دھمکیوں سے منت سماجت تک
بنگلہ دیش کو ایونٹ سے باہر کرنے پر جب پی سی بی کے سخت ردعمل کی باتیں شروع ہوئیں تو انڈین میڈیا پر سابق کرکٹرز و ماہرین کچھ اس قسم کے دعوے کر رہے تھے، انھیں لگتا تھا کہ یہ صرف دھمکی ہے پاکستان ایسا کچھ نہیں کر سکتا۔
البتہ جب حکومت پاکستان کی جانب سے کرکٹ ٹیم کو ورلڈکپ میں انڈیا کیخلاف مقابلے سے روک دیا گیا تو یہ سب پریشان ہو گئے، پھر یہ کہا جانے لگا کہ جس طرح پاکستانی کرکٹرز ریٹائر ہو کر کئی بار فیصلہ تبدیل کر لیتے ہیں ویسے ہی بورڈ بھی کر لے گا۔
پھر جب وزیر اعظم شہباز شریف نے کابینہ کے سامنے انڈیا سے میچ کے بائیکاٹ کی بات کر دی تو پڑوسیوں کو معاملے کی سنگینی کا اندازہ ہوا، پہلے جرمانے، پابندیوں سے ڈرایا جاتا رہا اب بات منت سماجت تک پہنچ چکی۔
حد تو یہ ہے کہ سری لنکن بورڈ سے بھی خط لکھوا دیا گیا کہ ’’ بھائی جان ہم نے مشکل وقت میں تمہاری بہت مدد کی اب آپ نے میچ نہ کھیلا تو ہمارا بہت نقصان ہو جائے گا‘‘ طویل عرصے بعد کوئی پہلا موقع ایسا ہے جب آئی سی سی اور انڈین بورڈ سخت پریشان ہیں۔
میچ نہ ہونے پر عام اندازے کے مطابق ڈھائی سو ملین ڈالرز کا نقصان متوقع ہے، پاکستانی کرنسی میں یہ رقم اربوں میں جاتی ہے، اصل خسارہ اس سے کئی زیادہ ہونا ہے، سٹے باز بھی اربوں کماتے ہیں.
انڈین براڈ کاسٹر آئی سی سی کے پیچھے پڑا ہوا ہے کہ مسئلہ حل کرو ورنہ ہم سے پیسوں کی امید نہ رکھنا،تم کو کورٹ میں دیکھ لیں گے، صرف ایک اس میچ سے اتنی آمدنی ہو جاتی ہے جو پورے ورلڈکپ کے دیگر میچز کے برابر ہے.
اسی لیے ہمیشہ دشمنی کا راگ الاپنے والا انڈیا ہر میگا ایونٹ میں پاکستان کے خلاف کھیلنے کو تیار ہو جاتا ہے، براڈ کاسٹر نے بھاری رقم دے کر حقوق اسی لیے حاصل کیے ہوتے ہیں کہ اسے روایتی حریفوں کے میچ کا یقین دلایا جاتا ہے.
اس قسم کی ڈیلز انڈیا میں اعلیٰ شخصیات کی جیب بھاری کیے بغیر ممکن نہیں ہو سکتیں اسی لیے سیاست دان بھی ’’دیش بھگتی‘‘ کی باتیں کرنا چھوڑ دیتے ہیں، انڈیا آئی سی سی کی آمدنی کا بڑا حصہ تقریبا 40 فیصد خود لے جاتا ہے،پاکستان کو اس سے بہت کم 5 یا 6 فیصد شیئر ہی ملتا ہے.
کیا انڈیا اتوار کو یوگینڈا سے میچ کھیلتا تب بھی اتنی آمدنی ہوتی؟ جب پاکستان کے نام پر کما رہے ہو تو اسے جائز حصہ بھی تو دو، بنگلہ دیش غریب ملک ہے کرکٹ میں اس کی اہمیت بھی نہیں اس لیے آسانی سے ورلڈکپ سے باہر کر دیا گیا.
پی سی بی نے حمایت کر کے بالکل درست قدم اٹھایا لیکن انگلینڈ، نیوزی لینڈ اور آسٹریلیا جیسے ممالک خاموش تماشائی بنے رہے ویسے ان سے اصول پسندی کی باتیں کروا لیں تو سب سے آگے ہوں گے.
اب معاملہ بہت آگے نکل گیا ہے، پاکستان کو پابندیوں یا جرمانوں سے نہیں ڈرایا جا سکتا، بائیکاٹ جیسا بڑا فیصلہ یقینی طور پر تمام قانونی پہلوؤں کا جائزہ لینے کے بعد وکلا کی مشاورت سے ہی کیا گیا ہو گا، جب ماضی میں بھارت معاہدے سے پھر سکتا ہے تو پاکستان کے پاس تو ٹھوس جواز بھی ہے.
