پاکستان نے 70 کروڑ ڈالرزکا چینی قرض واپس کر دیا
پاکستان نے اس ہفتے چین کے کمرشل قرض کی مد میں 70کروڑڈالرز واپس کر دیے ہیں،جس کے بعد اسٹیٹ بینک کے زرمبادلہ ذخائرکم ہوکر 15.5 ارب ڈالررہ گئے ہیں۔
ذرائع کے مطابق یہ رقم چائنا ڈیولپمنٹ بینک کو ادا کی گئی،جس نے اس سے قبل اسی قرض کو تین برس کیلیے رول اوورکیا تھا۔
حکومتی ذرائع کا کہنا ہے کہ ایک اور ایک ارب ڈالرکاسی ڈی بی قرض جون میں میچورہو رہاہے، جسے حکومت مالی سال کے اختتام سے قبل ری فنانس کرانے کی امید میں قبل از وقت واپس کرنے پر غورکر رہی ہے۔
یہ پیش رفت ایسے وقت میں ہوئی ہے جب آئی ایم ایف کامشن 25 فروری سے 11مارچ تک پاکستان کادورہ کریگا،مشن توسیعی فنڈسہولت کے تحت ایک ارب ڈالرزکی قسط اور 20کروڑ ڈالرزسے زائدکی موسمیاتی فنانسنگ کی منظوری کیلیے جائزہ مذاکرات کریگا۔
آئی ایم ایف ٹیم ابتدائی تین روزکراچی میں قیام کے بعد 2 مارچ سے وفاقی حکومت کے ساتھ باضابطہ بات چیت شروع کریگی۔
ذرائع کے مطابق پاکستان اس وقت چین، عرب امارات اور سعودی عرب کی مالی معاونت پر انحصارکر رہاہے، چین کی جانب سے 6.6 ارب ڈالرزکے کمرشل قرضے، 4 ارب ڈالرزکے نقد ڈپازٹس اور 4.5 ارب ڈالرزکی کریڈٹ سوَیپ سہولت فراہم کی گئی ہے،جو کم برآمدات اورمحدودبراہِ راست غیر ملکی سرمایہ کاری کے تناظر میں معیشت کیلیے اہم سہارا ہیں۔
وزارتِ خزانہ کی سالانہ قرض پالیسی رپورٹ کے مطابق جون 2025 تک بیرونی سرکاری قرض 6 فیصد اضافے کے ساتھ 91.8 ارب ڈالر تک پہنچ گیا،جس میں کثیرالجہتی اداروں خصوصاً آئی ایم ایف سے قرضوں میں نمایاں اضافہ شامل ہے۔
کمرشل بینکوں سے قرضہ بھی بڑھا،جس کی بڑی وجہ ایشیائی ترقیاتی بینک کی پالیسی گارنٹی کے تحت حاصل کردہ ایک ارب ڈالرکاقرض بتایاگیاہے۔
عرب امارات نے حال ہی میں 2 ارب ڈالرزکے ڈپازٹ کو ایک ماہ کیلیے رول اوورکیاہے، جس کے بعدطویل المدتی توسیع اورشرح سودمیں کمی پر بات چیت جاری ہے۔ ذرائع کاکہناہے کہ چین،سعودی عرب اور یو اے ای کے تقریباً 12.5 ارب ڈالرزکے سالانہ رول اوورڈپازٹس پر انحصارکی پالیسی پر بھی اندرونی سطح پر غورکیاجارہاہے۔
وزیرِاعظم نے حالیہ خطاب میں کہاکہ قرض لیناقومی خودداری پربوجھ ہے اورقرض دہندگان کی شرائط ملکی خودمختاری متاثرکرتی ہیں۔ وزیر خزانہ محمد اورنگزیب کاکہناہے کہ پاکستان کی بیرونی فنانسنگ ضروریات پوری ہوچکی ہیں اورکسی قسم کافوری خلا موجود نہیں ہے۔