معاشی آزادی، اصلاحات اور زمینی حقائق میں تضاد برقرار
ہیریٹیج فاؤنڈیشن کے انڈیکس آف اکنامک فریڈم میں پاکستان کو 2025 کی رپورٹ میں “دباؤ کا شکار معیشت” قراردیاگیا تھا، جہاں ملک 184 ممالک میں 150ویں نمبر پر رہااور اسے 100 میں سے 49.1 پوائنٹس ملے۔
یہ انڈیکس معاشی آزادی کے 12 پیمانوں پر ممالک کی درجہ بندی کرتاہے،جن میں جائیدادکے حقوق، ٹیکس بوجھ، حکومتی اخراجات،کاروباری آزادی،محنت کی آزادی اور مالیاتی استحکام شامل ہیں۔
رپورٹ کے مطابق حکومت نے معاشی اصلاحات کیلیے سنجیدہ اقدامات نہیں کیے،جبکہ عدلیہ میں سیاسی مداخلت اور بدعنوانی نے جائیدادکے حقوق کوکمزورکیا۔ لیبر مارکیٹ جمودکاشکار رہی اور مہنگائی نے مالیاتی استحکام کومتاثرکیا.
2025 کی رپورٹ کیلیے ڈیٹا جون 2024 تک شامل کیا گیا تھا، اس لیے اس وقت مہنگائی اورڈیفالٹ سے بچاؤ پرتوجہ کوبھی مدنظررکھا جانا چاہیے، تاہم انڈیکس کے بعض پہلو زمینی حقائق کی درست عکاسی نہیں کرتے۔
مثال کے طور پر، حکومتی اخراجات 88.9 فیصد اور ٹیکس بوجھ 78.3 فیصد میں پاکستان کو غیر معمولی طور پر بہتر اسکور دیا گیا،حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ کل اخراجات کا تقریباً 70 فیصد سود اوردفاع پر خرچ ہو جاتا ہے،جبکہ ٹیکس دینے والوں پر بوجھ انتہائی زیادہ ہے۔
2026 کی پہلی سہ ماہی میں صورتحال ملی جلی دکھائی دیتی ہے،ایک طرف مہنگائی کم ہوکر تقریباً 5 فیصد تک آچکی ہے، پی آئی اے کی نجکاری، تجارتی ٹیرف میں اصلاحات اورریگولیٹری گلوٹین جیسے اقدامات سے اصلاحات کے عزم کااظہار ہوتاہے۔
دوسری طرف، انفرادی آمدنی پر ٹاپ ٹیکس کی شرح 45 فیصد تک بڑھ چکی ہے،جبکہ سپر ٹیکس کوعدالتی تحفظ ملنے سے بڑی کمپنیوں پر مؤثر ٹیکس بوجھ 50 فیصدسے تجاوزکرگیاہے۔
عدلیہ میں بڑھتی سیاسی مداخلت،جیساکہ آئی ایم ایف کی حالیہ ڈائگناسٹک رپورٹ میں بھی نشاندہی کی گئی،سرمایہ کاروں کے اعتماد کو متاثرکر رہی ہے۔
نجی شعبے کی نئی سرمایہ کاری میں خاطر خواہ اضافہ نہیں ہوسکا،جبکہ 2025 کے آخری چھ ماہ میں برآمدات بھی گزشتہ سال کے مقابلے میں کم رہیں، مجموعی طور پر، ادارہ جاتی نقطہ نظر سے پاکستان کی معاشی آزادی کامنظرنامہ متضاد ہے۔
اگر اصلاحات کی گئیں تو اسکور میں بہتری ممکن ہے،مگر بے روزگاری، غیر رسمی معیشت، عدالتی کمزوریاں اور سرمایہ کاری میں جمودجیسے عوامل بہتری کومحدودکرسکتے ہیں۔