انٹربینک مارکیٹ میں ڈالر کی نسبت روپیہ تگڑا

اس کے برعکس اوپن مارکیٹ میں ڈالر کی قدر مستحکم رہی

فوٹو: فائل

مختلف مثبت عوامل کے باعث نٹربینک مارکیٹ میں پیر کو مسلسل 96ویں دن بھی ڈالر کی نسبت روپیہ تگڑا رہا، تاہم اس کے برعکس اوپن مارکیٹ میں ڈالر کی قدر مستحکم رہی۔

آئی ایم ایف کی مقررہ 5شرائط میں سے 3 مالیاتی شرائط پوری ہونے سے 1ارب ڈالر کی اگلی قسط کی راہ ہموار ہونے، عالمی بینک کی سربراہ کا پاکستان کے لیے 20ارب ڈالر کے 10سالہ ترقیاتی پیکیج کی حمایت اور سعودی عرب کے ساتھ پاکستان کے مختلف شعبوں میں تعاون کی ڈیلز سے انٹربینک مارکیٹ میں پیر کو مسلسل 96ویں دن بھی ڈالر کی نسبت روپیہ تگڑا رہا تاہم اسکے برعکس اوپن مارکیٹ میں ڈالر کی قدر مستحکم رہی۔

معاشی استحکام کی جانب بامعنی پیشرفت، موثر مالیاتی انتظام، کلیدی اقتصادی شعبوں میں بتدریج بحالی جیسے عوامل کے باعث انٹربینک مارکیٹ میں کاروبار کے تمام دورانیئے میں ڈالر تنزلی سے دوچار رہا جس سے ایک موقع پر ڈالر کی قدر 25پیسے کی کمی سے 279روپے 46پیسے کی سطح پر آگئی تھی۔

لیکن سپلائی میں بہتری رونما ہوتے ہی درآمدی ضروریات کی طلب بڑھنے سے کاروبار کے اختتام پر ڈالر کی قدر ایک پیسے کی کمی سے 279روپے 70پیسے کی سطح پر بند ہوئی۔ جبکہ اسکے برعکس اوپن کرنسی مارکیٹ میں ڈالر کی قدر بغیر کسی تبدیلی کے 280 روپے 75پیسے کی سطح پر مستحکم رہی۔ میکرو اکنامک حالات مجموعی طور پر بہتر ہونے۔

 مالی سال 26ء اور 27ء کے بیشتر مدت میں مہنگائی کی شرح 5 تا 7فیصد کے مقررہ ہدف میں رہنے کی پیش گوئی، سال 26ء میں کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ جی ڈی پی کے تناسب سے صفر سے ایک فیصد کے درمیان رہنے کا امکان، سمندر پار مقیم پاکستانیوں کی مضبوط ترسیلاتِ زر اور جون 2026 تک زرِمبادلہ کے سرکاری ذخائر 18ارب ڈالر تک پہنچنے کی توقعات انٹربینک مارکیٹ کی سرگرمیوں پر اثرانداز رہے

متعلقہ

Load Next Story