ویلنٹائن ڈے اور افغانستان
یہ اس وقت کی بات ہے طالبان کی حکومت افغانستان پر قبضہ کرچکی تھی اور اس کے فوراً بعد انسانی بحران نے افغانستان میں جنم لیا تھا۔ جس کی کوریج کرنے ایدھی ویلفئیر کی ٹیم کے ساتھ افغانستان کا سفر شروع کیا تھا۔
اتفاق سے ان دنوں بھی ماہ فروری تھا۔ کابل کی سڑکوں پر پیدل چل رہے تھے کہ ایک گل فروش مارکیٹ سامنے آگئی۔ پہلی مرتبہ وہاں پر میں نے لڑکے لڑکیوں کو ایک ساتھ پھول خریدتے ہوئے دیکھا تھا۔ اس پر تعجب بھی ہوا ہے کہ جیسا افغانستان کے بارے میں سننتے تھے یہ شاید اس کے برعکس ہے۔ لیکن شاید میں غلط تھا۔
کچھ ہی دیر میں تیز دوڑتی گاڑیاں اور اس میں موجود مسلح افراد مارکیٹ کی طرف آئے اور انھوں نے فوراً گل فروش مارکیٹ بند کروادی۔ یہی نہیں بلکہ ان پر سختی اور چالان بھی کیے اور انھیں سزا بھی اسی وقت دے دی گئی۔
پھر سمجھ آیا کہ افغانستان کے دارالحکومت کابل میں ویلنٹائن ڈے کے حوالے سے رونما ہونے والی تبدیلیاں محض ایک تہوار کی ممانعت کا قصہ نہیں، بلکہ یہ اس وسیع تر سماجی اور نظریاتی تبدیلی کی عکاس ہیں جو اگست 2021 کے بعد سے اس خطے میں وقوع پذیر ہوئی ہے۔ کابل کی مشہور ’گل فروش مارکیٹ‘ کے دکانداروں سے بات چیت کی تو ایسا لگا کہ وہ طالبان کے اس رویے کے حامی نہیں ہیں اور ان کی جارحانہ کارروائیوں سے ناراض بھی دکھائی دیتے ہے۔
اسکول کے طالبعلم سے بات کی تو ان کا بھی کہنا کچھ اس طرح ہی تھا کہ پابندی لگانے سے آپ ان کی آزادی چھین لیتے ہیں۔ اب فروری 2026 کی بات لے لیں۔ کابل کی سڑکوں پر ویلنٹائن ڈے کے حوالے سے کوئی روایتی گہما گہمی نظر نہیں آئی۔ طالبان حکومت نے اس دن کو ’’اخلاقی زوال‘‘ اور ’’مغربی ثقافت کی اندھی تقلید‘‘ قرار دیتے ہوئے اس پر باقاعدہ پابندی عائد کردی تھی۔
کابل کے مختلف علاقوں، خصوصاً شہرِ نو اور پلِ سرخ میں، جہاں ماضی میں اس دن کے حوالے سے خصوصی اہتمام کیا جاتا تھا، اب اہلکاروں کی بھاری نفری تعینات کی گئی تھی۔ طالبان کی وزارتِ امر بالمعروف کے ترجمان سیف الدین خیبر نے سوشل میڈیا پر اپنے ایک بیان میں واضح کیا کہ ویلنٹائن ڈے جیسے ایام صرف نفسیاتی خواہشات کی تسکین کےلیے ایجاد کیے گئے ہیں اور اسلامی معاشرے میں ان کی کوئی جگہ نہیں ہے۔
اس نظریاتی موقف کے نفاذ کے لیے کابل اور ہرات جیسے شہروں میں عملی اقدامات کیے گئے۔ دکانداروں کو سختی سے تنبیہ کی گئی کہ وہ سرخ رنگ کے غبارے، دل کی شکل کے نشانات، یا کوئی بھی ایسی چیز فروخت نہ کریں جو اس دن کی علامت سجھے جاتے ہوں۔ طالبان اہلکاروں نے ریستورانوں کے مالکان کو بھی ہدایت دی تھی کہ وہ جوڑوں کے لیے خصوصی مینیو یا سجاوٹ نہ کریں، ورنہ ان کے کاروبار بند کیے جا سکتے ہیں۔
