شام کا بحران او ر اسلامی ممالک کی تنظیم
سرکاری فوج مخالفین کو کچلنے کے لیے فضائیہ کا استعمال کر رہی ہے جس سے ہلاکتوں میں مزید اضافہ ہو رہا ہے۔
تیونس اور مصر سے شروع ہونے والے عوامی انقلاب کے اثرات شام پہنچے تو وہاں بھی عوام سڑکوں پر نکل آئے اور شامی حکومت کے خلاف مظاہرے شروع کر دیے۔ فوٹو: اے ایف پی
PESHAWAR:
شام کا بحران روز بروز سنگین صورتحال اختیار کرتا جا رہا ہے۔
اتوار کو سرکاری فوج اور مخالف گروپ فری سیریئین آرمی کے درمیان شدید لڑائی میں کم از کم 40 افراد ہلاک ہو گئے۔
تیونس اور مصر سے شروع ہونے والے عوامی انقلاب کے اثرات شام پہنچے تو وہاں بھی عوام سڑکوں پر نکل آئے اور شامی حکومت کے خلاف مظاہرے شروع کر دیے۔
ان مظاہروں کا آغاز 13 مارچ 2011ء کو ہوا۔ مظاہرین نے ملک پر 50 سال سے برسراقتدار بعث پارٹی کی حکومت کے خاتمے اور بشار الاسد سے اقتدار چھوڑنے اور جمہوریت نافذ کرنے کا مطالبہ کیا۔
جب مظاہروں نے زور پکڑا تو اپریل 2011ء میں حکومت نے مظاہرین کو دبانے کے لیے فوج بھیج دی اور اسے گولی چلانے کا اختیار دے دیا۔سرکاری فوج کی بندوق سے گولی نکلی تو شہریوں کی لاشیں گرنے لگیں۔
اپنے ساتھیوں کو مرتا دیکھ کر مظاہرین دبنے کے بجائے مزید مشتعل ہو گئے ، انھوں نے بھی ہتھیار اٹھا لیے اور ملک میں خانہ جنگی شروع ہو گئی۔
جس میں کمی آنے کے بجائے روز بروز اضافہ ہوتا چلا گیا۔اب تک اس لڑائی میں دونوں فریقین کے ہزاروں افراد ہلاک و زخمی ہو چکے ہیں۔ شام مغربی ایشیا کا ایک خوبصورت ملک ہے جس کے مغرب میں لبنان اور بحیرہ روم' شمال میں ترکی' مشرق میں عراق' جنوب میں اردن اور جنوب مغرب میں اسرائیل واقع ہے۔
اس وقت صورتحال یہ ہے کہ یہ پرامن ملک مکمل طور پر خانہ جنگی کی لپیٹ میں آ چکا ہے۔ سرکاری فوج اور مخالف گروپ فری سیریئین آرمی کے درمیان شدید لڑائی ہو رہی ہے۔ دونوں طرف سے بھاری ہتھیار استعمال کیے جا رہے ہیں۔
سرکاری فوج مخالفین کو کچلنے کے لیے فضائیہ کا استعمال کر رہی ہے جس سے ہلاکتوں میں مزید اضافہ ہو رہا ہے۔ جن علاقوں میں خانہ جنگی جاری ہے' وہاں صورتحال دگرگوں ہے۔ لاکھوں شہری بے گھر ہوچکے ہیں۔ انھیں خوراک اور ادویات کی کمی کا شدید سامنا ہے۔موت کا خوف ہر وقت انھیں گھیرے رکھتا ہے۔
ہزاروں افراد خانہ جنگی سے تنگ آ کر امن کی تلاش میں ہمسایہ ممالک کی جانب فرار ہو رہے ہیں۔ بہت سے لوگ کشتیوں کے راستے ترکی کا رخ کررہے ہیں، اطلاعات کے مطابق کچھ لوگ راستے میں ڈوب کر ہلاک ہو چکے ہیں۔
فری سیریئین آرمی کا دعویٰ ہے کہ ملک کے 80 فیصد علاقے حکومت کے کنٹرول سے نکل کر ان کے قبضے میں آ چکے ہیں۔ سرکاری فوج کے لیے سوائے دمشق کے تمام علاقوں میں زمین تنگ ہو چکی ہے۔ عراقی سرحد کے قریب ابو کمال کے فوجی اہمیت کے قصبے میں شدید لڑائی ہو رہی ہے۔
