خود مختارمقامی حکومتیں اور قومی فریم ورک
ایک اہم بات یہ ہے کہ اب پاکستان کے سیاسی مباحث میں سیاسی جماعتوں اور سول سوسائٹی کی سطح پر خود مختار مقامی حکومت کی اہمیت اور افادیت پر بہت زیادہ زور دیا جارہا ہے ۔پہلی بار خود حکومتی سطح سے جڑے افراد عام آدمی کے مسائل کے حل کے سلسلے میں مضبوط اور خود مختار مقامی حکومتوں کے نظام کی عدم موجودگی کے اپنے مقدمے کو پیش کررہے ہیں ۔
یہ اس نظام کی خود مختاری کے تناظر میں ایک اچھی پیش رفت ہے اور اس طرز کی نئی بحثوں اور مختلف طرز پر مبنی مقامی حکومتوں کے خیالات کو اور زیادہ قبولیت اور پزیرائی ملنی چاہیے۔پاکستان میں مقامی حکومتوں کا نظام مکمل طور پر 18ویں ترمیم کے بعد ایک صوبائی سطح کا موضوع ہے اور اس نظام کی تشکیل سے لے کر انتخابات اور طریقہ کار سمیت نظام کے تسلسل کا مکمل اختیار بھی صوبائی حکومتوں کے کنٹرول میں ہے ۔ہماری صوبائی حکومتیں اس نظام کو صوبائی خود مختاری سے جوڑتی ہیں اور ان کے بقول اس نظام میں وفاقی سطح کی کسی بھی قسم کی مداخلت صوبائی معاملات میں مداخلت تصور کی جائے گی ۔لیکن یہ حقیقت ہے کہ 18ویں ترمیم کے بعد جو سوتیلا سلوک صوبائی حکومتوں نے خود مختارمقامی حکومتوں کے ساتھ اختیار کیا ہوا ہے اس کی صرف مذمت ہی کی جاسکتی ہے۔
اس وقت ملک کے چاروں صوبوں میں موجود مقامی حکومتوں کے قوانین ،عملدرآمد کا نظام ، مقامی حکومتوں کے مقابلے میں بیوروکریسی پر مبنی متبادل نظام ، وسائل کی غیر منصفانہ تقسیم، صوبائی حکومتوں کی اس نظام کے بارے میں کمزور جوابدہی اس نظام کی حقیقی روح کو متاثر کررہی ہے ۔خود مختارمقامی حکومتوں کے تناظر میں صوبائی حکومتوں اور بیوروکریسی کا مقدمہ بہت زیادہ کمزور بھی ہے اور ان کے ذاتی سیاسی مفادات کی عکاسی بھی کرتا ہے ۔
اول تو مقامی حکومتوں کے انتخابات کا نہ ہونا اور اس میں تسلسل کی بنیاد پر رکاوٹیں پیدا کرنا عدالتی مداخلتوں کی بنیاد پر نیم دلی سے انتخابات کا ڈرامہ اور پھر اس نظام کو کمزور اور مفلوج رکھنے کی پالیسی میں صوبائی حکومتیں اور جماعتوں کا کردار تنقیدی زمرے میں آتا ہے ۔ ہم اپنے عالمی سطح کے معاہدوں اور اہداف کی تکمیل جن میں پائیدار ترقی کے اہداف 2015-30ہیں، میں بھی مسلسل ناکامی سے دوچار ہیں ۔گورننس کے نظام میں صوبائی سطح پر جو اسٹرکچرل اصلاحات تعلیم،صحت، پولیس، عدلیہ ،بیوروکریسی، معیشت اور دیگر معاملات میں درکار ہیں اس پر صوبائی حکومتوں کا کوئی ٹھوس کام نظر نہیں آتا۔
پاکستان کے آئین 1973میں جو آرٹیکل 140-Aآرٹیکل32اور آرٹیکل 07اور آرٹیکل 226ہیں صوبائی حکومتیں ان سے بھی آئینی سطح پر انحراف کرتی ہیں اور ان کے بنائے گئے قوانین آئینی تقاضوں کے برعکس ہیں ۔یہ بھی تسلیم کرنا ہوگا کہ ہمارے آئین میں خود مختار مقامی حکومتوں کے بارے میں کافی خلا اور کمزوریاں ہیں جس کا صوبائی حکومتیں فائدہ اٹھا کر اس نظام کو مزید کمزور رکھتی ہیں ۔