2021 سے پہلے کے بیس سال میں، جنہیں ’’جمہوریہ کا دور‘‘ کہا جاتا ہے، کابل اور دیگر بڑے شہروں میں ویلنٹائن ڈے کی مقبولیت میں غیر معمولی اضافہ ہوا تھا۔ اگرچہ افغانستان کا معاشرہ ہمیشہ سے روایتی رہا ہے، لیکن نوجوان نسل اور تعلیم یافتہ طبقے اس دن کو محبت اور دوستی کا نام دیتے تھے۔ اس دور میں فروری کے وسط میں کابل کی کوچہ گل فروشی یعنی ’’پھول گلی‘‘ پھولوں اور تحائف سے بھر جاتی تھی۔
غیر ملکی میڈیا اور مقامی رپورٹس بتاتی ہیں کہ نوجوان جوڑے پارکوں اور ریستورانوں میں بلا خوف و خطر ملتے تھے اور سوشل میڈیا پر اپنی تصاویر شیئر کرتے تھے۔ ریڈیو اسٹیشنوں پر فرمائشی پروگرام نشر ہوتے تھے، جہاں لوگ اپنے پیاروں کے لیے گانے اور پیغامات وقف کرتے تھے۔ تاہم، یہ یاد رکھنا ضروری ہے کہ اس وقت بھی یہ جشن زیادہ تر کابل، ہرات اور مزارِ شریف جیسے شہری مراکز تک محدود تھا، جبکہ دیہی علاقوں میں اس کا کوئی وجود نہیں تھا۔ قدامت پسند حلقے اس وقت بھی اسے غیر اسلامی سمجھتے تھے، اور 2019 میں ہرات کے علماء نے اس پر پابندی کا مطالبہ بھی کیا تھا۔ لیکن اس دور کی حکومت نے ان سرگرمیوں کو قانونی تحفظ فراہم کر رکھا تھا اور اسے انفرادی آزادی کا حصہ سمجھا جاتا تھا۔
افغانستان کی خواتین کے لیے ویلنٹائن ڈے محض ایک مغربی تہوار نہیں بلکہ اپنی ذاتی پسند اور جذباتی آزادی کے اظہار کا ایک علامت بن چکا تھا۔ طالبان کی آمد کے بعد سے خواتین کی زندگیوں میں آنے والی تبدیلیوں نے ان کے جشن منانے کے طریقے اور جذبات کو بری طرح متاثر کیا ہے۔ جبکہ بہت سی خواتین آن لائن پلیٹ فارمز کا استعمال کرتے ہوئے ایک دوسرے کو پیغامات بھیجتی ہیں۔ یہ رویہ ظاہر کرتا ہے کہ شدید پابندیوں کے باوجود انسانی جذبات اور محبت کی جگہ موجود ہے۔
کابل کے علاقے شہرِ نو میں واقع ’کوچہ گل فروشی‘ کبھی ویلنٹائن ڈے کا مرکز ہوا کرتا تھا۔ 2026 میں اب یہاں خاموشی کا راج ہے۔ دکانداروں کا کہنا ہے کہ طالبان نے انہیں پیشگی وارننگ دی تھی کہ اگر کسی نے بھی اس دن کے حوالے سے کوئی گلدستہ یا سجاوٹ کی تو اس کی دکان بند کردی جائے گی۔
دلچسپ بات یہ تھی کہ جب میں نے دکانداروں سے پوچھا کہ وہ گلاب کے پھول کہاں سے منگواتے ہیں، تو انھوں نے برجستہ کہا ’’کراچی سے‘‘۔
نوٹ: ایکسپریس نیوز اور اس کی پالیسی کا اس بلاگر کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں۔
اگر آپ بھی ہمارے لیے اردو بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو قلم اٹھائیے اور 800 سے 1,200 الفاظ پر مشتمل تحریر اپنی تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بک اور ٹوئٹر آئی ڈیز اور اپنے مختصر مگر جامع تعارف کے ساتھ blog@express.com.pk پر ای میل کردیجیے۔