بسنت کا جشن
چھ، سات اور آٹھ فروری کو بسنت کا تہوار لاہور میں پورے جوش و خروش سے منایا گیا۔ دن بھر ٹیلی وژن کے تمام چینلزنے بھی بسنت کے تہوار پر نت نئے پروگرام پیش کیے اور شہریوں کی خوشی کو دوبالا کرنے کی بھرپور کوشش کی۔
لاہور میں شہریوں کی خوشی دیدنی تھی کہ پچیس برس کے بعد بسنت منائی جا رہی ہے۔ جب بھی بسنت منائی جاتی یا پتنگ بازی ہوتی ہے ، آسمان پر رونق بڑھاتی پتنگوں کے علاوہ بجلی کے تاروں اور درختوں کے ساتھ الجھ کر لٹکی ہوئی پتنگیں بھی نظر آتی ہیں۔بسنت کے اس موقع پر لوگ زبانی، سوشل میڈیا پر اور ٹیلی وژن کے اشتہارات میں بھی وزیر اعلی لاہور کا شکریہ ادا کرتے نظر آئے ۔
بسنت کے اس تہوار پر جس طرح شہریوں خاص طور پر نوجوانوں نے حصہ لیا اس نے نہ صرف لاہوریوں بلکہ دوسرے شہروں اور صوبوں سے بسنت منانے لاہور آنے والے لوگوں کے بھی دل جیت لیے ہیں۔ دوسرے صوبوں سے آنے والے سوشل میڈیا پر پنجاب حکومت کی تعریف اور اپنی صوبائی حکومتوں پر تنقید کرتے نظر آتے ہیں کہ انھوں نے نوجوانوں کی تفریح اور خوشی کے لیے کیا منصوبہ بندی کی ہے۔ واقعی لہور لہور ہے،نئیں ریساں لاہور شہر دیاں۔
اس بار حکومتی اعلان ہوا کہ چھ، سات اور آٹھ فروری کو بسنت کا فیسٹیول ہو گا، سو اہلیان لاہور طویل ویک اینڈ کا لطف منائیں۔ پانچ دن کی مسلسل چھٹی کا اعلان کیا گیا تو لوگ اتنے خوش ہوئے کہ وہ ان چھٹیوں کو زیادہ سے زیادہ انجوائے کرنے کے لیے نت نئے پروگرام بنانے لگے کچھ لوگ مری اور دوسرے صحت افزاء مقامات کی طرف نکل گئے۔
لاہور میں بسنت کا اعلان ہوتے ہی صوبے کے باقی شہربھی کسی سے پیچھے نہ رہے۔لاہور میں تو جو بسنت کا جشن منایا گیا اسے دوسرے شہروں کے رہنے والے سوشل میڈیا پر دیکھتے رہے باقی شہروں میں بھی پتنگوں اور ڈور کا کاروبار چمک اٹھا تھا۔ اگرچہ قاتل ڈور سے بچنے کا بندوبست کر دیا گیا تھا کہ ہر موٹر سائیکل سوار اپنی موٹر سائیکل کے سامنے لوہے کی راڈ لگوا کر باہر نکلے گا۔ کسی بھی ایمرجنسی کے لیے ایمبولینس بھی تھیں اور شہریوں کو مفت پبلک ٹرانسپورٹ بھی فراہم کی گئی تھیں۔ لاہور میں عمارتوں کی چھتیں مہنگے داموں بک ہوئیں۔
لاہوریے تو شروع ہی سے عرس میلوں اور جشن منانے کے شوقین ہیں۔ ان کے ہاں محاورہ مشہور ہے کہ ہفتے دے ست دن اور اٹھ میلے ‘کار جاواں کیڑے ویلے‘ (ہفتے کے ساتھ دن اور آٹھ میلے گھر جاؤں کس وقت) لوگ بتا رہے تھے کہ بسنت 25 سال بعد منائی جا رہی ہے لہٰذا وہ بچے اور نوجوان جو اس دوران پیدا ہوئے انھوں نے پہلی بار اپنی زندگی میں اتنا بڑا جشن دیکھا،وہ بھی جو ہر گلی اور محلے میں منایا جا رہا تھا۔ نوجوان جن کے لیے پہلے ہی تفریح کے مواقع انتہائی کم ہیں انھوں نے بسنت کے تہوار پر انتہائی جوش و خروش کا مظاہرہ کیا،جا بجا گھروں کی چھتوں پر باربی کیو کا انتظام تھا،لہٰذا چار راتیں چھتوں پر مسلسل جاگتے، تکے کباب کھاتے ،پتنگیں اڑاتے اور موسیقی سنتے گزریں۔ بچوں اور نوجوانوں کا جوش تو دیدنی تھا ہی ،بہت سی گھریلو خواتین نے بھی بسنت کے تہوار پر خوشی کا خوب اظہار کیا، اپنے گھر کے مردوں کے ساتھ وہ بھی پورے جوش سے بو کاٹا کے نعرے لگاتی اورخوشی کا اظہار کرتی رہیں۔
قوم کو ایک عرصے بعد خوشی کا موقع ملا تھا لہٰذا امیروں نے جہاں خوب پیسے کا استعمال کیا وہاں عام شہری بھی جشن منانے میں پیچھے نہیں رہے۔ جمعہ والے دن رات بارہ بجے بسنت کا افتتاح ہوتے ہی ہر طرف پتنگیں اڑتی نظر آئیں، ان کی تیاریاں قابل دید، دل کی دھڑکنیں ’’ بو کاٹا‘‘ کا ورد کرتی ہوئیں اور ان کے پیچے لگانے کے انداز ثابت کررہے تھے کہ واقعی بسنت نے شہریوں کو خوشی کا موقع فراہم کیا۔ لوگوں نے خوب لطف اٹھایا، پتنگیں اور ڈوریں بیچنے والوں نے بھی خوب پیسہ کمایا ، ہوائی سفر کی ٹکٹیں بھی ڈبل سے زیادہ قیمت پر بکیں، پیلے جوڑوں کی خریداری پر بھی خواتین نے خوب پیسہ لٹایا۔ جن لوگوں کے گھروں کی چھتیں اچھی تھیں ، انھوں نے بھی بہتی گنگا میں ہاتھ دھوئے، ہوٹلوں کی چھتیں، مارکیٹوں کی چھتیں تو اتنے سالوں کے بعد کمائی کا ذریعہ بن گئیں اور اب تو بہت سے کاروباری لوگ اگلے سال بسنت کے تہوار پر زیادہ سے زیادہ کاروباری منافع کمانے کی منصوبہ بندی کر رہے ہیں۔
تین دنوں میں اربوں روپے کا کاروبار ہوا، لوگوں کو روزگار ملا۔پوری دنیا میں فیسٹیول اور کھیلیں کاروبار کے مواقع فراہم کرتی ہیں۔اگر ہم نے اپنے ملک میں کاروبار کو ترقی دینی ہے تو زیادہ سے زیادہ فیسٹیول اور کھیلوں کا اہتمام کرنا ہوگا ،اس سے جہاں نئے نئے روزگار پیدا ہوں گے وہاں ہر وقت موبائل میں گم نوجوان ،جنھوں نے موبائل دیکھ دیکھ کر اپنی آنکھیں اور صحت کمزور کرلی ہے،وہ بھی صحت مند کھیلوں کی جانب راغب ہوں گے۔