کراچی: رہائشی عمارت میں گیس لیکیج دھماکا، 15 افراد جاں بحق، 13 زخمی

دھماکے کی شدت اتنی زیادہ تھی کہ آس پاس کی عمارتیں بھی لرز گئیں

کراچی:

شہر قائد کے علاقے گل رعنا کالونی سولجر بازار میں ایک گھریلو عمارت میں گیس سلینڈر دھماکا کے نتیجے میں چھت گر گئی، جس سے بچی سمیت 15 افراد جاں بحق اور 13 افراد زخمی ہو گئے۔

حادثہ گلی نمبر 05 کے قریب آغا خان اسکول کے علاقے میں پیش آیا۔ حادثے کی اطلاع ملتے ہی امدادی ادارے فوری طور پر جائے وقوعہ پر پہنچ گئے۔

ایدھی فاؤنڈیشن کی ایمبولینسز اور رضا کار زخمیوں کی فوری منتقلی کے لیے سرگرم عمل رہے۔لاشوں اور زخمیوں کو سول ہسپتال منتقل کیا گیا ہے جہاں طبی امداد جاری ہے۔

عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ دھماکے کی شدت اتنی زیادہ تھی کہ آس پاس کی عمارتیں بھی لرز گئیں، اور علاقے میں خوف و ہراس پھیل گیا۔

اے ایس پی جمشید عاشر کے مطابق واقعہ چار بجکر 15 منٹ پہ پیش آیا۔ بلڈنگ گارڈر پہ بنی تھی۔ عمارت گرنے کی وجہ تلاش کی جارہی ہیں

چیف آپریٹنگ آفیسر ڈاکٹر عابد نے بتایا کہ گیس بلاسٹ پہلی منزل پہ ہوا۔ سحری کے وقت دھماکہ ہوا۔ دھماکہ گیس لیکیج کے سبب ہوا ہے۔ گراونڈ پلس دو منزلوں پہ چھوٹے کمرے بنے ہوئے ہیں۔جگہ بہت کم ہونے میں آپریشن میں مشکلات کا سامنا ہے۔

یہ لیگل عمارت نہیں یہ ایک ایک کمرہ کی عمارت ہے۔ عمارت گرنے سے آس پاس کی عمارتوں کو بھی نقصان ہوا۔ حکام نے لوگوں سے کہا ہے کہ وہ جائے وقوعہ سے دور رہیں تاکہ امدادی کارروائیاں متاثر نہ ہوں۔ جاں بحق و زخمی ہونے والوں میں بچے اور خواتین بھی شامل ہیں۔

علاوہ ازیں ملبے سے دو خاتون کی لاش نکال لی گئیں۔ ایک خاتون کی شناخت 44 سالہ زینب کے نام سے کی گئی جبکہ دوسری 17 سالہ افشاں کے نام سے ہوئی۔

ڈی آئی جی ایسٹ ڈاکٹر فرخ لنجار کا میڈیا سے گفتگو میں کہنا تھا کہ ملبے سے 14 افراد کی لاشوں کو نکالا جاچکا ہے۔ ملبے میں ایک لاش دبے ہونے کا خدشہ ہے۔

انہوں نے کہا کہ واقعے کی تحقیقات کی جائیں گیں۔ متعلقہ محکمہ بتائے گا کہ عمارت قانونی تھی یا غیر قانونی۔ تعین کرکے واقعہ کے ذمہ داران کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔

دوسری جانب وزیر اعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے واقعے پر گہرے دُکھ کا اظہار کیا ہے۔ صوبائی وزیر شرجیل میمن نے بھی واقعے کو انتہائی افسوسناک قرار دیا ہے۔

ہلاک ہونے والے افراد کہ تفصیل درج ذیل ہے؛

60 سالہ محمد شاہد ولد غلام رسول، 50 سالہ وکیہ ولد چھوٹا، 14 سالہ بلاول ولد وکیہ، 10 سالہ پدھرا دختر وکیہ، 6 سالہ عدنان ولد وکیہ، 7 سالہ ریاض ولد وکیہ، 25 سالہ تسلیم دختر وکیہ، 6 سالہ زین العابدین ولد کامران، 40 سالہ کامران ولد نذر محمد، 12 سالہ سنہان ولد وکیہ، 13 سالہ کوثر دختر انور علی، 55 سالہ آمنہ زوجہ وکیہ، 18 سالہ جنید ولد محمد انور۔

جبکہ زخمیوں میں محمد شاہد ولد غلام رسول (60 سال)، وکیا ولد چھوٹا (50 سال)، بلاول ولد وکیا (14 سال)، پدھرا دختر وکیا (10 سال)، عدنان ولد وکیا (6 سال)، ریاض ولد وکیا (7 سال)، تسلیم دختر وکیا (25 سال)، زین الدین ولد کامران (6 سال)، کامران ولد نظر محمد (40 سال)، سنہان ولد وکیا (12 سال)، کوثر دختر انور علی (13 سال)، آمنہ زوجہ وکیا (55 سال) اور جنید ولد محمد انور (18 سال) شامل ہیں۔

Load Next Story