’’میں بھی ایک بھیڑ ہوں‘‘
توفیق ہو یا نہ ہو ۔قربانی ہمارے کلچر کا حصہ ہے
Abdulqhasan@hotmail.com
ہمارے منتخب نمایندوں نے اپنے لیے جو غیر معمولی بلکہ غریب و مسکین پاکستان کی حد تک جو حیران کن مراعات ارزاں کر رکھی ہیں۔
میں ان پر حیرت زدہ ہو کر پاکستانیوں کی غیرت کو جگانے کی ایک اور ناکام کوشش کرنا چاہتا تھا لیکن بیچ میں سیکڑوں نہیں ہزاروں بیمار بھیڑیں آ گئیں۔
یہ بھیڑیں ایک پاکستانی نے اپنے ہموطنوں کی توانائی کے لیے درآمد کیں لیکن اس پاکستانی کے ساتھ 'دھوکہ' ہوا اور یہ بھیڑیں بیمار نکل آئیں۔ اب ان کو تلف کرنا ایک اور مسئلہ بن گیا ہے جب کہ پاکستانی درآمد کنندہ کہتا ہے کہ یہ بیمار نہیں ہیں۔
بھیڑیں جو ایک کمزور ترین جانورہے اس کی کچھ تعداد شاید بیمار نکلی لیکن باقی ہزاروں بھیڑ چال میں بیمار پڑ گئیں۔
اب سب کو بیمار ہی کہنا پڑے گا۔ پاکستانیوں نے فیصلہ کیا ہے کہ وہ اب ایک عرصہ تک بھیڑ کا گوشت نہیں کھائیں گے یعنی جب تک یہ یقین نہ ہو جائے کہ یہ سب بھیڑیں ٹھکانے لگ چکی ہیں۔
میں نے طے کیا ہے کہ ان بھیڑوں کو بھی قبول نہیں کروں گا جو میرے گائوں کے ریوڑ میں پل رہی ہیں اور ان میں سے کچھ آنے والی قربانی پر ذبح ہونے والی ہیں۔ اب قربانی کے لیے لاہور سے دنبہ نہیں بکرا خریدوں گا۔
توفیق ہو یا نہ ہو ۔قربانی ہمارے کلچر کا حصہ ہے، اس لیے اس سے مفر نہیں۔ ہمارے ایڈیٹر سید سبط حسن پکے سو فی صد کمیونسٹ تھے لیکن خاندانی شیعہ تھے۔
اس لیے محرم پر سیاہ قمیض پہن لیتے تھے اور کہتے تھے کہ ان دنوں سیاہ کپڑے ہمارے کلچر کا حصہ ہیں چنانچہ قرض بھی کیوں نہ لینا پڑے قربانی تو ہمارے کلچر کا حصہ ہے اور میرے جیسے سفید پوش کے لیے لازم ہے کہ اس کی پابندی کرے ورنہ بے عزت ہو جائے۔
میں نے جب ٹی وی پر تا حد نظر پھیلی ہوئی بھیڑیں دیکھیں تو اپنی پیپلز پارٹی کو داد دی کہ اتنے بڑے پیمانے پر بھیڑیں اور وہ بھی بیمار صرف وہی جمع کر سکتی ہے۔
مجھے یہ معلوم نہیں ہو سکا کہ اس سودے میں کرپشن کی شرح کیا ہے کیونکہ ہماری اس عوامی حکومت میں کوئی بھی کام کرپشن کی نیکی کے بغیر نہیں ہو سکتا۔
میں نے جب بھیڑوں کا یہ بے بس ہجوم دیکھا تو مجھے اس معصوم جانور پر بہت ترس آیا۔ نہ معلوم اسے ان دنوں چارہ کہاں سے مل رہا ہے بلکہ اتنا پانی بھی کہاں سے ملتا ہو گا کہ وہ پیاس بجھا سکیں۔ پاکستانی انسانوں کے ساتھ تو حکومت نے جو سلوک کیا ہے اور جس کے نظارے ہم خود ہی ہر روز دیکھتے ہیں اس نے بھیڑ ایسے معصوم جانور کو بھی معاف نہیں کیا۔
