سیلاب زدگان اور انتخابات زدگان
بے شمار شہر اور گائوں سیلابی ریلوں میں ڈوبے ہوئے ہیں
zaheerakhtar_beedri@yahoo.com
پاکستان کے چاروں صوبے اس سال بھی مون سون کی زد میں ہیں۔
پنجاب، خیبر پختون خوا، بلوچستان اور سندھ میں سیلاب سے سیکڑوں افراد ہلاک اور لاکھوں بے گھر ہوگئے ہیں۔
ہم ٹی وی اسکرین پر سیلاب زدگان کی حالتِ زار کا ہر روز مشاہدہ کررہے ہیں۔ بے شمار شہر اور گائوں سیلابی ریلوں میں ڈوبے ہوئے ہیں۔
لوگ خشک اور محفوظ مقامات کی تلاش میں مارے مارے پھر رہے ہیں۔ جن لوگوں کو کوئی محفوظ جگہ مل جاتی ہے وہ اپنی پھٹی پرانی چادریں تان کر اپنے بیوی بچّوں کو اس ''محفوظ'' جدید شامیانوں میں بٹھادیتے ہیں جہاں نہ بارش سے پناہ ملتی ہے، نہ دھوپ سے۔
پھر یہ سیلاب کے مارے لوگ کسی مہربان کی یا حکومت کی طرف سے مہیا کی جانے والی روٹی کے انتظار میں آسمان کی طرف نظریں جمائے بیٹھے رہتے ہیں۔ چونکہ بھوکے، پیاسے سیلاب زدگان کی تعداد لاکھوں تک پہنچ گئی ہے، اس لیے ایک مربوط طریقے سے ان بھوکوں کو روٹی پہنچانا آسان نہیں ہے۔ اس لیے بھوکوں کے یہ ہجوم روٹی لانے والی گاڑیوں پر ٹوٹ پڑتے ہیں۔
میں جب ان انتظامی اور عوامی بدنظمیوں پر نظر ڈالتا ہوں تو میرے ذہن میں یہ تاثر ابھرتا ہے کہ یہ ساری بدنظمیاں اس وجہ سے پیدا ہورہی ہیں کہ ہم ''سویلائزڈ'' لوگ نہیں ہیں۔
جب میرے ذہن میں یہ تاثر ابھرتا ہے تو اس ملک کے باشندے دو حصّوں میں تقسیم ہو کر میرے سامنے آجاتے ہیں۔ ایک حصہ اس بھاری اکثریت کا ہوتا ہے جو سیلابوں سے پہلے سیلابوں کے دوران اور سیلابوں کے بعد ہمیشہ روٹی کے حصول میں سرگرداں رہتی دِکھائی دیتی ہے۔
جن لوگوں کو روٹی میسر نہیں، جن کے بچّے تعلیم سے محروم ہیں، جن کے خاندان ایسی رہایش گاہوں سے محروم ہیں جو سیلابی ریلوں کا مقابلہ کرسکیں۔ ایسے مجبور، مظلوم، علم و شعور سے محروم انسانوں سے اگر ہم ''سویلائزڈ'' ہونے کی امید رکھیں تو یہ امید اس لیے بے جواز نظر آتی ہے کہ یہ بھاری اکثریت ''سویلائزیشن'' کے معنی ہی سے ناواقف ہوتی ہے کیونکہ دیہی علاقوں میں قلعہ نما حویلیوں میں سیزنل قیام کرنے والے جاگیردار اور وڈیرے اس 60 فیصد دیہی آبادی کو روٹی کے حصول میں ہی اس قدر مصروف رکھتے ہیں کہ ان کا ذہن نہ سویلائزیشن کی طرف جاتا ہے، نہ وہ تہذیب و تمدن کی اصطلاحوں سے واقف ہوتے ہیں۔
کہا جارہا ہے کہ سندھ میں اس سال جو سیلاب آیا ہے، وہ 2010 کے سیلاب سے زیادہ تباہ کن ہے۔ مون سون کا سیزن شروع ہونے سے قبل ہم اعلیٰ حکام کی طرف سے یہ بیانات اور یقین دہانیاں بڑے تواتر سے میڈیا میں دیکھتے رہے کہ اس سال سیلاب سے نمٹنے کی پوری پوری تیاریاں کرلی ہیں۔
