عوامی ریفرنڈم تھا تو فیصلہ مان لیں
m_saeedarain@hotmail.com
ہر دور میں حکومتیں اپنے خلاف احتجاج و ہڑتال کو ناکام اور اپوزیشن احتجاج و ہڑتالوں کو حکومت کے خلاف اور اپنے حق میں کامیاب قرار دیتی آئی ہیں جو کوئی نئی بات نہیں، فرق صرف یہ ہے کہ جھوٹ کو حکومت اور اپوزیشن نے اپنا فرض اولین نہ صرف بنا رکھا ہے بلکہ جھوٹوں میں مسلسل اضافہ اپنا اصول بنا لیا ہے اور دونوں اپنے اپنے اصولوں پر ڈھٹائی سے کاربند ہیں اور عوام دونوں کا تماشا دیکھتے دیکھتے تنگ آ گئے بلکہ بے زار ہو کر رہ گئے ہیں جس کا ثبوت 8 فروری کو ہونے والے اپوزیشن کے احتجاج اور حالیہ جزوی ہڑتالوں سے مل گیا اور یہ جزوی ہڑتال سندھ و پنجاب میں ناکام اور کے پی اور بلوچستان میں جزوی طور پر ناکام قرار دی گئی مگر حکومت اور اپوزیشن اپنے اپنے پرانے موقف پر ڈٹے رہے اور وفاقی وزیر اطلاعات نے کہا کہ پہلی دفعہ دیکھا کہ پہیہ جام ہی جام ہوگیا۔ اپوزیشن کی طرف سے حسب معمول اسے عوامی ریفرنڈم قرار دیا گیا اور ہڑتال کو کامیاب قرار دیا گیا۔
8 فروری کو اپوزیشن نے یوم سیاہ، احتجاج، ہڑتال اور شٹر ڈاؤن کا کہا تھا جب کہ پی ٹی آئی اور تحریک تحفظ آئین کی طرف سے الگ الگ موقف تھے اور تیاریاں نہ ہونے کے برابر تھیں۔ غیر جانبدار تجزیہ کاروں نے بھی 8 فروری کے شوکو ناکام قرار دیا اور بتایا کہ کراچی و اسلام آباد سمیت اکثر شہروں میں معمولات زندگی بحال رہے اور ملک کے دو بڑے صوبوں پنجاب اور سندھ میں تو پتا ہی نہیں چلا کہ اتوار کو ہونے والا احتجاج ہڑتال اور شٹر ڈاؤن کہاں گیا کیونکہ ہر جگہ ٹریفک رواں دواں، کاروبارجو ہر اتوارکو جاری رہتا ہے وہ اس بار بھی جاری رہا اور حکومتوں نے بھی اپنی دیرینہ روایت کو برقرار رکھ کر اپوزیشن کے کارکنوں کوگرفتارکیا صرف کے پی میں کوئی گرفتاری نہیں ہوئی،کیونکہ وہاں کے پی کی حکومت خود ہڑتال پر تھی مگر کے پی کے سینئر رہنما زاہد خان کا کہنا تھا کہ اپوزیشن کی ہڑتال ناکام، کے پی میں کسی نے گاڑی روکی نہ دکان بند ہوئی۔
ملک بھر میں تاجروں اور ٹرانسپورٹر نے خود کو الگ رکھا۔ کے پی میں پی ٹی آئی کے بعض کارکنوں نے مختلف علاقوں میں جبری طور دکانیں بند کرائیں جو دوپہر کے بعد کھل گئیں۔ کے پی کے ٹرانسپورٹرزکا کہنا تھا کہ حکومت نے ہمیں کون سی رعایت یا سہولت دی کہ ہم ٹرانسپورٹ بند کر کے اپنے عملے کو بے روزگار، عوام کو پریشان اور اپنا مالی نقصان کریں کیونکہ بے روزگاری اور مہنگائی میں ہم ہڑتال کے متحمل نہیں ہو سکتے ہمیں ہڑتال سے کیا فائدہ؟ سندھ میں آئے دن قوم پرست منتظمین اپنی سیاست زندہ رکھنے کے لیے ہڑتالیں کراتی رہتی ہیں اور ان کے کارکن ایک روز قبل بازاروں میں جا کر دکانداروں سے دکانیں بند رکھنے کی درخواستیں ضرور کرتے ہیں اور دوپہر کے بعد دکانیں کھلنا معمول رہا ہے جب کہ اس کے برعکس ایم کیو ایم کی ماضی میں کراچی و حیدر آباد میں ہڑتالیں جبری طور فائرنگ اور خوف و ہراس پھیلا کر ضرور کرائی جاتی تھیں مگر جن علاقوں میں ایم کیو ایم کا اثر و رسوخ نہیں ہوتا تھا یا کہیں مکس آبادی ہوتی تھی وہاں ہڑتال پھر بھی نہیں ہوتی تھی اور ہڑتال والے علاقوں کے لوگ اپنی ضرورت کی چیزیں خریدنے وہاں جاتے تھے تو وہاں کے دکاندار اپنے نئے گاہکوں سے پوچھتے تھے کہ ہڑتال سے ان کا اپنا ہی نقصان ہے اور آپ کے یہاں آنے کا ہمیں زیادہ فائدہ ہے تو جواب ملتا تھا کہ ہم کیا کریں مجبور ہیں آپ کے سوال کا جواب ہڑتال کرانے والے ہی دے سکتے ہیں۔
جب کراچی میں واقعی کامیاب ہڑتال اور پہیہ جام ہوتا تھا تب بھی سندھ حکومت اسے ناکام قرار دیتی تھی جب کہ حالت یہ ہوتی تھی کہ شہر کی گلیوں کی بھی دکانیں بند اور ضرورت مند روپے ہاتھوں میں پکڑے کچھ یا خوراک خریدنے کے لیے جگہ جگہ بھاگے پھرا کرتے تھے۔قوم پرست رہنما زین شاہ، پی ٹی آئی سندھ کے صدر حلیم عادل شیخ و دیگر رہنماؤں کو سندھ میں ہڑتال نہ صرف کامیاب نظر آئی بلکہ انھوں نے ہڑتال کی مبینہ شاندارکامیابی کو عوام کی بیداری قرار دے دیا اور ہڑتال نہ کرنیوالے عوام سے اظہار تشکر بھی کیاجب کہ جے یو آئی اور جی ڈی اے نے سندھ میں پرامن یوم احتجاج اور یوم سیاہ منایا اور پریس کلبوں پر جا کر اپنے احتجاج کا حق ادا کیا۔سندھ کے وزیر اعلیٰ نے کہا کہ پورے ملک نے پہیہ جام ہڑتال کی کال مسترد کر دی۔ پنجاب کے جشن بسنت کی شاندارکامیابی پر وزیر اعلیٰ نے ہڑتال پر کوئی بیان دینے کی ضرورت ہی محسوس نہیں کی اور پنجاب کے دوسرے شہروں میں بھی اپنانے کا اعلان کیا۔ وفاق اور تین صوبوں کی حکومتوں نے وہی کیا جو ماضی سے ہوتا آیا ہے۔
پکڑ دھکڑ اور گرفتاریاں و رہائی مگرکہیں لاٹھی چارج کی خبریں نہیں ملیں۔ 8 فروری خیریت سے گزر گیا اور حکومت اور اپوزیشن اپنی اپنی جگہ خوش کہ ان کی حکمت عملی کامیاب رہی۔8 فروری کے احتجاج سے بانی اور ان کی بہنوں کو یقینی طور مایوسی اور حکومت اپنی کامیابی سمجھ رہی ہے مگر عوام بسنت اور اپنے معاملات میں مصروف رہے۔ پی ٹی آئی کے رہنماؤں کو کہیں بھی اپنے بانی کی تصاویرکی پتنگیں آسمان پر نظر آئیں نہ قابل ذکر لوگ سڑکوں پر نکلے۔ پی ٹی آئی کے حامی مان لیں کہ 8فروری عوامی ریفرنڈم نہیں تھا اس لیے ملکی حالات، دہشت گردی، بے روزگاری اور مہنگائی میں یہ ریفرنڈم مکمل ناکام رہا اور حکومت نے دو سال پورے کرلیے مگر حکومت بھی ندامت میں رہی اور اس نے اپنی دو سالہ کارکردگی کا ڈھنڈورا نہیں پیٹا اور نہ ہی عوام کو ریلیف دیا کیونکہ حکومت نے دو سال میں عوام کے لیے تو کچھ کیا ہی نہیں ہے۔