مبصرین کے مطابق اگر یہ سرکاری فوج کے ہاتھ سے نکل جاتا ہے تو اس کے لیے یہ بڑا نقصان ہو گا۔ دوسری جانب سرکاری ٹی وی دعویٰ کر رہا ہے کہ فوج نے حلب میں سو افغان جنگجوئوں کو ہلاک کر دیا ہے ان کے قبضے سے اسرائیلی ساختہ اسلحہ ملا ہے۔ یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ عراق' یمن اور افغانستان سے آئے ہوئے جنگجو مخالف گروپ کے ساتھ مل کر سرکاری فوج کے خلاف لڑ رہے ہیں۔
مخالفین کی بڑھتی ہوئی قوت اور پیشرفت کے باعث سرکاری فوج کو بہت زیادہ مشکل صورتحال کا سامنا ہے۔ بہت سے سرکاری فوجی منحرف ہو کر مخالف گروپ سے جا ملے ہیں اور حکومت کے خلاف لڑائی میں حصہ لے رہے ہیں۔ اس وقت شام کے تمام بڑے شہروں میں شدید لڑائی جاری ہے جس سے وہاں جا بجا تباہی کے آثار دکھائی دے رہے ہیں۔
صدر بشار الاسد کو موجودہ بگڑتی صورت حال کا ادراک کرتے ہوئے اقتدار سے الگ ہوجانا چاہیے۔ جب وہ دیکھ رہے ہیں کہ آہستہ آہستہ تمام علاقے ان کے ہاتھ سے نکل رہے ہیں اور سرکاری فوجیوں کی ایک بڑی تعداد منحرف ہو کر مخالف گروپ میں شامل ہو رہی ہے تو انھیں فوری طور پر حکومت چھوڑ دینا چاہیے تاکہ ملک میں جاری خانہ جنگی کا خاتمہ ہو سکے۔
انھیں لیبیا کے معمر قذافی کے انجام کو بھی سامنے رکھنا چاہیے جو خانہ جنگی کے باعث بالآخر جان سے ہاتھ دھو بیٹھے۔ صدر بشار الاسد بارہا یہ الزام لگا چکے ہیں کہ امریکا اور دیگر غیر ملکی قوتیں ان کے خلاف سازش کر رہی ہیں۔
جب بشار الاسد کو یہ معلوم ہو چکا ہے کہ بڑی طاقتیں شام کے حالات بگاڑنے میں شریک ہیں اور حکومت ان کے سامنے بے بس ہوتی جا رہی ہے تو ایسے میں اقتدار سے چمٹے رہنے کی ان کی ضد سے خون خرابے میں مزید اضافہ ہو گا جس کا خمیازہ بے گناہ شہریوں کی ایک بڑی تعداد کو بھگتنا پڑے گا۔
فری سیریئین آرمی کے کرنل عبدالوہاب اپنی کامیابی کے بارے میں بہت پر امید ہیں،ان کا کہنا ہے کہ انھیں باہر سے اینٹی ٹینک میزائل اور طیارہ شکن گنیں مل جائیں تو بہت جلد وہ جنگ کا رخ بدل سکتے ہیں۔ کرنل عبدالوہاب کے اس بیان سے شامی صدر بشارالاسد کے اس الزام کو تقویت ملتی ہے کہ بیرونی قوتیں مخالف گروپ کی پشت پناہی کر رہی ہیں۔
شام میں ہونے والی لڑائی نے اس کے ہمسایہ ممالک کو بھی تشویش میں مبتلا کر دیا ہے۔ اس وقت ترکی نے کسی قسم کی گڑ بڑ سے نمٹنے کے لیے شامی سرحد کے قریب بھاری ہتھیار نصب کر دیے ہیں۔ اقوام متحدہ میں بھی شام کی صورتحال پر کئی بار آواز اٹھائی گئی ہے مگر وہ شام کے بگڑتے حالات کے سدھار کے لیے ابھی تک کوئی موثر کردار ادا نہیں کر سکی ہے۔ او آئی سی بھی خاموش تماشائی کا کردار ادا کر رہی ہے۔
