ ہوجاتا ہے تو پھر گاڑی کو ہٹانے کے لئے کسی کو آنا پڑتا ہے۔پی ٹی آئی کے رہنما جہانگیر ترین نے کہا کہ اسلام آباد میں بارش باران رحمت ہے ۔یہ حکومت غیر آئینی ہے جس کا وجود دھاندلی سے ہونے والے انتخابات کی وجہ سے ہے ،ایسی حکومت کی کوئی اہمیت نہیں ہوتی۔ حکومت ٹیکنیکل کھیل کھیل رہی ہے ہماری تیاری پوری ہے۔
پاکستان مسلم لیگ ن کے رہنما عابد شیر علی نے کہا کہ گوجرانوالہ میں جو واقعہ ہوا ہے وہ برا ہوا ہے اور میں اس کی مذمت کرتا ہوں، حکومت کو کچھ نہ کچھ احتیاطی تدابیر کرنا ہی پڑنی تھیں، ہم سے بھی خامیاں کوتاہیاں ہوسکتی ہیں۔ تجزیہ کار جاوید چوہدری نے کہا کہ عمران خان ٹیکنوکریٹس کی حکومت چاہتے ہیں اور انھوں نے اس کا اظہار بھی کیا ہے لیکن طاہرالقادری سارے سسٹم کو لپیٹ کر نیا سسٹم بنانا چاہتے ہیں ۔گوجرانوالہ میں پی ٹی آئی کی مارچ پر ن لیگ کے کارکنوں کا حملہ افسوسناک ہے ہمیں سیاسی طورپر برداشت کی عادت ڈالنی چاہئے ۔
گوجرانوالہ میں عمران خان کے ناشتے کا بندوبست گوجرانوالہ کے ایک انڈسٹریل گروپ نے کیا تھا جس کا دورانیہ تین چارگھنٹے تک چلا گیا اور اس دوران لانگ مارچ میں شامل ساری گاڑیاں سڑک کے کناروں پر کھڑی رہیں یہ حلقہ بنیادی طور پر ن لیگ کا ہے اور جب سیاسی حریف اس طرح گاڑیاں کھڑی کریں گے اور حالات بھی معمول کے مطابق نہیں تو پھر کچھ نہ کچھ ہوسکتا تھا۔برصغیر کی تاریخ ہے کہ جو بھی تحریک مون سون میں شروع ہوئی وہ کامیاب نہیں ہوئی ،عمران خان کی حکمت عملی میں تین سے چار خامیاں نظر آتیں ہیں انہوں نے اس سفر کو طویل کردیا جب لوگوں کو سات آٹھ گھنٹے سڑک پر رہنا پڑا تو وہ گوجرانوالہ سے ہی واپس لوٹ گئے۔
خیبر پختونخواہ سے لوگ عمران خان سے چوبیس گھنٹے پہلے پہنچ گئے اور اسلام آباد میں انہیں ڈیل کرنے والا کوئی نہیں تھا ، جس شہر میں عمران خان پہنچتے تھے وہاں پر لوگ اکٹھے ہوجاتے تھے اور جب قافلہ آگے بڑھ جاتاتھا تو وہ منتشر ہوجاتے تھے ۔تجزیہ کار ڈاکٹر معید پیرزادہ نے کہا کہ پی ٹی آئی اور ن لیگ کے اختلافات کوئی عرب اسرائیل اختلافات نہیں ہیں دونوں پاکستان کی سیاسی جماعتیں ہیں اور سیاست میں اختلافات ہونا کوئی نئی بات نہیں ہے۔ سب اپنا اپنا ایجنڈہ لے کر آرہے ہیں لیکن مرکزی بات ایک ہی ہے ۔اس ساری صورتحال میں جماعت اسلامی کا کردار بہت مثالی رہا ہے ۔ٹی وی اینکر شاہ زیب خانزادہ نے کہا کہ چوہدری شجاعت کی سڑیٹ پاور اب نہیں رہی انھیں صرف یہ فائدہ ہوسکتا ہے کہ وہ کسی نئے سیٹ اپ کا حصہ ہوسکتے ہیں۔