یہ دل گردہ اسی پارٹی کا ہو سکتا ہے بہر حال بھیڑوں پر تو جو گزرے گی وہ ہم سب دیکھیں گے۔ یہ سپریم کورٹ نے دوغلے اراکین اسمبلی کو رخصت کر کے جو کچھ کر دیا ہے اس کی خبروں سے معلوم ہوا کہ ان خواتین و حضرات کو جن کی تعداد فی الحال غالباً گیارہ ہے اپنی مراعات اور تنخواہ وغیرہ کے سوا کروڑ روپے سے زیادہ واپس کرنے ہوں گے یعنی اسمبلی کی رکنیت کا سارا مزہ کرکرا ہی نہیں بالکل تباہ ہو جائے گا۔
سرسری سا جائزہ لینے سے پتہ چلتا ہے کہ ایک رکن قومی اسمبلی جس نے چار برس تک یہ عیاشی کی ہے وہ ایک کروڑ روپے سے زائد رقم واپس کرے گا۔ عدالت عظمیٰ نے یہ ان اراکین کا ذکر کیا ہے جو دہری شہریت کی وجہ سے پاکستان کی کسی اسمبلی کی رکنیت کے مجاز ہی نہیں تھے۔
ٹیلی فون پر ایک پیغام موصول ہوا جو ایک سوال و جواب کی صورت میں تھا، اس میں کسی نے پوچھا کہ کیا آپ بتا سکتے ہیں سب سے سستا کھانا پینا کہاں سے ملتا ہے۔ جواب تھا اسمبلی کے کیفی ٹیریا سے۔ پھر انھوں نے چائے کھانے کے نرخ نقل کیے۔
جی چاہا کہ کسی رکن اسمبلی کی منت کریں کہ وہ جب اپنا کھانا کھا لیں تو ہمارے لیے بھی ایک پوٹلی میں اپنا بچا کھچا باندھ لیا کریں،یہ ویسے ایک لطیفہ ہے کہ تمہاری ڈیوٹی صرف اتنی ہے کہ تم خود داتا دربار سے کھا آیا کرو اور میرے لیے لے آیا کرو۔
سرکار نے پٹرول پھر مہنگا کر دیا ہے، بات یہ نہیں کہ پٹرول باہر کہیں مہنگا ہوجاتا ہے اور ہمیں بھی مہنگا خریدنا پڑتا ہے بلکہ عوام سے رقم نکالنے کا اس سے بہتر طریقہ اور کوئی نہیں ہے۔ ٹیکس لگائیں تو ہنگامہ اور اس کی وصولی ایک بہت ہی مشکل کام۔ پٹرول تو سب نے لینا ہی ہے اور پٹرول فروش کمپنیوں کے ساتھ حکومت معاملہ طے کر کے اپنا حصہ نقد لے لیتی ہے۔
معلوم ہوا کہ حکمرانوں کے غیر معمولی اخراجات جن میں درگاہوں کی نذر و نیاز بھی شامل ہے خزانے سے پورے نہیں ہو سکتے۔ وہ اسی طرح پورے کیے جاتے ہیں اور حکمران بھی کیا جسے دیکھیں وہ ضمانت کی درخواست لے کر کسی عدالت کے برآمدہ میں حاضر ہے۔
لاکھوں کے ضمانتی مچلکے ہیں یا پھر موقع پاتے ہی ملک سے باہر بھاگ جاتا ہے مثلاً ہمارے سابق وزیراعظم کے قومی اسمبلی کے رکن صاحبزادے بھی کہیں کسی ملک میں گم ہیں اور واپسی کا کسی کو معلوم نہیں سوائے ان کے والد ماجد کے۔
ایک حکمران کا معاملہ تو قومی مسئلہ ہے جو حل ہی نہیں ہو رہا، ایک وزیراعظم نکلتاہے تو دوسرا باہر جانے کے لیے تیار ہوتا ہے مگر مسئلہ جوں کا توں ہے۔
ان تمام مسئلوں سے بڑھکر میرا بھی ایک مسئلہ ہے یا تو مجھے میری ضرورت کے مطابق ماہانہ الائونس دیا جائے یا پھر مجھے بھیڑوں کے اس ہزاروں پر مشتمل ریوڑ میں دھکیل دیا جائے تاکہ وہاں ممیاتے ممیاتے مر کھپ جائوں۔
ویسے ان بھیڑوں کو بچانے کے لیے ہر کوشش کی جا رہی ہے کیونکہ ان پر مال خرچ ہوا ہے اور ان سے مال کی آمد بھی یقینی ہے جب کہ میں ایک بیمار بھیڑ کی قیمت کا بھی نہیں ہوں، آزما کر دیکھ لیجیے بلکہ یوں کہیں کہ بیچ کر دیکھ لیجیے کہ بازار میں اس جانور کی کیا قیمت ہے، اس لیے اسے بیمار بھیڑوں میں ہی پھینک دیں۔