ایک طرف صوبائی حکومتیں صوبائی خود مختاری پر زوردیتی ہیں تو دوسری طرف اپنے ہی طرز عمل سے مقامی نظام کی خود مختاری کے خلاف ہیں جو ان کے دوہرے معیارات اور تضاد کو نمایاں کرتا ہے۔ایک طرف ہمارا موجودہ مقامی حکومتوں کا نظام وفاقی نظام میں کہیں بھی جوابدہ نہیں تو دوسری طرف صوبائی سطح پر بننے والے مقامی نظام میں ایک ٹکراؤ دیکھنے کو ملتا ہے جس سے اس نظام کے بارے میں کسی بھی سطح پر قومی ہم آہنگی دیکھنے کو نہیں ملتی ۔مثال کے طور پر ان اداروں کے سیاسی ،انتظامی اور مالی اختیارات کی تقسیم ، جماعتی اور غیر جماعتی انتخابات ،چیئرمین اور وائس چیئرمین کے ڈائریکٹ اور ان ڈائریکٹ انتخابات،یونین کونسل کی سطح پر مخصوص نشستوں کے براہ راست انتخابات سے گریز،عورتوں اور دیگر محروم طبقات کی نمائندگی کے مختلف فارمولے ،نظام کو منتخب افراد کے مقابلے میں کمپنیوں اور اتھارٹیوں کی مدد سے چلانا ،نظام پر صوبائی حکومتوں کے مختلف طرز کے کنٹرول،ضلع اور تحصیل کے چیئرمین اور وائس چیئرمین کے براہ راست انتخابات سے گریز اور ان ڈائریکٹ انتخابات کی مدد سے منتخب ارکان کی سیاسی بولیاں،صوبائی اور مقامی حکومتوں کے درمیان عدم توازن اور ارکان قومی ،صوبائی یا مقامی ارکان کے اختیارات میں ٹکراؤ دیکھنے کو ملتا ہے۔اس کے برعکس جنرل پرویز مشرف کے دور میں یہ نظام چاروں صوبوں میں یکساں تھا اور اسے وفاقی حکومت کی مدد سے چلایا گیا تھا جسے بعد میں 18ویں ترمیم کی مدد سے ختم کیا گیا۔
یہ سب کچھ اس لیے بھی ہورہا ہے کہ اس ملک کے آئین میں مقامی حکومتوں کا کوئی قومی فریم ورک یا وہ بنیادی اصول صوبائی حکومت کی سطح پر موجود نہیں کہ وہ ایک مضبوط اور خود مختار مقامی نظام حکومت کی تشکیل کو ممکن بناسکیں ۔
آئین کی جو شقیں ہیں ان میں کافی کمزوری کے پہلو ہیں ۔اس لیے اب وقت آگیا ہے کہ ہم اول بھارت کی طرز پر اپنے آئین پاکستان میں مقامی حکومتوں کا بنیادی سطح کا فریم ورک تشکیل دیں اور اس کے لیے ہمیں قومی سطح پر آئینی ترمیم درکار ہے جو صوبوں کو مکمل طور پر گائیڈ لائین دے کہ ان نکات کو بنیاد بنا کر مقامی حکومتوں کے نظام کی تشکیل،انتخابات کا تسلسل ، سیاسی ،انتظامی اور مالی خود مختاری کے عمل کو یقینی بنائے ۔اس سے کسی بھی سطح پر صوبائی خود مختاری متاثر نہیں ہوگی بلکہ صوبوں کو جوابدہ بنایا جاسکتا ہے کہ وہ مضبوط نظام کو ممکن بنا کر اس نظام کی تشکیل کی طرف پیش رفت کریں ۔