لیکن جب آج ہم ماضی کی طرح سیلاب زدگان کو اپنے جھونپڑوں اور کچے گھروں کو چھوڑ کر خشک جگہوں، سڑکوں کے کنارے، بھوک پیاس، بیماریوں میں گِھرے دیکھ رہے ہیں تو حکمرانوں کی ساری یقین دہانیاں، اپوزیشن کی ساری ہمدردیاں سیلابی پانی میں بہتی نظر آتی ہیں اور یہ سارے آئیکون سیلاب زدگان کی لاشوں پر کھڑے انتخابات زدگان نظر آتے ہیں۔
2010 کے سیلاب زدگان کی مکمل بحالی اب تک نہیں ہوسکی۔ حالیہ سیلاب زدگان کے لیے صوبائی اور وفاقی حکومت جو امداد دے رہی ہے، یہ اور بیرونی ملکوں سے ملنے والی امداد سے سیلاب زدگان کی آبادکاری تو ممکن نہیں البتہ اشک شوئی ہوسکتی ہے۔
ہم نے 2010 کے سیلاب کے موقع پر بھی یہ تجویز پیش کی تھی کہ سیلاب زدگان کو دی جانے والی امداد کو استعمال کرکے ایک ایسا چینل بنایا جائے جو شہروں، دیہاتوں، فصلوں کو نقصان پہنچائے بغیر سیلابی پانی کو سمندر میں لے جاسکے۔ اگر یہ بندوبست ممکن ہے تو اس پر عمل درآمد ہونا چاہیے۔ اس سیلابی پانی کو کیا ذخیرہ کرنا ممکن ہے؟
اگر ایسا ہے تو نہ صرف ہمارے غریب عوام سیلاب کی تباہ کاریوں سے بچ سکتے ہیں بلکہ ہمارا ملک پانی اور بجلی کی جس قلت سے دوچار ہے، اس کا ازالہ بھی ہوسکتا ہے۔
بدقسمتی یہ ہے کہ ان آفات کو ہمارے ناکردہ گناہوں کی سزا کہنے والے اور توبہ کا مشورہ دینے والوں کی نظر اس طرف نہیں جاتی کہ ان آفات کی ذمے داری ان موسمی مادّی بے رحم طاقتوں پر آتی ہے، جنھیں قابو کرنے کی کوشش ترقی یافتہ دنیا کررہی ہے۔ اور یہ ہماری اجتماعی بدقسمتی ہے کہ ہم ان پر قابو پانے کے بجائے اسے قہرِ خداوندی کہہ کر توبہ تلا میں لگے ہوئے ہیں۔
دوسری طرف اس طبقاتی سماج کی وہ پرتیں ہیں جن میں ایک مڈل کلاس ہے، ایک ایلیٹ کلاس، مڈل کلاس کا وہ حصّہ جو اس طبقاتی جنگ میں 98 فیصد کے ساتھ کھڑا رہتا ہے، اسے نسبتاً بہتر سہولتیں حاصل ہوتی ہیں لیکن سوائے سیلابوں کا مقابلہ کرنے والے چھوٹے چھوٹے لیکن پکے مکانوں اور فلیٹوں کے باقی معاملات میں اس کی زندگی 19-20 کے فرق کے ساتھ 98 فیصد ہی کا حصّہ ہوتی ہے۔
مڈل کلاس کا وہ حصّہ جو ضمیر اور قلم بیچ دیتا ہے، وہ کراچی، اسلام آباد، لاہور، پشاور، کوئٹہ جیسے شہروں میں آسودہ زندگی گزارتا نظر آتا ہے۔ مڈل کلاس کے ان دو حصّوں میں صرف یہ فرق ہوتا ہے کہ ایک حصّہ اس Status quo کو توڑنے کی جدوجہد کرتا ہے جو سیلابوں، طوفانوں، بھوک، بیماری، بیکاری سے عوام کی نجات کو اس وقت تک احمقانہ خیال سمجھتا ہے جب تک اس پورے کرپٹ سسٹم کو بدل نہ دیا جائے۔
