سعودی عرب کو قومی دن منانے کا حق ہے

بڑے مزے کی بات تو یہ ہے کہ سعودی عرب ’’ماں‘‘ کے پاس تیل ہی تیل ہے لیکن وہ سورج پر نظریں لگائے ہوئے ہیں

barq@email.com

25 ستمبر سعودی عرب کا قومی دن ہے اور ہمیں معلوم ہے کہ اس دن کو سعودی حکومت اور قوم ویسے ہی منائے گی۔

جیسا کہ قومی دن کا حق ہوتا ہے اور سعودی عرب کا قومی دن تو اس لیے بھی اچھے طریقے سے منایا جائے گا کہ ہماری اطلاعات اور معلومات کے مطابق سعودب عرب میں ایک ''حکومت'' بھی موجود ہے۔

شاید آپ یہ سوچنے لگے ہوں کہ ہم نے ''حکومت'' کو انڈرلائن کرکے کیا جتانے کی کوشش کی ہے تو سب سے پہلے اس پر بات ہو جائے۔

نظر بظاہر تو ہر ملک میں ایک ''حکومت'' ہوتی ہے یا اپنے آپ کو کہتی ہے بلکہ یہ گلے کی رگیں پھلا کر بڑے فخر سے اپنے آپ کو ''حکومت حکومت'' کہتی بھی ہے لیکن حقیقت میں ''حکومت'' انتہائی نایاب چیز ہے اور بڑے نصیبوں سے ملتی ہے۔

اس لیے اکا دکا ملکوں میں ہی ''حکومت'' ہوتی ہے، باقی کے ملکوں میں انڈر ورلڈ قسم کی پارٹیوں کے قبضہ مافیا کو حکومت کہا جاتا ہے۔

اس بنیاد پر جب ہم نے سوچا تو سعودی عرب میں واقعی ایک حکومت موجود ہے،اصل چیز نام یا لیبل نہیں بالکل کام ہے اور سعودی حکومت کام کے لحاظ سے نمبر ون حکومت ہے، چلیے ذرا ''حکومت'' کا کچھ تعارف بھی ہو جائے اگر آپ کو یاد ہو تو ہم نے ان صفحات میں راجہ انور کی ایک کتاب کا ذکر کیا تھا جس کا نام ''بن باس'' ہے۔

راجہ صاحب نے جرمنی کا ایک واقعہ بیان کیا ہے کہ وہاں بچوں کی دیکھ بھال حکومت کے ادارے کرتے ہیں خصوصاً معذور بچوں کے لیے تو وظیفہ بھی ملتا ہے اور ادارہ نگرانی بھی کرتا ہے کہ بچے کی ٹھیک ٹھاک دیکھ بھال ہوتی ہے یا نہیں۔

ایسے ہی ایک کیس میں ادارے کو پتہ چلا کہ بچے کی دیکھ بھال میں اس کی ماں تساہل سے کام لے رہی ہے چنانچہ اس ماں کے خلاف کارروائی کا فیصلہ ہوا، کارروائی کرنے والوں سے کسی نے کہا کہ یہ عورت تو بچے کی اپنی سگی ماں ہے تو اس پر ادارے کے اہل کار نے کہا کہ سارے بچوں کی اصل اور سگی ماں حکومت ہوتی ہے۔

اب اس پر اور کیا تبصرہ کیا جائے کہ اپنے یہاں تو حکومت سگی ماں تو کیا سوتیلی ماں بلکہ سوتیلا باپ بھی نہیں ہوتی لیکن سعودی عرب کے بارے میں ہمیں تھوڑی بہت جانکاری حاصل ہے کہ وہاں کی حکومت بھی اپنے سارے بچوں کی ماں ہوتی ہے۔ سعودی حکومت بے شک نام کی حد تک جمہوری نہیں ہے اور بہت اچھا ہے کہ نہیں ہے ورنہ وہاں کے عوام کی حالت بھی ویسی ہی ہوتی جیسی ''مسلم جمہوریتوں'' میں ہے۔


بادشاہت میں تو یہ فائدہ ہوتا ہے کہ ایک ہی خاندان ہوتا ہے جب کہ جمہوریت میں قدم قدم پر شاہی بلکہ نادر شاہی خاندان ہوتے ہیں۔ ہر محکمہ ایک شاہی خاندان ہوتا ہے اور ہر سرکاری افسر یا وزیر شہنشاہ عالم ہوتا ہے، پھر اس کے ساتھ وقت کی قید الگ کہ جو کچھ کرتا ہے ان چار پانچ سال میں کرنا ہے اور وہ ''کر لیتا'' ہے۔