میں ان پر حیرت زدہ ہو کر پاکستانیوں کی غیرت کو جگانے کی ایک اور ناکام کوشش کرنا چاہتا تھا لیکن بیچ میں سیکڑوں نہیں ہزاروں بیمار بھیڑیں آ گئیں۔
یہ بھیڑیں ایک پاکستانی نے اپنے ہموطنوں کی توانائی کے لیے درآمد کیں لیکن اس پاکستانی کے ساتھ 'دھوکہ' ہوا اور یہ بھیڑیں بیمار نکل آئیں۔ اب ان کو تلف کرنا ایک اور مسئلہ بن گیا ہے جب کہ پاکستانی درآمد کنندہ کہتا ہے کہ یہ بیمار نہیں ہیں۔
بھیڑیں جو ایک کمزور ترین جانورہے اس کی کچھ تعداد شاید بیمار نکلی لیکن باقی ہزاروں بھیڑ چال میں بیمار پڑ گئیں۔
اب سب کو بیمار ہی کہنا پڑے گا۔ پاکستانیوں نے فیصلہ کیا ہے کہ وہ اب ایک عرصہ تک بھیڑ کا گوشت نہیں کھائیں گے یعنی جب تک یہ یقین نہ ہو جائے کہ یہ سب بھیڑیں ٹھکانے لگ چکی ہیں۔
میں نے طے کیا ہے کہ ان بھیڑوں کو بھی قبول نہیں کروں گا جو میرے گائوں کے ریوڑ میں پل رہی ہیں اور ان میں سے کچھ آنے والی قربانی پر ذبح ہونے والی ہیں۔ اب قربانی کے لیے لاہور سے دنبہ نہیں بکرا خریدوں گا۔
توفیق ہو یا نہ ہو ۔قربانی ہمارے کلچر کا حصہ ہے، اس لیے اس سے مفر نہیں۔ ہمارے ایڈیٹر سید سبط حسن پکے سو فی صد کمیونسٹ تھے لیکن خاندانی شیعہ تھے۔
اس لیے محرم پر سیاہ قمیض پہن لیتے تھے اور کہتے تھے کہ ان دنوں سیاہ کپڑے ہمارے کلچر کا حصہ ہیں چنانچہ قرض بھی کیوں نہ لینا پڑے قربانی تو ہمارے کلچر کا حصہ ہے اور میرے جیسے سفید پوش کے لیے لازم ہے کہ اس کی پابندی کرے ورنہ بے عزت ہو جائے۔
میں نے جب ٹی وی پر تا حد نظر پھیلی ہوئی بھیڑیں دیکھیں تو اپنی پیپلز پارٹی کو داد دی کہ اتنے بڑے پیمانے پر بھیڑیں اور وہ بھی بیمار صرف وہی جمع کر سکتی ہے۔
مجھے یہ معلوم نہیں ہو سکا کہ اس سودے میں کرپشن کی شرح کیا ہے کیونکہ ہماری اس عوامی حکومت میں کوئی بھی کام کرپشن کی نیکی کے بغیر نہیں ہو سکتا۔
میں نے جب بھیڑوں کا یہ بے بس ہجوم دیکھا تو مجھے اس معصوم جانور پر بہت ترس آیا۔ نہ معلوم اسے ان دنوں چارہ کہاں سے مل رہا ہے بلکہ اتنا پانی بھی کہاں سے ملتا ہو گا کہ وہ پیاس بجھا سکیں۔ پاکستانی انسانوں کے ساتھ تو حکومت نے جو سلوک کیا ہے اور جس کے نظارے ہم خود ہی ہر روز دیکھتے ہیں اس نے بھیڑ ایسے معصوم جانور کو بھی معاف نہیں کیا۔
یہ دل گردہ اسی پارٹی کا ہو سکتا ہے بہر حال بھیڑوں پر تو جو گزرے گی وہ ہم سب دیکھیں گے۔ یہ سپریم کورٹ نے دوغلے اراکین اسمبلی کو رخصت کر کے جو کچھ کر دیا ہے اس کی خبروں سے معلوم ہوا کہ ان خواتین و حضرات کو جن کی تعداد فی الحال غالباً گیارہ ہے اپنی مراعات اور تنخواہ وغیرہ کے سوا کروڑ روپے سے زیادہ واپس کرنے ہوں گے یعنی اسمبلی کی رکنیت کا سارا مزہ کرکرا ہی نہیں بالکل تباہ ہو جائے گا۔