مڈل کلاس کا دوسرا حصّہ دانستہ یا نادانستہ اس Status quo کو اندر رہتے ہوئے انقلاب لانے کی بے معنی فکر کا اسیر ہوتا ہے۔
تیسرا حصّہ وہ ہے جو ملک کے وسائل، ملک کی دولت، ملک کی سیاست، ملک کے اقتدار پر قابض ہے۔ وسائل، دولت، سیاست اور اقتدار پر اپنا قبضہ برقرار رکھنے کے لیے وہ مڈل کلاس کے پڑھے لکھے لوگوں اور میڈیا کو یہ باور کراتا ہے کہ سیلاب زدگان، قحط زدگان، بھوکوں، بیکاروں وغیرہ کے مسائل کا واحد حل جمہوریت ہے۔
اور جمہوریت کا تسلسل ہی عوام کے مسائل حل کرنے کا واحد ذریعہ ہیں۔ وہ اس فراڈ نظریے کو پھیلانے کے لیے اپنی کرپشن سے کمائی دولت میں سے اربوں روپے خرچ کرتا ہے۔ آج کل میڈیا کو کرپٹ کرنے کے لیے اربوں روپوں کی تقسیم کی جو داستانیں چمن میں بکھری ہوئی ہیں، وہ اسی الیکشن کمیشن کا ایک حصّہ ہیں۔ یہ بدعت تازی نہیں بلکہ لفافہ جرنلزم کی شکل میں آج کی اپوزیشن کا ورثہ ہے۔
جو حکمران جو اپوزیشن لیڈر آج سیلاب زدگان اور کراچی کی ایک فیکٹری میں جل جانے والے 289 محنت کشوں کے غم میں آنسو بہانے اور قوم کی لوٹی ہوئی دولت میں سے ان مصیبت زدگان کو اور ان کے لواحقین کو جو چیک بانٹتے پھررہے ہیں۔ دراصل یہ ڈراما بھی اسی شیطانی کھیل کا حصّہ ہے، جس کو ایلیٹ کے ڈاکو عوام کے مسائل کا واحد حل بتا کر ان کے ووٹ حاصل کرنا چاہتے ہیں۔
پنجاب، خیبر پختون خوا، بلوچستان اور سندھ میں سیلاب سے سیکڑوں افراد ہلاک اور لاکھوں بے گھر ہوگئے ہیں۔
ہم ٹی وی اسکرین پر سیلاب زدگان کی حالتِ زار کا ہر روز مشاہدہ کررہے ہیں۔ بے شمار شہر اور گائوں سیلابی ریلوں میں ڈوبے ہوئے ہیں۔
لوگ خشک اور محفوظ مقامات کی تلاش میں مارے مارے پھر رہے ہیں۔ جن لوگوں کو کوئی محفوظ جگہ مل جاتی ہے وہ اپنی پھٹی پرانی چادریں تان کر اپنے بیوی بچّوں کو اس ''محفوظ'' جدید شامیانوں میں بٹھادیتے ہیں جہاں نہ بارش سے پناہ ملتی ہے، نہ دھوپ سے۔
پھر یہ سیلاب کے مارے لوگ کسی مہربان کی یا حکومت کی طرف سے مہیا کی جانے والی روٹی کے انتظار میں آسمان کی طرف نظریں جمائے بیٹھے رہتے ہیں۔ چونکہ بھوکے، پیاسے سیلاب زدگان کی تعداد لاکھوں تک پہنچ گئی ہے، اس لیے ایک مربوط طریقے سے ان بھوکوں کو روٹی پہنچانا آسان نہیں ہے۔ اس لیے بھوکوں کے یہ ہجوم روٹی لانے والی گاڑیوں پر ٹوٹ پڑتے ہیں۔
میں جب ان انتظامی اور عوامی بدنظمیوں پر نظر ڈالتا ہوں تو میرے ذہن میں یہ تاثر ابھرتا ہے کہ یہ ساری بدنظمیاں اس وجہ سے پیدا ہورہی ہیں کہ ہم ''سویلائزڈ'' لوگ نہیں ہیں۔
