دہشت گردی کا خاتمہ کیسے ہو سکتا ہے ؟

اسلام آباد کے علاقے ترلالی میں مسجد و امام بارگاہ باڑہ جمعے کی نماز کے وقت دہشت گردی کے واقعہ میں 33 افراد کی شہادت اور 100 سے زائد افراد کے زخمی ہوئے۔

tauceeph@gmail.com

اسلام آباد کے علاقے ترلالی میں مسجد و امام بارگاہ باڑہ جمعے کی نماز کے وقت دہشت گردی کے واقعہ میں 33 افراد کی شہادت اور 100 سے زائد افراد کے زخمی ہوئے۔ یہ دہشت گردی اس وقت ہوئی جب ازبکستان کے صدر سرکاری دورے پر اسلام آباد میں موجود تھے۔ گزشتہ کئی برسوں کے بعد فرقہ واریت کی بنیاد پر خودکش حملہ کا یہ پہلا واقعہ ہے مگرگزشتہ نومبر میں اسلام آباد کی کچہری پر ہونے والی دہشت گردی کے بعد یہ دوسرا واقعہ ہے۔ تین مہینے بعد دہشت گردی کی دوسری واردات سے ثابت ہوا ہے کہ دہشت گرد تنظیموں کی نگرانی اور دہشت گردی کی واردات سے قبل اطلاع دینے کا نظام ناکامی سے دوچار ہوا ہے۔

  دہشت گرد جو پہلے سابقہ قبائلی علاقوں اور بلوچستان میں اپنی مذموم سرگرمیوں میں مصروف تھے، وہ اسلام آباد میں بھی واردات کرنے میں کامیاب ہوگئے ہیں۔ وزیر داخلہ نے اس دہشت گردی کی واردات کے دوسرے دن ایک پریس کانفرنس میں انکشاف کیا کہ اس حملے کے ماسٹر مائنڈ کو گرفتارکر لیا گیا ہے اور اس دہشت گرد کے خاندان کا پتہ چل گیا اور یہ بھی بتایا کہ خودکش حملہ آور نوشہرہ سے بس میں بیٹھ کر اسلام آباد آیا تھا اور اسلام آباد کے ایک ہوٹل میں چند گھنٹے آرام بھی کیا تھا۔

اس دہشت گرد کو جو گزشتہ سال افغانستان گیا تھا بغیرکسی بڑی مزاحمت کے اپنا مشن پورا کرنے کا موقع مل گیا۔ دہشت گرد کی نادرا سے شناخت کے بعد جدید ٹیکنالوجی استعمال کرتے ہوئے اس کے خاندان کا پتہ چلایا، یوں یہ معلوم ہوا کہ اس شخص کا پورا خاندان مذہبی انتہا پسندی میں مبتلا ہے، اگر وزارت داخلہ کی فراہم کردہ ان تمام اطلاعات کو درست مان لیا جائے تو پھر یہ سوال ذہن میں ابھر رہا ہے کہ ان معلومات کی بناء پر خودکش حملہ آور کو خیبر پختون خوا میں اس کے اڈہ سے گرفتار کیوں نہیں کیا گیا؟ اگر پولیس اور دیگر ایجنسیاں چوکس ہوتی تو یہ حملہ آور سیف سٹی پروجیکٹ کے تحت چوراہوں پر لگے آٹومیٹک کیمروں کے ذریعے فوراً ٹریس ہوجاتا اور اس طرح یہ انتہائی افسوس ناک سانحہ جنم نہ لیتا۔ وزارت داخلہ کی اس دہشت گردی کی واردات کے بارے میں رپورٹ کے مطالعے سے اندازہ ہوتا ہے کہ خیبر پختون خوا کے سابقہ قبائلی علاقوں کے علاوہ مختلف شہروں میں دہشت گردی کے مراکز مکمل طور پر فعال ہوگئے ہیں۔

اس رپورٹ سے یہ بھی ظاہر ہوتا ہے کہ افغانستان میں متحرک داعش نے سابقہ قبائلی علاقے میں بھی قدم جمائے ہوئے ہیں اور اس کے دہشت گرد پاکستان میں ایسی کارروائیاں کررہے ہیں۔ پاکستان نے افغانستان کی حکومت سے مختلف دہشت گرد تنظیموں القاعدہ، کالعدم ٹی ٹی پی اور داعش کے اڈوں کے خاتمے پر زور دیا ہے مگر افغانستان میں طالبان کی حکومت دہشت گرد تنظیموں کے خاتمے میں سنجیدہ نہیں اور افغان حکومت اپنی اس پالیسی کا جواز فراہم کرنے کے لیے مختلف جواز پیش کررہی ہے۔

