عالمی کرکٹ پر بھارتی اجارہ داری کا سورج غروب کے قریب

پاکستان کے سخت اور اصولی موقف نے انٹرنیشنل کرکٹ کونسل کو سوچنے پر مجبور کردیا


عالمی کرکٹ کے افق پر دہائیوں سے قائم بھارتی اجارہ داری اور بی سی سی آئی کی بدمعاشی کا سورج اب غروب کے قریب پہنچ چکا ہے، جس کا کریڈٹ پاکستان کے جرأت مندانہ فیصلوں اور دور اندیشی پر مبنی حکمت عملی کو ملتا ہے۔

ٹی 20 ورلڈ کپ 2026 کے آغاز کے ساتھ ہی ماضی کی طرح مودی سرکار کی جانب سے کھیل میں سیاست چمکانے کی گھناؤنی سازشیں اُس وقت خاک میں مل گئیں جب پاکستان نے دفاعی انداز چھوڑ کر دوٹوک مؤقف پر مبنی سفارت کاری کا راستہ اختیار کیا۔

پاکستان کے سخت اور اصولی موقف نے نہ صرف انٹرنیشنل کرکٹ کونسل (آئی سی سی) کو سوچنے پر مجبور کیا بلکہ مودی سرکار کے اس گھمنڈ کو بھی توڑ دیا کہ وہ پیسے کے زور پر عالمی کرکٹ کو اپنی مرضی سے چلا سکتی ہیں۔

اس وقت صورتحال یہ ہے کہ آئی سی سی کا اعلیٰ سطح کا وفد خود چل کر پاکستان پہنچا اور پی سی بی حکام کے ساتھ مذاکرات کیے، جس میں ذرائع کے مطابق پاکستان نے اپنے تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے اپنی اصولی شرائط کھل کر آئی سی سی کے سامنے رکھی ہیں۔

اس اہم اجلاس میں آئی سی سی کے ڈپٹی چیئرمین نے بھارت کے ساتھ میچ نہ کھیلنے کے فیصلے پر نظر ثانی کرنے کی درخواست کی، انہوں نے کہا کہ پاکستان کو کرکٹ کے وسیع تر مفاد میں بھارت کے ساتھ میچ کھیلنا چاہیے جب کہ آئی سی سی کے نمائندے عمران خواجہ نے معاملات پر پاکستان اور بنگلا دیش کے موقف کی حمایت بھی کی اور دونوں کے تحفظات دور کرانے کی یقین دہانی بھی کرائی۔

پاکستان کی اس بڑی کامیابی کا آغاز اس وقت ہوا جب وزیراعظم شہباز شریف اور پی سی بی نے بنگلا دیش کے ساتھ کھڑے ہونے کا تاریخی فیصلہ کیا۔ بھارت نے ہمیشہ کی طرح پڑوسی ممالک کو دبانے اور ان کے کرکٹ ڈھانچے کو نقصان پہنچانے کی کوشش کی، جس کی حالیہ مثال بنگلا دیشی اسٹار کھلاڑی مستفیض الرحمن پر آئی پی ایل کے دروازے بند کرنا اور وہاں کی داخلی سیاست میں مداخلت ہے۔

پاکستان نے اس موقع پر نہ صرف بنگلا دیشی کرکٹ بورڈ کے سیکیورٹی خدشات کی تائید کی بلکہ واضح کیا کہ اگر بھارت سیکیورٹی کا بہانہ بنا کر چیمپئنز ٹرافی کے لیے پاکستان نہیں آ سکتا تو پاکستان اور بنگلا دیش کو بھی بھارتی سرزمین پر اپنی ٹیموں کی حفاظت کا پورا حق حاصل ہے۔

پاکستان کے ’’جیسا کرو گے ویسا بھرو گے‘‘ والے اصولی مؤقف نے آئی سی سی کو اُس مالیاتی بحران کے دہانے پر لا کھڑا کیا ہے جہاں اسے صرف ایک میچ (پاک بھارت ٹاکرے) کی منسوخی سے 250 ملین ڈالر کا ٹیکہ لگنے والا ہے۔

بھارت کی ہٹ دھرمی کا پردہ چاک کرتے ہوئے پاکستان نے دنیا کو دکھایا ہے کہ کس طرح بی سی سی آئی نے آئی سی سی کو اپنی ذیلی شاخ بنا رکھا ہے۔ جے شاہ، جو بھارتی وزیر داخلہ امیت شاہ کے صاحبزادے ہیں، ان کی آئی سی سی میں موجودگی نے ثابت کر دیا تھا کہ بھارت کھیل کو اپنے ہندوتوا ایجنڈے کے لیے استعمال کر رہا ہے، لیکن پاکستان کی کامیاب حکمت عملی نے اس اجارہ داری کی بنیادیں ہلا کر رکھ دی ہیں۔

آئی سی سی کے نشریاتی حقوق رکھنے والے ادارے جیو اسٹار کی جانب سے اربوں ڈالر کے معاہدے پر نظرثانی کی دھمکی دراصل پاکستان کے بائیکاٹ کے فیصلے کا نتیجہ ہے، کیونکہ براڈکاسٹرز جانتے ہیں کہ پاکستان کے بغیر عالمی کرکٹ ایک بے جان تماشے سے زیادہ کچھ نہیں۔

اس وقت عالمی کرکٹ میں بھارت کے خلاف ایک وسیع محاذ بن رہا ہے جس میں بنگلا دیش صفِ اول میں ہے جب کہ دیگر ایشیائی اور افریقی ممالک بھی دبے الفاظ میں بھارت کی مالیاتی اور کھیل کی دہشت گردی کے خلاف آواز اٹھا رہے ہیں جس کے تحت بھارت آئی سی سی کے کل منافع کا 40 فیصد ہڑپ کر جاتا ہے۔

پاکستان نے آئی سی سی وفد کو لاہور میں دو ٹوک پیغام دیا ہے کہ عزت اور برابری کے بغیر کوئی میچ نہیں کھیلا جائے گا۔ یہ پاکستان کی وہ کامیابی ہے جس نے عالمی کرکٹ میں طاقت کا توازن بدل کر رکھ دیا ہے۔ اب وہ وقت دُور نہیں جب آئی سی سی کو بھارت کی مالی بلیک میلنگ سے نکل کر پاکستان جیسے باوقار کرکٹنگ نیشن کے مطالبات تسلیم کرنے ہوں گے۔

بھارت کا پاکستان کو تنہا کرنے کا خواب اب خود مودی سرکار کے لیے ڈراؤنا خواب بن چکا ہے کیونکہ پاکستان نے ثابت کر دیا ہے کہ کرکٹ کا میدان ہو یا سفارت کاری کا محاذ، حق اور سچ کی جیت ہی مقدر بنتی ہے۔

نوٹ: ایکسپریس نیوز اور اس کی پالیسی کا اس بلاگر کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

اگر آپ بھی ہمارے لیے اردو بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو قلم اٹھائیے اور 800 سے 1,200 الفاظ پر مشتمل تحریر اپنی تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بک اور ٹوئٹر آئی ڈیز اور اپنے مختصر مگر جامع تعارف کے ساتھ blog@express.com.pk پر ای میل کردیجیے۔

Load Next Story