جب میرے ذہن میں یہ تاثر ابھرتا ہے تو اس ملک کے باشندے دو حصّوں میں تقسیم ہو کر میرے سامنے آجاتے ہیں۔ ایک حصہ اس بھاری اکثریت کا ہوتا ہے جو سیلابوں سے پہلے سیلابوں کے دوران اور سیلابوں کے بعد ہمیشہ روٹی کے حصول میں سرگرداں رہتی دِکھائی دیتی ہے۔
جن لوگوں کو روٹی میسر نہیں، جن کے بچّے تعلیم سے محروم ہیں، جن کے خاندان ایسی رہایش گاہوں سے محروم ہیں جو سیلابی ریلوں کا مقابلہ کرسکیں۔ ایسے مجبور، مظلوم، علم و شعور سے محروم انسانوں سے اگر ہم ''سویلائزڈ'' ہونے کی امید رکھیں تو یہ امید اس لیے بے جواز نظر آتی ہے کہ یہ بھاری اکثریت ''سویلائزیشن'' کے معنی ہی سے ناواقف ہوتی ہے کیونکہ دیہی علاقوں میں قلعہ نما حویلیوں میں سیزنل قیام کرنے والے جاگیردار اور وڈیرے اس 60 فیصد دیہی آبادی کو روٹی کے حصول میں ہی اس قدر مصروف رکھتے ہیں کہ ان کا ذہن نہ سویلائزیشن کی طرف جاتا ہے، نہ وہ تہذیب و تمدن کی اصطلاحوں سے واقف ہوتے ہیں۔
کہا جارہا ہے کہ سندھ میں اس سال جو سیلاب آیا ہے، وہ 2010 کے سیلاب سے زیادہ تباہ کن ہے۔ مون سون کا سیزن شروع ہونے سے قبل ہم اعلیٰ حکام کی طرف سے یہ بیانات اور یقین دہانیاں بڑے تواتر سے میڈیا میں دیکھتے رہے کہ اس سال سیلاب سے نمٹنے کی پوری پوری تیاریاں کرلی ہیں۔
لیکن جب آج ہم ماضی کی طرح سیلاب زدگان کو اپنے جھونپڑوں اور کچے گھروں کو چھوڑ کر خشک جگہوں، سڑکوں کے کنارے، بھوک پیاس، بیماریوں میں گِھرے دیکھ رہے ہیں تو حکمرانوں کی ساری یقین دہانیاں، اپوزیشن کی ساری ہمدردیاں سیلابی پانی میں بہتی نظر آتی ہیں اور یہ سارے آئیکون سیلاب زدگان کی لاشوں پر کھڑے انتخابات زدگان نظر آتے ہیں۔
2010 کے سیلاب زدگان کی مکمل بحالی اب تک نہیں ہوسکی۔ حالیہ سیلاب زدگان کے لیے صوبائی اور وفاقی حکومت جو امداد دے رہی ہے، یہ اور بیرونی ملکوں سے ملنے والی امداد سے سیلاب زدگان کی آبادکاری تو ممکن نہیں البتہ اشک شوئی ہوسکتی ہے۔
ہم نے 2010 کے سیلاب کے موقع پر بھی یہ تجویز پیش کی تھی کہ سیلاب زدگان کو دی جانے والی امداد کو استعمال کرکے ایک ایسا چینل بنایا جائے جو شہروں، دیہاتوں، فصلوں کو نقصان پہنچائے بغیر سیلابی پانی کو سمندر میں لے جاسکے۔ اگر یہ بندوبست ممکن ہے تو اس پر عمل درآمد ہونا چاہیے۔ اس سیلابی پانی کو کیا ذخیرہ کرنا ممکن ہے؟
اگر ایسا ہے تو نہ صرف ہمارے غریب عوام سیلاب کی تباہ کاریوں سے بچ سکتے ہیں بلکہ ہمارا ملک پانی اور بجلی کی جس قلت سے دوچار ہے، اس کا ازالہ بھی ہوسکتا ہے۔
