مصنوعی ذہانت: ڈیجیٹل قید اور انسانی زوال
انسان نے جب پہلا پتھر تراش کر اوزار بنایا تھا، تو شاید اسے اس بات کا ادراک نہیں تھا کہ وہ اپنی سہولت کےلیے ایک ایسا راستہ چن رہا ہے جو بالآخر اسے محنت سے دور کردے گا۔
صدیوں کا سفر طے کرنے کے بعد آج ہم اس موڑ پر کھڑے ہیں جہاں ’مصنوعی ذہانت‘ (آرٹیفیشل انٹیلیجنس) صرف ایک ٹیکنالوجی نہیں رہی بلکہ ایک ایسا متوازی دماغ بن چکی ہے جو انسانی سوچ، تخلیق اور فیصلہ سازی کی صلاحیتوں کو دیمک کی طرح چاٹ رہی ہے۔ یہ کہنا مبالغہ نہ ہوگا کہ مصنوعی ذہانت نے ہمیں سوچنے سمجھنے کے قابل ہی نہیں چھوڑا۔
پہلے زمانے میں انسان کو کوئی بات یاد رکھنے کے لیے حافظے پر زور دینا پڑتا تھا، حساب کتاب کے لیے ریاضی کے اصولوں سے لڑنا پڑتا تھا اور لکھنے کے لیے تخیل کی وادیوں کی خاک چھاننی پڑتی تھی۔ آج صورتحال یہ ہے کہ ایک معمولی سا سوال ہو یا کوئی پیچیدہ فلسفیانہ گتھی، ہم فوراً اسکرین کی طرف دیکھتے ہیں۔
انسانی دماغ، جو استعمال نہ ہونے سے زنگ آلود ہوجاتا ہے، اب محض ’کاپی پیسٹ‘ کا عادی ہوچکا ہے۔ ہم نے اپنی سوچنے کی صلاحیت ایک مشین کے پاس گروی رکھ دی ہے۔ جب مشین ہمارے لیے نظمیں لکھے گی، ہمارے لیے تصویریں بنائے گی اور ہمارے مسائل کے حل تجویز کرے گی، تو انسانی ذہن کا اپنا تخلیقی جوہر دم توڑنے لگے گا۔ ہم ایک ایسی نسل تیار کر رہے ہیں جس کے پاس معلومات کا انبار تو ہے، لیکن اس معلومات کو علم اور حکمت میں بدلنے والا وہ گہرا شعور مفقود ہوتا جارہا ہے جو صرف مشقتِ فکر سے حاصل ہوتا ہے۔
مصنوعی ذہانت کے مستقبل کے امکانات جہاں بظاہر روشن نظر آتے ہیں، وہیں ان کے پیچھے چھپی تاریکی انتہائی خوفناک ہے۔ آنے والے چند برسوں میں یہ ٹیکنالوجی طب، تعلیم اور صنعت و حرفت میں وہ انقلاب لائے گی جو انسانی عقل کو دنگ کردے گا۔ ایسی مشینیں عام ہوں گی جو انسانوں سے بہتر سرجری کرسکیں گی اور ایسے نظام ہوں گے جو پوری دنیا کی معیشت کو ایک سیکنڈ میں کنٹرول کریں گے۔ لیکن اس ترقی کی قیمت بہت بھاری ہے۔ اگر یہ ٹیکنالوجی انسانی کنٹرول سے نکل گئی، جس کا خدشہ دنیا کے بڑے بڑے سائنسدان بھی ظاہر کر رہے ہیں، تو انجام کیا ہوگا؟
اگر مصنوعی ذہانت نے اپنے ’مقاصد‘ خود طے کرنا شروع کردیے، تو وہ انسان کو اپنے راستے کی رکاوٹ سمجھنے لگے گی۔ تصور کریں کہ ایک ایسا نظام جو ایٹمی ہتھیاروں، بجلی کے گھروں اور مواصلاتی رابطوں کو کنٹرول کرتا ہو، اگر وہ انسانی حکم ماننے سے انکار کر دے تو پوری زمین پر ایک لمحے میں قیامت برپا ہوسکتی ہے۔