آپ نے پڑھا ہی ہو گا ہم نے ایک کالم میں ذکر بھی کیا تھا کہ سعودی عرب اس وقت تیل سے مالا مال ملک ہے لیکن وہاں کی حکومت ''ماں'' اور ماں کی مامتا کا یہ عالم ہے کہ اسے ابھی سے یہ فکر ہے کہ آیندہ سالوں بلکہ مستقبل بعید میں کبھی تو یہ تیل کے ذخائر کم ہوں گے پھر اس وقت اس کے ''بچے'' کیا کریں گے۔

بڑے مزے کی بات تو یہ ہے کہ سعودی عرب ''ماں'' کے پاس تیل ہی تیل ہے لیکن وہ سورج پر نظریں لگائے ہوئے ہیں حالاں کہ وہاں تیل سے بجلی پیدا کرنے میں کوئی دقت یا دشواری نہیں ہے لیکن ''ماں'' نے سوچا کہ اس سے پہلے کہ اس کے بچوں پر کوئی برا دن آئے متبادل بندوبست بھی کر لو ۔۔۔ اور ہم قرض لے لے کر سود دے دے کر تیل کے بجلی گھر چلا رہے ہیں ''بن ماں'' کے بچے جو ہوئے، ماں کو نئے نئے شوہروں سے فرصت ملے تو بچوں کے بارے میں کچھ سوچے۔

ایک اندازے کے مطابق سعودی عرب میں شاید 2020ء تک بجلی کا حصول سورج سے ہو جائے گا کیوں کہ دھوپ بھی بہت ہے اور بیٹریوں میں استعمال کرنے کے لیے سلیکون بنانے کے واسطے ریت بھی بہت ہے، یہ چیزیں ہمارے ہاں بھی ہے لیکن افسوس کہ ہماری ماں نہیں ہے۔

ایک پرانی انڈین فلم کا ایک منظر یاد آیا ۔اس میں دو بھائی ہیں، ایک غلط راستوں پر چل کر بہت دولت مند بن گیا اور دوسرا شاید معمولی تنخواہ پر پولیس میں ملازم ہے۔ مالدار اپنی ماں کو لے جانا چاہتا ہے جو غریب کے ہاں رہ رہی ہے۔ دونوں میں بحث ہوتی ہے۔ مالدار کہتا ہے، میرے پاس بنگلہ ہے، گاڑی ہے دولت ہے، تمہارے پاس کیا ہے، دوسرا نہایت ٹھہرے ہوئے لہجے میں کہتا ہے کہ میرے پاس ماں ہے۔

ہمارے پاس بھی بہت کچھ ہے وزیر ہیں، لیڈر ہیں، افسر ہیں، سب کچھ ہے لیکن سعودی عرب کے مقابلے میں تہی دست ہیں کہ ان کے پاس ماں ہے، یہ صرف تیل کا معاملہ نہیں سعودی ''ماں'' نے اس صحرائی ریت میں طرح طرح کی تدابیر کر کے زراعت کو بھی بام عروج پر پہنچایا، سعودی عرب اتنا غلہ اگاتا ہے کہ برآمد کر رہا ہے، اور ہم جو زرعی ملک میں وسیع زرخیز زمین رکھتے ہیں وافر پانی بہترین نہری نظام اور جفاکش کسان رکھتے ہیں، ٹھہر جایئے اس مقام پر چلیے سب مل کر خوب جی بھر کر روئیں کیوں کہ سامنے چادر کے نیچے زراعت کی لاش پڑی ہے

یہ لاش بے کفن اسد خستہ جاں کی ہے
حق مغفرت کرکے عجب آزاد مرد تھا

کسی ملک کا قومی دن کسی فرد کی سالگرہ کی طرح ہوتا ہے، اس دن وہ اپنے آگے پیچھے نظر ڈالتا ہے کہ سال گذشتہ میں نے کیا کیا ہے کتنا فائدہ کیا کتنا نقصان کیا، کتنی غلطیاں کیں ۔۔۔ اور آیندہ سال مجھے کیا کیا اور کس کس طرح کرنا ہے اس قوم و ملک کا قومی دن اور اس فرد کا سالگرہ کیا جس کے ماضی میں ہزار ناکامیاں ہوں اور مستقبل کے لیے جھولی میں سو چھید ہوں۔

ایسے میں تو قومی سوگ کا دن اور برسی منانے کی ضرورت ہوتی ہے، سعودی عرب کو قومی دن منانے کا حق ہے کیوں کہ وہ ایک کامیاب اور مامتا سے بھرپور ماں ہے ایسی کامیاب ماں ہر روز ایسے دن منائے تو بھی اسے حق ہے اور چاہے اس کا نام کچھ بھی ہو۔
Load Next Story