بدقسمتی یہ ہے کہ ان آفات کو ہمارے ناکردہ گناہوں کی سزا کہنے والے اور توبہ کا مشورہ دینے والوں کی نظر اس طرف نہیں جاتی کہ ان آفات کی ذمے داری ان موسمی مادّی بے رحم طاقتوں پر آتی ہے، جنھیں قابو کرنے کی کوشش ترقی یافتہ دنیا کررہی ہے۔ اور یہ ہماری اجتماعی بدقسمتی ہے کہ ہم ان پر قابو پانے کے بجائے اسے قہرِ خداوندی کہہ کر توبہ تلا میں لگے ہوئے ہیں۔
دوسری طرف اس طبقاتی سماج کی وہ پرتیں ہیں جن میں ایک مڈل کلاس ہے، ایک ایلیٹ کلاس، مڈل کلاس کا وہ حصّہ جو اس طبقاتی جنگ میں 98 فیصد کے ساتھ کھڑا رہتا ہے، اسے نسبتاً بہتر سہولتیں حاصل ہوتی ہیں لیکن سوائے سیلابوں کا مقابلہ کرنے والے چھوٹے چھوٹے لیکن پکے مکانوں اور فلیٹوں کے باقی معاملات میں اس کی زندگی 19-20 کے فرق کے ساتھ 98 فیصد ہی کا حصّہ ہوتی ہے۔
مڈل کلاس کا وہ حصّہ جو ضمیر اور قلم بیچ دیتا ہے، وہ کراچی، اسلام آباد، لاہور، پشاور، کوئٹہ جیسے شہروں میں آسودہ زندگی گزارتا نظر آتا ہے۔ مڈل کلاس کے ان دو حصّوں میں صرف یہ فرق ہوتا ہے کہ ایک حصّہ اس Status quo کو توڑنے کی جدوجہد کرتا ہے جو سیلابوں، طوفانوں، بھوک، بیماری، بیکاری سے عوام کی نجات کو اس وقت تک احمقانہ خیال سمجھتا ہے جب تک اس پورے کرپٹ سسٹم کو بدل نہ دیا جائے۔
مڈل کلاس کا دوسرا حصّہ دانستہ یا نادانستہ اس Status quo کو اندر رہتے ہوئے انقلاب لانے کی بے معنی فکر کا اسیر ہوتا ہے۔
تیسرا حصّہ وہ ہے جو ملک کے وسائل، ملک کی دولت، ملک کی سیاست، ملک کے اقتدار پر قابض ہے۔ وسائل، دولت، سیاست اور اقتدار پر اپنا قبضہ برقرار رکھنے کے لیے وہ مڈل کلاس کے پڑھے لکھے لوگوں اور میڈیا کو یہ باور کراتا ہے کہ سیلاب زدگان، قحط زدگان، بھوکوں، بیکاروں وغیرہ کے مسائل کا واحد حل جمہوریت ہے۔
اور جمہوریت کا تسلسل ہی عوام کے مسائل حل کرنے کا واحد ذریعہ ہیں۔ وہ اس فراڈ نظریے کو پھیلانے کے لیے اپنی کرپشن سے کمائی دولت میں سے اربوں روپے خرچ کرتا ہے۔ آج کل میڈیا کو کرپٹ کرنے کے لیے اربوں روپوں کی تقسیم کی جو داستانیں چمن میں بکھری ہوئی ہیں، وہ اسی الیکشن کمیشن کا ایک حصّہ ہیں۔ یہ بدعت تازی نہیں بلکہ لفافہ جرنلزم کی شکل میں آج کی اپوزیشن کا ورثہ ہے۔
جو حکمران جو اپوزیشن لیڈر آج سیلاب زدگان اور کراچی کی ایک فیکٹری میں جل جانے والے 289 محنت کشوں کے غم میں آنسو بہانے اور قوم کی لوٹی ہوئی دولت میں سے ان مصیبت زدگان کو اور ان کے لواحقین کو جو چیک بانٹتے پھررہے ہیں۔ دراصل یہ ڈراما بھی اسی شیطانی کھیل کا حصّہ ہے، جس کو ایلیٹ کے ڈاکو عوام کے مسائل کا واحد حل بتا کر ان کے ووٹ حاصل کرنا چاہتے ہیں۔