پراکسی جنگ، فنڈنگ اور عالمی خاموشی
وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے کہا ہے کہ اسلام آباد امام بارگاہ میں خودکش حملے کی منصوبہ بندی افغانستان میں ہوئی اور حملے کا ماسٹر مائنڈ ہماری حراست میں ہے، انھوں نے پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ داعش کی ساری فنڈنگ بھارت کر رہا ہے، میں دعویٰ کر رہا ہوں کہ ایک دن دنیا کا ہر ملک بولے گا کہ ان کو کون اسپانسر کر رہا ہے۔
پاکستان ایک بار پھر دہشت گردی کی اس لہر کا سامنا کر رہا ہے جس کے اثرات صرف کسی ایک واقعے یا ایک شہر تک محدود نہیں بلکہ پورے معاشرے کو ذہنی، سماجی اور نفسیاتی طور پر جھنجھوڑ دیتے ہیں۔ اسلام آباد کی امام بارگاہ میں ہونے والا خودکش حملہ محض ایک دہشت ناک سانحہ نہیں بلکہ ایک بڑے، منظم اور خطرناک منصوبے کی کڑی ہے، جس کے تانے بانے سرحدوں سے ماورا جا کر جڑتے ہیں۔
یہ واقعہ اس تلخ حقیقت کو ایک بار پھر سامنے لے آیا ہے کہ پاکستان میں دہشت گردی کا مسئلہ اب کسی وقتی ابال یا داخلی بدامنی کا نتیجہ نہیں رہا بلکہ یہ ایک مسلسل جنگ ہے جس میں بیرونی سرپرستی، مقامی سہولت کاری، مالی معاونت اور عالمی بے حسی سب شامل ہیں۔
وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی کی جانب سے سامنے آنے والی تفصیلات نے کئی ابہامات دورکیے ہیں اور ساتھ ہی کئی سنجیدہ سوالات کو جنم دیا ہے۔ ان کا یہ کہنا کہ حملے کی منصوبہ بندی افغانستان میں ہوئی، حملہ آورکی تربیت وہیں کی گئی اور اس پورے نیٹ ورک کا ماسٹر مائنڈ گرفتار ہو چکا ہے، اس بات کی تصدیق کرتا ہے کہ افغانستان کی سرزمین ایک بار پھر پاکستان کے خلاف استعمال ہو رہی ہے۔
یہ حقیقت اس وقت مزید تشویشناک ہو جاتی ہے جب اس کے ساتھ مقامی سہولت کاروں کی گرفتاری اور ان کے کردار کا انکشاف سامنے آتا ہے۔ دہشت گردی صرف بارود اور خودکش جیکٹ کا نام نہیں، یہ معلومات، رہائش، نقل و حرکت، مالی معاونت اور خاموش تعاون کے بغیر ممکن ہی نہیں ہوتی اور یہی وہ مقامی سہولت کاری ہے جو ریاست کے لیے سب سے بڑا چیلنج بن چکی ہے۔
مقامی سہولت کار دراصل دشمن کی وہ آنکھیں اورکان ہوتے ہیں جو اندر سے نظام کو کھوکھلا کرتے ہیں۔ یہ افراد اکثر نظریاتی شدت پسندی سے زیادہ مالی مفادات کے اسیر ہوتے ہیں۔
وزیر داخلہ کے مطابق گرفتار ہونے والے افراد پیسوں کے لیے کام کر رہے تھے، جو اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ دہشت گردی اب ایک منافع بخش کاروبارکی صورت اختیارکرچکی ہے۔ جب ریاست کے اندر موجود لوگ چند ڈالروں کے عوض اپنے ہی ملک، اپنے ہی ہم وطنوں اور اپنے ہی مستقبل کے خلاف کھڑے ہوجائیں تو یہ محض سیکیورٹی مسئلہ نہیں رہتا بلکہ ایک گہرا سماجی بحران بن جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ کمیونٹی انٹیلی جنس کی ضرورت پر زور دینا وقت کی اہم ترین ضرورت ہے، کیونکہ جب تک معاشرہ خود چوکس نہ ہو، اس جنگ کو مکمل طور پر نہیں جیتا جا سکتا۔
