ای سی سی نے 500کے وی ڈبل سرکٹ ٹرانسمیشن کیلئے’’ساورن گارنٹی‘‘ کی منظوری دے دی
ای سی سی نے قطر سے ایل این جی کی خریداری کیلیے قیمتوں کا تعین کرنیوالی 9 رکنی کمیٹی کی بھی منظوری دیدی
فرٹیلائزر کمپنیوں کو مناسب گیس کی فراہمی یقینی بنانی چاہیے تاکہ وہ مقامی سطح پر زیادہ سے زیادہ پیداوار کر سکیں، یوٹیلٹی اسٹورزکارپوریشن کو رمضان پیکیج کے 2 ارب کی سبسڈی کی مد میں رقم جلد جاری کر دی جائیگی، اسحاق ڈار فوٹو: آئی این پی/فائل
KARACHI:
اقتصادی رابطہ کمیٹی نے نیلم جہلم ہائیڈرو پاور پلانٹ سے گوجرانوالہ تک500 کے وی ڈبل سرکٹ ٹرانسمیشن لائن بچھانے کیلیے مقامی بینکوں سے17 ارب روپے کی مالی سہولت کیلیے ''ساورن گارنٹی'' کی اصولی منظوری دیدی جبکہ قطر سے ایل این جی کی درآمد کیلیے سمری قیمتوں کے تعین کیلیے بات چیت کرنیوالی 9 رکنی کمیٹی میں سے سیکریٹری قانون کو نکالنے کے بعد منظوری دے دی ہے۔
کمیٹی کا اجلاس جمعے کو وزیر خزانہ سینیٹر اسحاق ڈارکی زیر صدارت وزیراعظم آفس میں منعقد ہوا۔ وزارت پٹرولیم کی جانب سے پاکستان پٹرولیم لمیٹڈ کو50 میگاواٹ کے پاور پلانٹ کے قیام کیلیے سیکریٹری پٹرولیم کو ہدایت کی گئی کہ وہ پی پی آئی بی، وزارت پانی و بجلی، نیپرا اور وزارت قانون کو اعتماد میں لیں اور آئندہ اجلاس میں ان کا فیڈ بیک پیش کریں ۔ وزیر خزانہ کو بتایا گیا کہ آٹو انڈسٹری پالیسی پر وزیر پانی و بجلی خواجہ آصف کی سربراہی میں قائم کمیٹی نے ایک مسودہ تیار کرلیا ہے جسے آئندہ اجلاس میں منظوری کیلیے پیش کیا جائے گا۔ یوریا کی درآمد کے حوالے سے وزیر خزانہ نے کمیٹی کو بتایا کہ فرٹیلائزر کمپنیوں کو مناسب گیس کی فراہمی یقینی بنانی چاہیے ۔
وزیر خزانہ نے بتایا کہ یوٹیلٹی اسٹورز کارپوریشن کو رمضان پیکیج 2014 کے 2 ارب روپے کی سبسڈی کی مد میں رقم جلد جاری کر دی جائیگی۔ اقتصادی رابطہ کمیٹی کو بتایا گیا کہ وزارت فوڈ سیکیورٹی و ریسرچ نے 25 ہزار میٹرک ٹن گندم ورلڈ فوڈ پروگرام اور پاسکوکو فاٹا اور پختونخوا میں نقل مکانی کرنے والوں کیلیے فراہم کر دی ہے جبکہ وزارت کو80 کروڑ روپے اس کی خریداری کیلئے بھی دے دیے گئے ہیں۔ اجلاس کے دوران قطر سے ایل این جی کی خریداری کیلئے قیمتوں کے تعین کیلئے 9 رکنی کمیٹی کی بھی منظوری دی گئی ۔
جس کا چیئرمین سیکریٹری وزارت پٹرولیم و قدرتی وسائل ہوگا۔ اجلاس کے دوران نیلم جہلم منصوبے کیلئے 500 کے وی ڈبل سرکٹ ٹرانسمیشن لائن کیلئے قرض کے حصول کی شرائط و ضوابط کی بھی منظوری دی گئی۔ 969 میگاواٹ کے حامل نیلم جہلم ہائیڈرو پاور پروجیکٹ کا پہلا یونٹ دسمبر 2015 میں کام شروع کر دیگا۔ دریں اثنا اسحاق ڈار نے بجلی چوری اور لائن لاسز میں کمی کے منصوبے کی منظوری دیدی ہے۔ یہ منظوری انھوں نے گذشتہ روز وزیراعظم کی قائم کردہ خصوصی کمیٹی برائے توانائی کے اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے دی۔ ڈار نے کہا کہ عوام کو سستی بجلی فراہم کرنے کیلئے حکومت سبسڈی کی رقوم بروقت ادا کررہی ہے۔
