لاہور سفاری زو میں ننھے شیروں کی دھوم، پہلی بار شیر کے بچوں کا سب سے بڑا گروپ تیار
لاہور سفاری زو میں پہلی بار شیر کے بچوں کا سب سے بڑا گروپ تیار کیا گیا ہے، جس میں 10 نر اور مادہ شامل ہیں۔ یہ بچے ان دنوں سفاری پارک آنے والے شہریوں کی توجہ کا مرکز بنے ہوئے ہیں۔
ویٹرنری سروسز کے ڈائریکٹر ڈاکٹر رضوان خان نے بتایا کہ جن بچوں کو ان کی مائیں قبول کر لیتی ہیں انہیں وہیں رکھا جاتا ہے، تاہم جنہیں مسترد کر دیا جائے انہیں فوری طور پر علیحدہ کر کے خصوصی نگہداشت فراہم کی جاتی ہے۔ ان کے مطابق شدید سردی اور گرمی کے موسم میں نوزائیدہ بچوں کی اموات کا خطرہ زیادہ ہوتا ہے، اس لیے موسمی حالات کو مدنظر رکھتے ہوئے خصوصی انتظامات کیے جاتے ہیں۔
ڈاکٹر رضوان خان نے کہا کہ ماضی میں نوزائیدہ بچوں کو عموماً اسی جوڑے کے پاس رکھا جاتا تھا، اور اگر ہینڈ کیئر کی ضرورت پڑتی تو ایک یا دو بچوں کی پرورش کی جاتی تھی۔ تاہم بیرونِ ملک کے تجربات اور مطالعات کے بعد حکمت عملی تبدیل کی گئی۔ انہوں نے بتایا کہ تحقیق سے معلوم ہوا کہ اگر نوزائیدہ بچوں کو گروپ کی صورت میں رکھا جائے تو وہ زیادہ متحرک رہتے ہیں، ایک دوسرے کے ساتھ کھیلتے اور دوڑتے ہیں، جس سے ان کی جسمانی نشوونما بہتر ہوتی ہے۔
حکام کے مطابق پنجاب میں اس وقت کیپٹویٹی میں بگ کیٹس کی سب سے زیادہ تعداد موجود ہے۔ سرکاری چڑیا گھروں اور سفاری پارکس کے علاوہ نجی کیپٹویٹی میں بھی بگ کیٹس کی تعداد تقریباً 700 کے قریب بتائی جاتی ہے۔ وزیراعلیٰ پنجاب نے حالیہ دنوں نجی کیپٹویٹی میں بگ کیٹس رکھنے کی قانونی اجازت ختم کرنے کا اعلان کیا تھا، تاہم اس حوالے سے تاحال کوئی عملی پیش رفت سامنے نہیں آئی۔