کسی ٹیم کو حکومت ہی کھیلنے سے روک دے تو وہ کیسے کھیل سکتی ہے؟ شاید اس ایک فیصلے سے لوگوں کی آنکھیں کھل جائیں، جیب خالی ہو گی تو آئی سی سی کو بھی حقائق کا اندازہ ہو سکے گا، طویل عرصے سے انڈیا پاکستان کے ساتھ باہمی سیریز نہیں کھیل رہا سب خاموش رہے اب پاکستان نے ایک میچ کھیلنے سے انکار کر دیا تو لوگ چیخیں مارنے لگے.
کہا جاتا ہے کہ کرکٹ میں زیادہ تر آمدنی انڈیا کی وجہ سے آتی ہے، بہت بڑی آبادی کی وجہ سے شاید کسی حد تک ایسا ممکن ہو لیکن کیا تمام اسپانسرز انڈینز ہی ہیں؟ اس ورلڈکپ کو ہی دیکھ لیں کئی بڑے اسپانسرز سعودی عرب، یو اے ای و دیگر ممالک کے بھی ہیں.
ماضی میں کیا ورلڈکپ نہیں ہوتے تھے؟ اس وقت کیسے گوروں کو اسپانسرز مل جاتے تھے؟ کیا اب یہ ممالک دیوالیہ ہو چکے ہیں؟ درحقیقت انڈیا سے جب پیسہ آنے لگا تو سب سہل پسند ہو گئے اور اپنی مارکیٹ کو چھوڑ دیا، اب نوبت یہ آ گئی کہ بگ بیش میں سرمایہ کاری کی خواہشمند ایک کمپنی نے پیشکش یہ کہہ کر واپس لے لی کہ ’’ہماری توہین کی گئی.
کرکٹ آسٹریلیا صرف آئی پی ایل والوں کو لانا چاہتا ہے‘‘ انگلینڈ کی دی ہنڈرڈ ہو یا جنوبی افریقی ایس اے 20 سب پر انڈینز کا راج ہے، ایک دن آئے گا جب کنٹرول کھو کر یہ اپنے فیصلوں پر پچھتائیں گے،پاکستان حق و سچ کی راہ پر کھڑا ہے.
بائیکاٹ سے یقینی طور پر ہمیں مالی نقصان ہو گا لیکن ایک بار ان کو سبق سکھانا ضروری بھی ہے، پی ایس ایل کی وجہ سے اب بورڈ کے پاس پیسہ آ چکا،معاملہ کورٹ تک گیا تو بھی پوزیشن مضبوط ہو گی، ویسے منافقت کی بھی انتہا ہے یہ انڈینز میچ میں ہاتھ نہیں ملاتے، سابق کرکٹرز لیجنڈ لیگ کا میچ نہیں کھیلتے اور اب ہم سے کہہ رہے ہیں کہ کیوں نہیں کھیل رہے؟
سب سے بڑا لطیفہ تو انڈیا کا کھیل میں سیاست کو نہ لانے کا کہنا ہے، یہ لوگ تو کہہ رہے تھے کہ صرف سلیکٹڈ میچز کھیلنے نہیں دیں گے لیکن پاکستان تو فیصلے پر قائم ہے اور ورلڈکپ کا پہلا میچ بھی کھیل لیا، بات یہی ہے کہ جب آپ حق پر ہوں تو ڈرنا نہیں چاہیے دوسرے آپ سے ڈرتے ہیں.
انڈینز تو کہتے تھے کہ پاکستان کچھ نہیں کرے گا،آپ کو جب کوئی فرق نہیں پڑتا تو کیوں ٹی وی چینلز اورسوشل میڈیا پر شور مچایا ہوا ہے، اب کیا ہو گیا؟
آئی سی سی اب بیک ڈور چینلز سے مسئلہ حل کرنے کی کوشش کر رہی ہے، اسے اعتماد کی بحالی کیلیے سب سے پہلے اعلان کرنا چاہیے کہ بنگلہ دیش کو ٹورنامنٹ میں عدم شرکت کے باوجود ورلڈکپ کی آمدنی کا پورا شیئر دیا جائے گا.
پلیئرز کو بھی زرتلافی دیں کیونکہ انھوں نے تو صرف اپنی حکومت کا حکم مانا ہے،پاکستان کا شیئر بھی بڑھائیں، پی سی بی کو اب سوچ سمجھ کر آگے قدم اٹھانے چاہیئں، انڈیا پر بھروسہ نہ کریں 15 فروری کے بعد ان کی ٹون پھر بدل جائے گی.
وعدے تو سابق چیئرمین نجم سیٹھی کے ساتھ بھی کیے کیے گئے تھے مگر بگ تھری پر ووٹ لینے کے بعد سب بھلا دیے گئے، اب بھی ایسا کچھ کہا گیا تو اسے سچ نہ مان لے گا،آج اگر ہم اکیلے ہیں تو کوئی غم نہیں کل جب انگلینڈ، آسٹریلیا و دیگر بورڈز کو بھی انڈیا آنکھیں دکھائے گا تب ان کو حقیقت کا احساس ہو گا، شاید تب ہی کرکٹ کا ورلڈ آرڈر تبدیل ہو تب تک اپنی لڑائی اکیلے ہی لڑنا ہوگی۔
(نوٹ: آپ ٹویٹر پر مجھے @saleemkhaliq پر فالو کر سکتے ہیں)