اقتصادی رابطہ کمیٹی نے نیلم جہلم ہائیڈرو پاور پلانٹ سے گوجرانوالہ تک500 کے وی ڈبل سرکٹ ٹرانسمیشن لائن بچھانے کیلیے مقامی بینکوں سے17 ارب روپے کی مالی سہولت کیلیے ''ساورن گارنٹی'' کی اصولی منظوری دیدی جبکہ قطر سے ایل این جی کی درآمد کیلیے سمری قیمتوں کے تعین کیلیے بات چیت کرنیوالی 9 رکنی کمیٹی میں سے سیکریٹری قانون کو نکالنے کے بعد منظوری دے دی ہے۔
کمیٹی کا اجلاس جمعے کو وزیر خزانہ سینیٹر اسحاق ڈارکی زیر صدارت وزیراعظم آفس میں منعقد ہوا۔ وزارت پٹرولیم کی جانب سے پاکستان پٹرولیم لمیٹڈ کو50 میگاواٹ کے پاور پلانٹ کے قیام کیلیے سیکریٹری پٹرولیم کو ہدایت کی گئی کہ وہ پی پی آئی بی، وزارت پانی و بجلی، نیپرا اور وزارت قانون کو اعتماد میں لیں اور آئندہ اجلاس میں ان کا فیڈ بیک پیش کریں ۔ وزیر خزانہ کو بتایا گیا کہ آٹو انڈسٹری پالیسی پر وزیر پانی و بجلی خواجہ آصف کی سربراہی میں قائم کمیٹی نے ایک مسودہ تیار کرلیا ہے جسے آئندہ اجلاس میں منظوری کیلیے پیش کیا جائے گا۔ یوریا کی درآمد کے حوالے سے وزیر خزانہ نے کمیٹی کو بتایا کہ فرٹیلائزر کمپنیوں کو مناسب گیس کی فراہمی یقینی بنانی چاہیے ۔
وزیر خزانہ نے بتایا کہ یوٹیلٹی اسٹورز کارپوریشن کو رمضان پیکیج 2014 کے 2 ارب روپے کی سبسڈی کی مد میں رقم جلد جاری کر دی جائیگی۔ اقتصادی رابطہ کمیٹی کو بتایا گیا کہ وزارت فوڈ سیکیورٹی و ریسرچ نے 25 ہزار میٹرک ٹن گندم ورلڈ فوڈ پروگرام اور پاسکوکو فاٹا اور پختونخوا میں نقل مکانی کرنے والوں کیلیے فراہم کر دی ہے جبکہ وزارت کو80 کروڑ روپے اس کی خریداری کیلئے بھی دے دیے گئے ہیں۔ اجلاس کے دوران قطر سے ایل این جی کی خریداری کیلئے قیمتوں کے تعین کیلئے 9 رکنی کمیٹی کی بھی منظوری دی گئی ۔
جس کا چیئرمین سیکریٹری وزارت پٹرولیم و قدرتی وسائل ہوگا۔ اجلاس کے دوران نیلم جہلم منصوبے کیلئے 500 کے وی ڈبل سرکٹ ٹرانسمیشن لائن کیلئے قرض کے حصول کی شرائط و ضوابط کی بھی منظوری دی گئی۔ 969 میگاواٹ کے حامل نیلم جہلم ہائیڈرو پاور پروجیکٹ کا پہلا یونٹ دسمبر 2015 میں کام شروع کر دیگا۔ دریں اثنا اسحاق ڈار نے بجلی چوری اور لائن لاسز میں کمی کے منصوبے کی منظوری دیدی ہے۔ یہ منظوری انھوں نے گذشتہ روز وزیراعظم کی قائم کردہ خصوصی کمیٹی برائے توانائی کے اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے دی۔ ڈار نے کہا کہ عوام کو سستی بجلی فراہم کرنے کیلئے حکومت سبسڈی کی رقوم بروقت ادا کررہی ہے۔