سرسری سا جائزہ لینے سے پتہ چلتا ہے کہ ایک رکن قومی اسمبلی جس نے چار برس تک یہ عیاشی کی ہے وہ ایک کروڑ روپے سے زائد رقم واپس کرے گا۔ عدالت عظمیٰ نے یہ ان اراکین کا ذکر کیا ہے جو دہری شہریت کی وجہ سے پاکستان کی کسی اسمبلی کی رکنیت کے مجاز ہی نہیں تھے۔
ٹیلی فون پر ایک پیغام موصول ہوا جو ایک سوال و جواب کی صورت میں تھا، اس میں کسی نے پوچھا کہ کیا آپ بتا سکتے ہیں سب سے سستا کھانا پینا کہاں سے ملتا ہے۔ جواب تھا اسمبلی کے کیفی ٹیریا سے۔ پھر انھوں نے چائے کھانے کے نرخ نقل کیے۔
جی چاہا کہ کسی رکن اسمبلی کی منت کریں کہ وہ جب اپنا کھانا کھا لیں تو ہمارے لیے بھی ایک پوٹلی میں اپنا بچا کھچا باندھ لیا کریں،یہ ویسے ایک لطیفہ ہے کہ تمہاری ڈیوٹی صرف اتنی ہے کہ تم خود داتا دربار سے کھا آیا کرو اور میرے لیے لے آیا کرو۔
سرکار نے پٹرول پھر مہنگا کر دیا ہے، بات یہ نہیں کہ پٹرول باہر کہیں مہنگا ہوجاتا ہے اور ہمیں بھی مہنگا خریدنا پڑتا ہے بلکہ عوام سے رقم نکالنے کا اس سے بہتر طریقہ اور کوئی نہیں ہے۔ ٹیکس لگائیں تو ہنگامہ اور اس کی وصولی ایک بہت ہی مشکل کام۔ پٹرول تو سب نے لینا ہی ہے اور پٹرول فروش کمپنیوں کے ساتھ حکومت معاملہ طے کر کے اپنا حصہ نقد لے لیتی ہے۔
معلوم ہوا کہ حکمرانوں کے غیر معمولی اخراجات جن میں درگاہوں کی نذر و نیاز بھی شامل ہے خزانے سے پورے نہیں ہو سکتے۔ وہ اسی طرح پورے کیے جاتے ہیں اور حکمران بھی کیا جسے دیکھیں وہ ضمانت کی درخواست لے کر کسی عدالت کے برآمدہ میں حاضر ہے۔
لاکھوں کے ضمانتی مچلکے ہیں یا پھر موقع پاتے ہی ملک سے باہر بھاگ جاتا ہے مثلاً ہمارے سابق وزیراعظم کے قومی اسمبلی کے رکن صاحبزادے بھی کہیں کسی ملک میں گم ہیں اور واپسی کا کسی کو معلوم نہیں سوائے ان کے والد ماجد کے۔
ایک حکمران کا معاملہ تو قومی مسئلہ ہے جو حل ہی نہیں ہو رہا، ایک وزیراعظم نکلتاہے تو دوسرا باہر جانے کے لیے تیار ہوتا ہے مگر مسئلہ جوں کا توں ہے۔
ان تمام مسئلوں سے بڑھکر میرا بھی ایک مسئلہ ہے یا تو مجھے میری ضرورت کے مطابق ماہانہ الائونس دیا جائے یا پھر مجھے بھیڑوں کے اس ہزاروں پر مشتمل ریوڑ میں دھکیل دیا جائے تاکہ وہاں ممیاتے ممیاتے مر کھپ جائوں۔
ویسے ان بھیڑوں کو بچانے کے لیے ہر کوشش کی جا رہی ہے کیونکہ ان پر مال خرچ ہوا ہے اور ان سے مال کی آمد بھی یقینی ہے جب کہ میں ایک بیمار بھیڑ کی قیمت کا بھی نہیں ہوں، آزما کر دیکھ لیجیے بلکہ یوں کہیں کہ بیچ کر دیکھ لیجیے کہ بازار میں اس جانور کی کیا قیمت ہے، اس لیے اسے بیمار بھیڑوں میں ہی پھینک دیں۔