راجپال یادیو کے بعد معروف اداکارہ کی بھی گرفتاری کی تیاریاں؛ ناقابلِ ضمانت وارنٹ

بھارتی اداکارہ نے 10 لاکھ روپے ادا بھی کردیئے تھے

راجپال یادیو کے بعد ایک اداکارہ کے گرد بھی قانونی گھیرا تنگ

بھارت میں ابھی معروف اداکارہ راجپال یادیو کی گرفتاری اور پھر بھرپور عوامی دباؤ کے بعد رہائی کا معاملہ تھما نہیں تھا کہ ایک اداکارہ کا بھی ایسا ہی کیس سامنے آگیا۔

بھارتی میڈیا کے مطابق ریاست اتر پردیش کے شہر مرادآباد کی ایک عدالت نے 2017 کے ایک ایونٹ سے متعلق چیک باؤنس اور معاہدے کی مبینہ خلاف ورزی پر بڑا فیصلہ سنا دیا۔

عدالت نے متعدد سمن جاری ہونے کے باوجود اداکارہ اداکارہ کے پیش نہ ہونے پر اس کیس میں امیشا پٹیل کے ناقابلِ ضمانت وارنٹ جاری کردیئے۔

تاہم اداکارہ کا کوئی ردعمل سامنے نہیں آیا جس پر سوشل میڈیا پر طوفان کھڑا ہوگیا اور شوبز دنیا میں بھی حیرانی اور پریشانی کی لہر دوڑ گئی۔ 

البتہ اب اس معاملے پر امیشا پٹیل نے اپنے سوشل میڈیا اکاؤنٹ کے ذریعے وضاحت جاری کی ہے جس سے معاملے کی گتھی سلجھنے کی امید پیدا ہوگئی ہے۔

اداکارہ نے کہا کہ جس شخص پوون ورما کا زکر ہو رہا ہے۔ اس کے ساتھ معاملہ کئی برس قبل باقاعدہ طور پر طے پا چکا تھا۔

امیشا پٹیل نے مزید کہا کہ پوون ورما نے اُس وقت ہی مکمل سیٹلمنٹ پر دستخط بھی کیے تھے اور طے شدہ رقم بھی وصول کی تھی۔

اداکارہ امیشا پٹیل کا کہنا ہے کہ اس کے باوجود اب دوبارہ جھوٹے الزامات لگا کر قانونی کارروائی شروع کی گئی ہے، جو سراسر بدنیتی پر مبنی ہے۔

اداکارہ نے یہ اعلان بھی کیا کہ ان کے وکلا اس شخص کے خلاف دھوکہ دہی اور غلط بیانی پر فوجداری کارروائی شروع کر رہے ہیں۔

امیشا پٹیل نے مزید کہا کہ وہ ایسے افراد کو نظر انداز کرنا پسند کرتی ہیں جو جھوٹے بہانوں سے توجہ حاصل کرنے کے لیے معاملے کو تماشا بنا رہے ہیں۔

یاد رہے کہ 2017 میں ایونٹ آرگنائزر پوون ورما نے امیشا پٹیل کو ایک شادی کی تقریب میں پرفارم کرنے کے لیے بک کیا تھا اور انہیں تقریباً 14 لاکھ روپے ایڈوانس دیے تھے۔

تاہم اداکارہ کسی وجہ سے اس تقریب میں شرکت نہ کر سکی تھیں اور بعد ازاں یہ رقم واپس کرنے کی یقین دہانی کروائی گئی تھی۔

کہا جاتا ہے کہ امیشا پٹیل نے اس میں سے 10 لاکھ روپے واپس کر دیے تھے جبکہ ساڑھے چار لاکھ روپے کا ایک چیک باؤنس ہو گیا تھا۔

جس پر ایونٹ آرگنائزر نے ان کے خلاف قانونی کارروائی شروع کی تھی اور آج ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری ہوگئے۔

 

 

Load Next Story