شام کے مسئلے کے حل کے لیے اقوام متحدہ اور او آئی سی بیانات سے آگے بڑھ کر اپنا عملی کردار ادا کریں تاکہ وہاں جاری خانہ جنگی کا خاتمہ ہو اور شام پھر سے ایک پر امن ملک بن جائے۔
شام کا بحران روز بروز سنگین صورتحال اختیار کرتا جا رہا ہے۔
اتوار کو سرکاری فوج اور مخالف گروپ فری سیریئین آرمی کے درمیان شدید لڑائی میں کم از کم 40 افراد ہلاک ہو گئے۔
تیونس اور مصر سے شروع ہونے والے عوامی انقلاب کے اثرات شام پہنچے تو وہاں بھی عوام سڑکوں پر نکل آئے اور شامی حکومت کے خلاف مظاہرے شروع کر دیے۔
ان مظاہروں کا آغاز 13 مارچ 2011ء کو ہوا۔ مظاہرین نے ملک پر 50 سال سے برسراقتدار بعث پارٹی کی حکومت کے خاتمے اور بشار الاسد سے اقتدار چھوڑنے اور جمہوریت نافذ کرنے کا مطالبہ کیا۔
جب مظاہروں نے زور پکڑا تو اپریل 2011ء میں حکومت نے مظاہرین کو دبانے کے لیے فوج بھیج دی اور اسے گولی چلانے کا اختیار دے دیا۔سرکاری فوج کی بندوق سے گولی نکلی تو شہریوں کی لاشیں گرنے لگیں۔
اپنے ساتھیوں کو مرتا دیکھ کر مظاہرین دبنے کے بجائے مزید مشتعل ہو گئے ، انھوں نے بھی ہتھیار اٹھا لیے اور ملک میں خانہ جنگی شروع ہو گئی۔
جس میں کمی آنے کے بجائے روز بروز اضافہ ہوتا چلا گیا۔اب تک اس لڑائی میں دونوں فریقین کے ہزاروں افراد ہلاک و زخمی ہو چکے ہیں۔ شام مغربی ایشیا کا ایک خوبصورت ملک ہے جس کے مغرب میں لبنان اور بحیرہ روم' شمال میں ترکی' مشرق میں عراق' جنوب میں اردن اور جنوب مغرب میں اسرائیل واقع ہے۔
اس وقت صورتحال یہ ہے کہ یہ پرامن ملک مکمل طور پر خانہ جنگی کی لپیٹ میں آ چکا ہے۔ سرکاری فوج اور مخالف گروپ فری سیریئین آرمی کے درمیان شدید لڑائی ہو رہی ہے۔ دونوں طرف سے بھاری ہتھیار استعمال کیے جا رہے ہیں۔
سرکاری فوج مخالفین کو کچلنے کے لیے فضائیہ کا استعمال کر رہی ہے جس سے ہلاکتوں میں مزید اضافہ ہو رہا ہے۔ جن علاقوں میں خانہ جنگی جاری ہے' وہاں صورتحال دگرگوں ہے۔ لاکھوں شہری بے گھر ہوچکے ہیں۔ انھیں خوراک اور ادویات کی کمی کا شدید سامنا ہے۔موت کا خوف ہر وقت انھیں گھیرے رکھتا ہے۔
ہزاروں افراد خانہ جنگی سے تنگ آ کر امن کی تلاش میں ہمسایہ ممالک کی جانب فرار ہو رہے ہیں۔ بہت سے لوگ کشتیوں کے راستے ترکی کا رخ کررہے ہیں، اطلاعات کے مطابق کچھ لوگ راستے میں ڈوب کر ہلاک ہو چکے ہیں۔
فری سیریئین آرمی کا دعویٰ ہے کہ ملک کے 80 فیصد علاقے حکومت کے کنٹرول سے نکل کر ان کے قبضے میں آ چکے ہیں۔ سرکاری فوج کے لیے سوائے دمشق کے تمام علاقوں میں زمین تنگ ہو چکی ہے۔ عراقی سرحد کے قریب ابو کمال کے فوجی اہمیت کے قصبے میں شدید لڑائی ہو رہی ہے۔