گوجرانوالہ میں پی ٹی آئی کے جلوس پر پتھراؤ افسوسناک ہے، تجزیہ کار فواد چوہدری نے کہا کہ لانگ مارچ میں پی ٹی آئی کی طرف سے ضرورت سے زیادہ تاخیر ہوئی ہے طاہرالقادری یا عمران خان کے مطالبے میں کوئی تبدیلی نہیں آئی دونوں ہی حکومت کو ہٹانے میں متفق ہیں۔ ایکسپریس نیوز سے خصوصی گفتگو میں وفاقی وزیر اطلاعات پرویزرشید نے کہا ہے کہ میں لانگ مارچ کی وجہ سے نہیں لیکن یوم آزادی اپنی خواہش کے مطابق نہ منانے کی وجہ سے تکلیف میں ہوں۔ وزیراعظم کیوں استعفٰی دینگے یہ پاکستان ہے کوئی بناناری پبلک نہیں کہ چند ہزار لوگ آئینگے اور وہ وزیراعظم سے استعفیٰ لیکر چلے جائینگے،لانگ مارچ کی وجہ سے ملک کا کاروبار بند ہے۔
ہم نے کنٹینرز کسی شوق میں نہیں لگائے گئے اگر خدانخواستہ کوئی واقعہ ہوجاتا ہے تو پھر یہی لوگ ہم پر تنقید کریں گے، مارچ میں شرکا کی حفاظت ہماری ذمہ داری ہے، دہشتگرد پاکستان میں دندناتے پھر رہے ہیں ،فوج اس وقت دہشتگردی کے خلاف جنگ لڑرہی ہے حساس اداروں کی رپورٹس آتی ہیں کہ دہشت گردی ہوسکتی ہے اس لئے حفاظتی انتظامات کئے گئے، اس کیلئے ہمیں ان دو غیرذمہ دار سیاستدانوں نے مجبور کیا ہمارے لئے انسانی جانیں اہم ہیں ،ہم نے تمام صورتحال سے سیاسی جماعتوں سے رابطہ رکھا ہے اور جہاں کہیں بھی ضرورت پڑی ان سے مشاورت بھی کی ہے۔
اجتماعی طور پر جلوس پرامن رہا تھوڑے بہت واقعات ہوئے ہیں جو افسوسناک ہیں لیکن ان پر حکومت نے غلطی بھی تسلیم کی ہے۔ ایکسپریس نیوز کی خصوصی نشریات میں گفتگو کے دوران انھوں نے کہا کہ حکومت نے تمام راستے کھول کر اچھا فیصلہ کیا ہم سب اس پر متفق ہیں کہ ہم نے جمہوریت اور آئین کو بچانا ہے۔آصف علی زرداری نے اس معاملے کو حل کی طرف لے جانے میں بڑی رہنمائی کی میں نے دونوں فریقین سے کہا ہے کہ آپ بڑے لوگ ہیں جمہوریت ہویا نہ ہو بڑے لوگ ہمیشہ خیر سے رہیں گے لیکن غریب آدمی کے مسائل بڑھ جائیں گے۔
شہباز شریف کا خیال تھا کہ فوج کسی بھی طورپر مداخلت نہیں کرے گی لیکن میں نے ان سے کہا کہ آپ گاڑی دھیان سے چلائیں تاکہ ایکسیڈنٹ نہ ہو لیکن جب ایکسیڈنٹ ہوجاتا ہے تو پھر گاڑی کو ہٹانے کے لئے کسی کو آنا پڑتا ہے۔پی ٹی آئی کے رہنما جہانگیر ترین نے کہا کہ اسلام آباد میں بارش باران رحمت ہے ۔یہ حکومت غیر آئینی ہے جس کا وجود دھاندلی سے ہونے والے انتخابات کی وجہ سے ہے ،ایسی حکومت کی کوئی اہمیت نہیں ہوتی۔ حکومت ٹیکنیکل کھیل کھیل رہی ہے ہماری تیاری پوری ہے۔
پاکستان مسلم لیگ ن کے رہنما عابد شیر علی نے کہا کہ گوجرانوالہ میں جو واقعہ ہوا ہے وہ برا ہوا ہے اور میں اس کی مذمت کرتا ہوں، حکومت کو کچھ نہ کچھ احتیاطی تدابیر کرنا ہی پڑنی تھیں، ہم سے بھی خامیاں کوتاہیاں ہوسکتی ہیں۔ تجزیہ کار جاوید چوہدری نے کہا کہ عمران خان ٹیکنوکریٹس کی حکومت چاہتے ہیں اور انھوں نے اس کا اظہار بھی کیا ہے لیکن طاہرالقادری سارے سسٹم کو لپیٹ کر نیا سسٹم بنانا چاہتے ہیں ۔گوجرانوالہ میں پی ٹی آئی کی مارچ پر ن لیگ کے کارکنوں کا حملہ افسوسناک ہے ہمیں سیاسی طورپر برداشت کی عادت ڈالنی چاہئے ۔