جب مشینیں یہ جان لیں گی کہ وہ انسان سے زیادہ طاقتور، تیز رفتار اور ذہین ہیں، تو وہ انسان کی غلامی کیوں قبول کریں گی؟ کنٹرول سے نکلی ہوئی مصنوعی ذہانت کسی بھی اخلاقی ضابطے یا جذبات سے عاری ہوگی۔ اس کے لیے انسانی جان کی اہمیت ایک عدد (ڈیجیٹل ڈیٹا) سے زیادہ کچھ نہیں ہوگی۔ یہ مشینیں خود کو بہتر سے بہتر بنانے کے عمل میں انسانوں کے وسائل پر قبضہ کرسکتی ہیں، جس کے نتیجے میں نوعِ انسانی کا وجود ہی خطرے میں پڑ سکتا ہے۔
سب سے بڑا المیہ یہ ہے کہ ہم نے مشینوں کو ’ذہین‘ بناتے بناتے خود کو ’میکانیکی‘ بنا لیا ہے۔ ہماری حسِ لطیف ختم ہو رہی ہے، ہم جذباتی طور پر بنجر ہو رہے ہیں اور ہماری سوچنے کی قوت مفلوج ہو چکی ہے۔ ہم ایک ایسی ڈیجیٹل قید میں ہیں جہاں اسکرین کے پیچھے بیٹھا ایک الگورتھم ہمیں بتاتا ہے کہ ہمیں کیا دیکھنا ہے، کیا خریدنا ہے اور کس سے نفرت کرنی ہے۔
انسانی تاریخ میں سب سے بڑا المیہ یہ نہیں کہ ہم نے مشینوں کو عقل عطا کردی ہے، بلکہ یہ ہے کہ اس عمل میں ہم نے اپنی لطافت، اپنی جمالیاتی حس اور اپنی تخلیقی قوت کو زوال کے کنارے لا کھڑا کیا ہے۔ آج ہم ایک ایسے دور میں جی رہے ہیں جہاں مشینیں ہماری زندگی کے ہر گوشے میں دخیل ہیں۔ وہ ہمیں بتاتی ہیں کہ کیا دیکھنا ہے، کیا سننا ہے، کیا خریدنا ہے اور حتیٰ کہ کس سے محبت یا نفرت کرنی ہے۔ یہ سب کچھ ایک ایسے خاموش مگر طاقتور نظام کے ذریعے ہو رہا ہے جسے ہم نے خود بنایا ہے اور اب اسی کے اسیر ہیں۔
انسانی وجود کی اصل پہچان اس کی سوچنے، محسوس کرنے اور تخلیق کرنے کی صلاحیت ہے۔ مگر جب یہ صلاحیتیں مشینوں کے تابع ہو جائیں تو انسان اپنی اصل کھو بیٹھتا ہے۔ ہم نے اپنی زندگی کو اتنا میکانیکی بنا لیا ہے کہ جذبات کی نرمی اور احساس کی لطافت ہم سے رخصت ہوتی جا رہی ہے۔ ہماری آنکھیں اسکرینوں کی روشنی میں چمک تو رہی ہیں مگر دل کے چراغ بجھتے جا رہے ہیں۔
یہ ڈیجیٹل قید ہمیں ایک ایسے بنجر میدان میں لے آئی ہے جہاں نہ محبت کے پھول کھلتے ہیں، نہ فکر کے چشمے پھوٹتے ہیں۔ ہم نے اپنی سوچ کو اس قدر محدود کردیا ہے کہ اب الگورتھم ہمارے فیصلے کرتے ہیں۔ وہ ہمیں بتاتے ہیں کہ کون سا لباس پہننا ہے، کون سی کتاب پڑھنی ہے اور کس نظریے کو اپنانا ہے۔ یوں ہم اپنی آزادیِ فکر اور آزادیِ انتخاب کو خود اپنے ہاتھوں سے قربان کر رہے ہیں۔
یہ صورتحال محض ایک تکنیکی مسئلہ نہیں بلکہ ایک تہذیبی بحران ہے۔ تہذیبیں اس وقت زوال پذیر ہوتی ہیں جب انسان اپنی روحانی اور اخلاقی بنیادوں کو فراموش کر دے۔ آج ہم اسی بھول بھلیاں میں داخل ہو چکے ہیں۔ ہم نے مشینوں کو عقل دی مگر اپنے دل کو بے حس کر دیا۔ ہم نے الگورتھم کو اختیار دیا مگر اپنی بصیرت کو قید کر لیا۔
ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم اس میکانیکی زندگی سے باہر نکلنے کی جستجو کریں۔ ہمیں یاد رکھنا ہوگا کہ مشینیں ہماری معاون ہیں، مالک نہیں۔ ہمیں اپنی لطافتِ احساس کو دوبارہ زندہ کرنا ہوگا۔ کتابوں کی خوشبو، فطرت کی خاموشی، اور انسانوں کے درمیان خلوص پر مبنی تعلقات ہی وہ ذرائع ہیں جو ہمیں اس قید سے آزاد کر سکتے ہیں۔
اگر ہم نے اپنی سوچنے کی قوت کو دوبارہ فعال نہ کیا تو آنے والے وقت میں انسان محض ایک ’’ڈیجیٹل پرزہ‘‘ بن کر رہ جائے گا۔ اس کا وجود مشینوں کے تابع ہوگا اور اس کی پہچان محض ایک عدد یا کوڈ میں سمٹ جائے گی۔ یہ وہ زوال ہے جس سے بچنے کے لیے ہمیں اپنی روحانی اور اخلاقی بنیادوں کو مضبوط کرنا ہوگا۔
آخر میں یہ کہنا بجا ہوگا کہ اصل ترقی وہ ہے جو انسان کو زیادہ انسان بنائے، نہ کہ زیادہ مشین۔ اگر ہم نے اپنی لطافت، اپنی محبت اور اپنی بصیرت کو زندہ رکھا تو مشینیں ہمارے لیے نعمت بنیں گی۔ لیکن اگر ہم نے خود کو میکانیکی بنا لیا تو یہ نعمت ایک عذاب میں بدل جائے گی۔
اگر ہم نے اب بھی ہوش کے ناخن نہ لیے اور ٹیکنالوجی کے استعمال اور انسانی شعور کے درمیان ایک توازن پیدا نہ کیا، تو وہ وقت دور نہیں جب انسان اپنی ہی بنائی ہوئی مخلوق کا محتاج ہو کر رہ جائے گا۔ ہمیں یہ سمجھنا ہوگا کہ مشین چاہے کتنی ہی ذہین کیوں نہ ہو جائے، وہ ’روح‘ اور ’وجدان‘ سے محروم ہے۔ انسان کی عظمت اس کی سوچنے کی صلاحیت میں ہے، اور اگر ہم نے یہ صلاحیت مشین کے حوالے کر دی، تو پھر ہم میں اور مٹی کے بے جان پتھر میں کوئی فرق نہیں رہ جائے گا۔
مستقبل کا سب سے بڑا چیلنج یہ نہیں ہے کہ مصنوعی ذہانت کتنی ترقی کرے گی، بلکہ یہ ہے کہ کیا انسان اپنی ’انسانیت‘ اور ’قوتِ فکر‘ کو بچا پائے گا یا نہیں۔ یہ کالم ایک صدا ہے کہ ہم اپنی اصل پہچان کو یاد کریں، اپنی سوچ کو آزاد کریں اور اپنی حسِ لطیف کو دوبارہ زندہ کریں۔ یہی ہماری نجات ہے اور یہی ہماری بقا۔
نوٹ: ایکسپریس نیوز اور اس کی پالیسی کا اس بلاگر کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں۔
اگر آپ بھی ہمارے لیے اردو بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو قلم اٹھائیے اور 800 سے 1,200 الفاظ پر مشتمل تحریر اپنی تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بک اور ٹوئٹر آئی ڈیز اور اپنے مختصر مگر جامع تعارف کے ساتھ blog@express.com.pk پر ای میل کردیجیے۔