مبصرین کے مطابق اگر یہ سرکاری فوج کے ہاتھ سے نکل جاتا ہے تو اس کے لیے یہ بڑا نقصان ہو گا۔ دوسری جانب سرکاری ٹی وی دعویٰ کر رہا ہے کہ فوج نے حلب میں سو افغان جنگجوئوں کو ہلاک کر دیا ہے ان کے قبضے سے اسرائیلی ساختہ اسلحہ ملا ہے۔ یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ عراق' یمن اور افغانستان سے آئے ہوئے جنگجو مخالف گروپ کے ساتھ مل کر سرکاری فوج کے خلاف لڑ رہے ہیں۔
مخالفین کی بڑھتی ہوئی قوت اور پیشرفت کے باعث سرکاری فوج کو بہت زیادہ مشکل صورتحال کا سامنا ہے۔ بہت سے سرکاری فوجی منحرف ہو کر مخالف گروپ سے جا ملے ہیں اور حکومت کے خلاف لڑائی میں حصہ لے رہے ہیں۔ اس وقت شام کے تمام بڑے شہروں میں شدید لڑائی جاری ہے جس سے وہاں جا بجا تباہی کے آثار دکھائی دے رہے ہیں۔
صدر بشار الاسد کو موجودہ بگڑتی صورت حال کا ادراک کرتے ہوئے اقتدار سے الگ ہوجانا چاہیے۔ جب وہ دیکھ رہے ہیں کہ آہستہ آہستہ تمام علاقے ان کے ہاتھ سے نکل رہے ہیں اور سرکاری فوجیوں کی ایک بڑی تعداد منحرف ہو کر مخالف گروپ میں شامل ہو رہی ہے تو انھیں فوری طور پر حکومت چھوڑ دینا چاہیے تاکہ ملک میں جاری خانہ جنگی کا خاتمہ ہو سکے۔
انھیں لیبیا کے معمر قذافی کے انجام کو بھی سامنے رکھنا چاہیے جو خانہ جنگی کے باعث بالآخر جان سے ہاتھ دھو بیٹھے۔ صدر بشار الاسد بارہا یہ الزام لگا چکے ہیں کہ امریکا اور دیگر غیر ملکی قوتیں ان کے خلاف سازش کر رہی ہیں۔
جب بشار الاسد کو یہ معلوم ہو چکا ہے کہ بڑی طاقتیں شام کے حالات بگاڑنے میں شریک ہیں اور حکومت ان کے سامنے بے بس ہوتی جا رہی ہے تو ایسے میں اقتدار سے چمٹے رہنے کی ان کی ضد سے خون خرابے میں مزید اضافہ ہو گا جس کا خمیازہ بے گناہ شہریوں کی ایک بڑی تعداد کو بھگتنا پڑے گا۔
فری سیریئین آرمی کے کرنل عبدالوہاب اپنی کامیابی کے بارے میں بہت پر امید ہیں،ان کا کہنا ہے کہ انھیں باہر سے اینٹی ٹینک میزائل اور طیارہ شکن گنیں مل جائیں تو بہت جلد وہ جنگ کا رخ بدل سکتے ہیں۔ کرنل عبدالوہاب کے اس بیان سے شامی صدر بشارالاسد کے اس الزام کو تقویت ملتی ہے کہ بیرونی قوتیں مخالف گروپ کی پشت پناہی کر رہی ہیں۔
شام میں ہونے والی لڑائی نے اس کے ہمسایہ ممالک کو بھی تشویش میں مبتلا کر دیا ہے۔ اس وقت ترکی نے کسی قسم کی گڑ بڑ سے نمٹنے کے لیے شامی سرحد کے قریب بھاری ہتھیار نصب کر دیے ہیں۔ اقوام متحدہ میں بھی شام کی صورتحال پر کئی بار آواز اٹھائی گئی ہے مگر وہ شام کے بگڑتے حالات کے سدھار کے لیے ابھی تک کوئی موثر کردار ادا نہیں کر سکی ہے۔ او آئی سی بھی خاموش تماشائی کا کردار ادا کر رہی ہے۔
شام کے مسئلے کے حل کے لیے اقوام متحدہ اور او آئی سی بیانات سے آگے بڑھ کر اپنا عملی کردار ادا کریں تاکہ وہاں جاری خانہ جنگی کا خاتمہ ہو اور شام پھر سے ایک پر امن ملک بن جائے۔