اس پورے منظر نامے میں سب سے خطرناک پہلو وہ ہے جس کی طرف وزیر داخلہ نے واضح اور غیر مبہم انداز میں اشارہ کیا۔ دہشت گرد تنظیموں کی مالی سرپرستی اور فنڈنگ۔ ان کے مطابق داعش اور دیگر شدت پسند گروہوں کی فنڈنگ بھارت کی جانب سے کی جا رہی ہے، انھیں اہداف فراہم کیے جاتے ہیں، ڈالرز میں رقوم دی جاتی ہیں اور ان کے بجٹ میں نمایاں اضافہ کیا گیا ہے۔
یہ دعویٰ کسی جذباتی رد عمل کا نتیجہ نہیں بلکہ زمینی حقائق، انٹیلی جنس معلومات اور واقعات کے تسلسل سے جڑا ہوا دکھائی دیتا ہے۔ دہشت گردی کے لیے وسائل درکار ہوتے ہیں اور جب کسی تنظیم کے بجٹ میں تین گنا اضافہ ہو جائے تو یہ سوال ناگزیر ہو جاتا ہے کہ یہ پیسہ کہاں سے آ رہا ہے اورکیوں آ رہا ہے۔
بلوچستان میں بی ایل اے کی سرگرمیاں اس گٹھ جوڑ کی ایک واضح مثال ہیں۔ حملوں سے قبل ویڈیوز جاری ہونا، بعد ازاں ان کا بھارتی میڈیا پر نمایاں طور پر چلایا جانا اور پھر ایک مخصوص بیانیے کے تحت پاکستان کو ایک ناکام ریاست کے طور پر پیش کرنا، یہ سب کسی اتفاق کا نتیجہ نہیں ہو سکتا۔ یہ ایک منظم انفارمیشن وار کا حصہ ہے جس کا مقصد نہ صرف پاکستان کو داخلی طور پر کمزور دکھانا ہے بلکہ عالمی رائے عامہ کو بھی گمراہ کرنا ہے۔ دہشت گرد تنظیمیں محض بندوق سے نہیں لڑتیں، وہ میڈیا، پروپیگنڈا اور نفسیاتی دباؤکو بھی ہتھیارکے طور پر استعمال کرتی ہیں اور اس میدان میں بھارتی ریاستی اور غیر ریاستی عناصرکا کردار اب پوشیدہ نہیں رہا۔
یہاں یہ بات بھی قابل غور ہے کہ بھارت کی جانب سے پاکستان کے خلاف اس مسلسل دشمنی اور تصادم کی پالیسی پر خود بھارت کے اندر سے سوالات اٹھنے لگے ہیں۔ بھارتی رکن پارلیمنٹ ششی تھرورکا کالم اس حوالے سے ایک اہم پیش رفت ہے، جس میں انھوں نے پاکستان کو مستقل دشمن بنا کر رکھنے کی حکمت عملی کو ناکام قرار دیا ہے۔
ان کا یہ کہنا کہ اس پالیسی سے نہ تو بھارت کو کوئی سفارتی فائدہ ہوا اور نہ ہی خطے میں امن قائم ہو سکا، اس بات کی علامت ہے کہ بھارتی سیاست میں بھی اب ایک سنجیدہ طبقہ اس سوچ سے باہر نکلنے کی کوشش کر رہا ہے۔ یہ حقیقت اس بیانیے کو مزید تقویت دیتی ہے کہ مسئلہ پاکستان کی پالیسی نہیں بلکہ بھارت کی ضد اور داخلی سیاست میں استعمال ہونے والا نفرت پر مبنی بیانیہ ہے۔ ششی تھرور کا یہ مؤقف کہ پاکستان سے مذاکرات کو شکست سمجھنا ایک غلط سوچ ہے، جنوبی ایشیا کے تناظر میں نہایت اہم ہے۔
ایک ایسا خطہ جہاں دو ایٹمی طاقتیں آمنے سامنے ہوں، وہاں مستقل محاذ آرائی کسی بڑے المیے کا پیش خیمہ بن سکتی ہے۔ پاکستان کو عالمی سطح پر الگ تھلگ کرنے کی بھارتی کوششوں کا ناکام ہونا بھی اس بات کا ثبوت ہے کہ دنیا اب یکطرفہ بیانیے کو آنکھ بند کر کے قبول کرنے کو تیار نہیں۔ تاہم اس کے باوجود، دہشت گردی کے معاملے پر عالمی برادری کی خاموشی اور دہرا معیار ایک تلخ حقیقت ہے جسے نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔
عالمی طاقتیں اکثر دہشت گردی کے خلاف جنگ کی بات کرتی ہیں، لیکن جب بات بھارت جیسے ملک کی آتی ہے تو یہ جنگ اصولوں کے بجائے مفادات کے تابع ہو جاتی ہے۔ اگر واقعی دنیا امن کی خواہاں ہے تو اسے یہ تسلیم کرنا ہو گا کہ بھارت کی جانب سے پراکسیز کے ذریعے خطے کو غیر مستحکم کرنا نہ صرف پاکستان بلکہ پورے جنوبی ایشیا کے لیے خطرناک ہے۔ دہشت گردی کسی ایک ملک کا مسئلہ نہیں رہتی، یہ سرحدیں عبور کرتی ہے، معیشتوں کو نقصان پہنچاتی ہے اور آخرکار عالمی امن کو متاثر کرتی ہے۔ اس لیے دنیا کے طاقتور ممالک پر یہ ذمے داری عائد ہوتی ہے کہ وہ بھارت کو اس روش سے باز رکھنے کے لیے عملی اور ٹھوس اقدامات کریں، نہ کہ محض رسمی بیانات پر اکتفا کریں۔پاکستان نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں ناقابل تردید قربانیاں دی ہیں۔
ہزاروں شہری اور سیکیورٹی اہلکار شہید ہوئے، معیشت کو اربوں ڈالر کا نقصان پہنچا، اور سماجی ڈھانچے کوگہرے زخم آئے۔ اس کے باوجود ریاست نے نہ صرف اپنی بقا کو یقینی بنایا بلکہ دہشت گرد تنظیموں کی کمر بھی توڑی۔ آج بھی جب کوئی واقعہ پیش آتا ہے تو فوری کارروائیاں، نیٹ ورکس کی گرفتاری اور ماسٹر مائنڈزکا پکڑا جانا اس بات کا ثبوت ہے کہ ادارے چوکس اور فعال ہیں۔ وزیر داخلہ کا یہ کہنا کہ اگر ایک دھماکا ہوتا ہے تو ننانوے روکے جا رہے ہوتے ہیں، ایک ایسی حقیقت ہے جو اکثر خبروں کی زینت نہیں بنتی، مگر اسی میں ریاستی صلاحیتوں کی اصل کہانی پوشیدہ ہے۔
تاہم یہ بھی حقیقت ہے کہ پاکستان کو اپنی داخلی کمزوریوں کا ادراک کرنا ہو گا۔ سیکیورٹی نظام کو اپ گریڈ کرنا، انٹیلی جنس اداروں کے درمیان مزید بہتر رابطہ قائم کرنا اور سب سے بڑھ کر معاشرتی سطح پر انتہا پسندی کے خلاف فکری مزاحمت کو مضبوط بنانا ناگزیر ہے۔ دہشت گردی صرف بندوق سے نہیں مٹتی، اس کے لیے تعلیم، معاشی مواقع، سماجی انصاف اور قانون کی بالادستی بھی ضروری ہے۔ جب تک ایسے حالات موجود رہیں گے جہاں لوگ آسانی سے پیسے کے عوض دشمن کے ہاتھوں استعمال ہو جائیں، خطرہ مکمل طور پر ختم نہیں ہو گا۔اس ساری صورتحال میں عوام کا کردار سب سے اہم ہے۔ یہ جنگ کسی ایک فرقے، صوبے یا ادارے کی نہیں بلکہ پورے پاکستان کی جنگ ہے۔
جب وزیر داخلہ یہ کہتے ہیں کہ جنگ میں کیٹگری نہیں بنتی، تو وہ اسی اجتماعی شعورکی طرف اشارہ کر رہے ہوتے ہیں جس کے بغیر کامیابی ممکن نہیں۔ دشمن کا مقصد پاکستان کو تقسیم کرنا، خوفزدہ کرنا اورکمزور دکھانا ہے، اور اس کا جواب صرف قومی یکجہتی، ہوش مندی اور مستقل مزاحمت ہو سکتا ہے۔آخرکار، پاکستان کو ایک طرف اپنی داخلی صفوں کو مزید مضبوط کرنا ہو گا اور دوسری طرف عالمی سطح پر ایک مربوط، مدلل اور مسلسل سفارتی مہم کے ذریعے بھارت کی سرپرستی میں ہونے والی دہشت گردی کو بے نقاب کرنا ہو گا۔ اگر عالمی برادری واقعی امن کی خواہاں ہے تو اسے اس خطے میں اصل آگ لگانے والوں کو روکنا ہو گا، کیونکہ دہشت گردی کی یہ آگ کسی ایک ملک تک محدود نہیں رہتی اور اگر اسے روکا نہ گیا تو اس کی لپیٹ میں بالآخر سب ہی آ سکتے ہیں۔