گوجرانوالہ میں عمران خان کے ناشتے کا بندوبست گوجرانوالہ کے ایک انڈسٹریل گروپ نے کیا تھا جس کا دورانیہ تین چارگھنٹے تک چلا گیا اور اس دوران لانگ مارچ میں شامل ساری گاڑیاں سڑک کے کناروں پر کھڑی رہیں یہ حلقہ بنیادی طور پر ن لیگ کا ہے اور جب سیاسی حریف اس طرح گاڑیاں کھڑی کریں گے اور حالات بھی معمول کے مطابق نہیں تو پھر کچھ نہ کچھ ہوسکتا تھا۔برصغیر کی تاریخ ہے کہ جو بھی تحریک مون سون میں شروع ہوئی وہ کامیاب نہیں ہوئی ،عمران خان کی حکمت عملی میں تین سے چار خامیاں نظر آتیں ہیں انہوں نے اس سفر کو طویل کردیا جب لوگوں کو سات آٹھ گھنٹے سڑک پر رہنا پڑا تو وہ گوجرانوالہ سے ہی واپس لوٹ گئے۔
خیبر پختونخواہ سے لوگ عمران خان سے چوبیس گھنٹے پہلے پہنچ گئے اور اسلام آباد میں انہیں ڈیل کرنے والا کوئی نہیں تھا ، جس شہر میں عمران خان پہنچتے تھے وہاں پر لوگ اکٹھے ہوجاتے تھے اور جب قافلہ آگے بڑھ جاتاتھا تو وہ منتشر ہوجاتے تھے ۔تجزیہ کار ڈاکٹر معید پیرزادہ نے کہا کہ پی ٹی آئی اور ن لیگ کے اختلافات کوئی عرب اسرائیل اختلافات نہیں ہیں دونوں پاکستان کی سیاسی جماعتیں ہیں اور سیاست میں اختلافات ہونا کوئی نئی بات نہیں ہے۔ سب اپنا اپنا ایجنڈہ لے کر آرہے ہیں لیکن مرکزی بات ایک ہی ہے ۔اس ساری صورتحال میں جماعت اسلامی کا کردار بہت مثالی رہا ہے ۔ٹی وی اینکر شاہ زیب خانزادہ نے کہا کہ چوہدری شجاعت کی سڑیٹ پاور اب نہیں رہی انھیں صرف یہ فائدہ ہوسکتا ہے کہ وہ کسی نئے سیٹ اپ کا حصہ ہوسکتے ہیں۔
گوجرانوالہ میں پی ٹی آئی کے جلوس پر پتھراؤ افسوسناک ہے، تجزیہ کار فواد چوہدری نے کہا کہ لانگ مارچ میں پی ٹی آئی کی طرف سے ضرورت سے زیادہ تاخیر ہوئی ہے طاہرالقادری یا عمران خان کے مطالبے میں کوئی تبدیلی نہیں آئی دونوں ہی حکومت کو ہٹانے میں متفق ہیں۔ ایکسپریس نیوز سے خصوصی گفتگو میں وفاقی وزیر اطلاعات پرویزرشید نے کہا ہے کہ میں لانگ مارچ کی وجہ سے نہیں لیکن یوم آزادی اپنی خواہش کے مطابق نہ منانے کی وجہ سے تکلیف میں ہوں۔ وزیراعظم کیوں استعفٰی دینگے یہ پاکستان ہے کوئی بناناری پبلک نہیں کہ چند ہزار لوگ آئینگے اور وہ وزیراعظم سے استعفیٰ لیکر چلے جائینگے،لانگ مارچ کی وجہ سے ملک کا کاروبار بند ہے۔
ہم نے کنٹینرز کسی شوق میں نہیں لگائے گئے اگر خدانخواستہ کوئی واقعہ ہوجاتا ہے تو پھر یہی لوگ ہم پر تنقید کریں گے، مارچ میں شرکا کی حفاظت ہماری ذمہ داری ہے، دہشتگرد پاکستان میں دندناتے پھر رہے ہیں ،فوج اس وقت دہشتگردی کے خلاف جنگ لڑرہی ہے حساس اداروں کی رپورٹس آتی ہیں کہ دہشت گردی ہوسکتی ہے اس لئے حفاظتی انتظامات کئے گئے، اس کیلئے ہمیں ان دو غیرذمہ دار سیاستدانوں نے مجبور کیا ہمارے لئے انسانی جانیں اہم ہیں ،ہم نے تمام صورتحال سے سیاسی جماعتوں سے رابطہ رکھا ہے اور جہاں کہیں بھی ضرورت پڑی ان سے مشاورت بھی کی ہے۔