دوئم صوبوں کو پابند کیا جائے کہ انتخابات کا عمل جماعتی بنیادوں پر ہوگا اور چیئرمین یا وائس چیئرمین یا عورتوں سمیت دیگر طبقات کی یونین کونسل کی سطح پر مخصوص نشستوں کے انتخابات براہ راست ہونگے۔اسی طرح مئیر اور ڈپٹی مئیر کا انتخاب بھی براہ راست طریقے سے ہو اور عوام ان کو منتخب کریں ۔سوئم، عورتوں کی 33فیصد مخصوص نشستوں کو تمام صوبائی سطح پر مقامی نظام میں رکھنے کی تجویز ہو۔چہارم، کوئی صوبائی حکومت مقامی حکومت کے مقابلے میں کسی بھی سطح پر کسی بھی طرز کا متبادل نظام نہیں بنائے گی اور اگر کہیں اس کی ضرورت ہو یعنی کمپنیاں یا اتھارٹیاں تو وہ مقامی صوبائی حکومت یا بیوروکریسی کے مقابلے میں مقامی حکومتوں کے ماتحت ہوگی ۔
پنجم، ہمیں یہ بھی طے کرنا ہوگا کہ مقامی نظام کی مدت چار یا پانچ برس یعنی قومی اور صوبائی نظام ہی کی طرز پر ہوگی۔ان کے انتخابات بھی ایک ساتھ ہی ہوں اور اگر ایسا ممکن نہیں تو صوبائی حکومت کی تشکیل کے بعد 120دن میں صوبائی حکومت صوبہ میں مقامی حکومت کے انتخابات کروانے کی پابند ہوگی تاکہ اس نظام کا تسلسل برقرار رکھا جاسکے۔یہ بھی طے کرنا ہوگا کہ اگر کسی وجہ سے مقامی نظام کو ختم کیا جاتا ہے یا اس کی مدت ختم ہوتی ہے تو 120 دن کے اندر اندر اس نظام کی تشکیل اور انتخابات لازمی ہوں گے ۔ششم، صوبائی سطح پر پی ایف سی کی سطح پر اس امر کو یقینی بنانا ہوگا کہ صوبہ کے تمام اضلاع جو پس ماندہ ہیں ان میں وسائل کی تقسیم کے فارمولے میں اہمیت دی جائے گی تاکہ ترقی کا دائرہ کار چند مخصوص شہروں تک محدود نہ رہے ۔
اس امر کو بھی یقینی بنانا ہوگا کہ مقامی ترقی مقامی حکومت کے نظام کے تحت ہی ہوگی اور اس میں قومی اور صوبائی اسمبلی کے ممبران اور ترقیاتی فنڈ کی سیاست کا کوئی کردار نہیں ہوگا۔کیونکہ جب تک ہم قومی ،صوبائی اور مقامی حکومت کے نظام کے دائرہ کار کو طے نہیں کریںگے یہ جھگڑا برقرار رہے گا۔سب سے بڑھ کر اس اصول کو قومی سیاست کے اصول میں طے کرنا ہوگا جس کی عملی وضاحت آرٹیکل سات میں موجود ہے کہ مقامی حکومت بلدیاتی ادارے نہیں بلکہ ان کو آئین میں تیسری یعنی تھرڈ حکومت کا درجہ حاصل ہوگا اور ہمارا ریاست کا ڈھانچہ سیاسی اور انتظامی بنیادوں پر وفاقی،صوبائی اور مقامی حکومت کی بنیاد پر ہوگا۔وفاقی سطح پر کہ کیا صوبے مقامی نظام حکومت میں اپنی سیاسی ،انتظامی اور مالی ذمے داری بہتر طور پر ادا کررہے ہیں تو اس کو جانچنے کے لیے قومی سطح پر موجود مشترکہ مفادات کونسل کا فورم جس کی سربراہی وزیر اعظم کرتے ہیں اور جہاں چاروں وزرائے اعلی ہوتے ہیں کو جوابدہی کا فورم بنایا جاسکتا ہے۔
ان سب نکات کو بنیاد بنا کر ہمیں سیاسی جماعتوں،سول سوسائٹی ،میڈیا اور علمی فکری اداروں میں اس بحث کو لے کر جانا ہوگا اورمقامی حکومت کی خود مختاری اور مضبوطی کے لیے قومی فریم ورک کی تشکیل پر زور دینا ہوگا کہ وہ ان اصولوں کو بنیاد بنا کر آگے بڑھیں۔ وگرنہ حالات کی درستگی ممکن نہیں ہوگی ۔