 طالبان نے کابل پر قبضہ کیا تو اپنے رہنما ملا ہیبت اخونزادہ کوامیر قرار دیا ۔ ٹی ٹی پی نے بھی اس کی اطاعت کو قبول کیا ہے۔ اس بناء پر کابل کی حکومت ٹی ٹی پی کے خلاف کسی قسم کی کارروائی نہیں کررہی ہے۔ داعش خراسان بھی افغانستان میں بیٹھ کر پاکستان میں دہشت گردی کررہی ہے۔ دہشت گردی پر تحقیق کرنے والے بعض محققین کی رائے ہے کہ پاکستان میں بھی مختلف اداوار میں مذہبی انتہاپسندی کو بطور سیاسی ہتھیار استعمال کیا جاتا رہا ہے لہذا اس عفریت کے مکمل طور پر خاتمے میں کبھی سنجیدہ اقدامات نہیں اٹھائے جاتے رہے ہیں۔ جب بھی دہشت گرد گروپوں کے خاتمے کے لیے حکمت عملی تیار ہوتی توکچھ طاقتور حلقے اس حکمت عملی کو سبوتاژ کرنے میں لگ جاتے اور حکومت کے اقدامات کے خلاف ایک مہم شروع ہوجاتی ہے۔

خیبر پختون خوا میں جو جماعتیں طالبان کے نظریات کی مخالف رہی ہیں، ان کو مارجنلائز کرنے کی کوشش جاری رہی ہیں۔ اس مجموعی صورتحال میں سب سے ضروری حقیقت یہ ہے کہ وفاقی اور تمام صوبائی حکومتیں مذہبی انتہا پسند تنظیموں کے خاتمے کے لیے جامع پالیسی اختیارکریں۔ اس پالیسی کی تیاری میں عوامی نمائندوں، انسانی حقوق کی تنظیموں، دہشت گردی کے تدارک کے ماہرین اور سرکاری ایجنسیوں کے سربراہوں کو ایک میز پر جمع کیا جائے اور ان تمام اسٹیک ہولڈرزکی رائے سے جامع پالیسی تیارکی جائے۔ اس پالیسی کی پارلیمنٹ سے منظوری لی جائے۔ تمام خفیہ ایجنسیاں اس پالیسی پر عملدرآمد کے لیے سنگل کمانڈ کے تحت کام شروع کریں۔ اس کے ساتھ ہی دہشت گردوں کو تنہا کر کے ریاستی سطح پر ایک پالیسی اختیارکی جائے۔

پشاور پبلک اسکول پر دہشت گردوں کے حملے کے بعد نیشنل ایکشن پلان تیار کیا گیا تھا، اس کو ملحوظ خاطر رکھا جائے۔ (اس ایکشن پلان پر کبھی بھی مکمل طور پر عملدرآمد نہیں ہوا۔) اس پالیسی میں اس پلان کی کمزوریوں کو بھی مدنظر رکھا جائے۔ ذرائع ابلاغ، خاص طور پر سوشل میڈیا پر مذہبی انتہا پسندی پر مبنی لٹریچرکی ترویج کو روکا جائے۔ اس کے ساتھ ہی مدارس اور جدید تعلیمی اداروں کے نصاب میں سائنسی طرزِ فکر کے فروغ کے نصاب کو دوبارہ مرتب کیا جائے۔ پرائمری کلاس سے پی ایچ ڈی تک کے نصاب میں ایسا مواد شامل کیا جائے کہ ہر بچہ میں ہر مسئلے کی وجہ معلوم کرنے کی عادت پڑجائے اور ہر سطح پر طلبہ میں ’’ سوال‘‘ کرنے کی عادت کی حوصلہ افزائی کی جائے۔

اسکول،کالج، یونیورسٹیوں اور مدارس کھیلوں کی سرگرمیوں کی حوصلہ افزائی کی جائے۔ اسلام آباد میں دہشت گردی اس وقت ہوئی جب پنجاب میں 25 سال بعد ’’بسنت‘‘ کا تہوار منایا جا رہا تھا، تاہم اس بناء پر موسمی بہار بسنت کے موقع پر ہونے والی تقاریب کو منسوخ کردیا جائے یہ کوئی معقول تجویز نہیں تھی۔ اس موقع پر بسنت کا پروگرام ختم کرنے کا مقصد خودکش حملہ آور کے عزائم کو کامیاب بنانے کے مترادف تھا۔ تاریخ بتاتی ہے کہ امیر خسرو نے اپنے مرشد حضرت نظام الدین اولیاء کو منانے کے لیے یہ پہلے سروں اور پیلے پھولوں کے ساتھ رقص کیا تھا، اس سے مرشد حضرت نظام الدین اولیاء کے چہرے پر خوشی آئی تھی، یوں امیر خسرو کی روایت کے تحت موسم سرما کے خاتمے پر منائے جانے والے تہوار سے دہشت گردوں کے عزائم پر اوس پڑجاتی۔ جب نوجوان تعمیری سرگرمیوں میں مصروف ہوںگے تو وہ انتہا پسندی سے دور ہوںگے، یوں اس انتہا پسندی کی جڑیں کمزور ہوجائیں گی۔

Load Next Story