بورڈ آف پیس اجلاس؛ ٹرمپ نے فیلڈ مارشل اور شہباز شریف کی تعریفوں کے پُل باندھ دیئے
صدر ٹرمپ کے تشکیل کردہ غزہ کے بورڈ آف پیس کا پہلا باضابطہ اجلاس واشنگٹن میں شروع ہوگیا۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق دنیا بھر سے آنے والے سفارتی وفود واشنگٹن پہنچ گئے اور اس تاریخی موقع پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ہمراہ تصویر بنوائیں۔
صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے افتتاحی خطاب میں فیلڈ مارشل جنرل عاصم منیر اور وزیر اعظم شہباز شریف کی تعریفوں کے پُل باندھ دیئے۔
امریکی صدر نے کہا کہ پاکستان کے فیلڈ مارشل عاصم منیر ایک عظیم انسان، اعلیٰ سپہ سالار اور ٹف فائٹر ہیں۔ انھوں نے جنگ رکوانے اور لاکھوں زندگیاں بچانے پر میری تعریف کی تھی۔
ڈونلڈ ٹرمپ نے وزیراعظم شہباز شریف کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ میں ان کو بہت پسند کرتا ہوں۔ وہ بھی میری جنگ بندی کی کوششوں کو سراہتے رہتے ہیں۔
انھوں نے کہا کہ میں نے پاک بھارت جنگ رکوائی، مودی کو کہہ دیا کہ بھاری ٹیرف لگائیں گے۔ اس جنگ کے دوران 11 طیارے گرائے گئے۔
صدر ٹرمپ نے کہا کہ ہم نے دنیا کی 8 جنگیں رکوائیں جن میں سے کچھ تو 34 سال سے جاری تھیں۔ اب 9 ویں جنگ بھی بہت جلد ختم کرائیں گے۔
غزہ پر بات کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے حماس کو تنقید کا نشانہ بنایا۔ انھوں نے کہا کہ غزہ کی صورتحال بہت پیچیدہ ہے۔
امریکی صدر نے اس امید کا بھی اظہار کیا کہ حماس معاہدے پر عمل کرتے ہوئے جلد اپنے ہتھیار پھینک دے گی اور ایران بھی 10 روز میں معاہدہ کرلے گا۔
انھوں نے مزید کہا کہ غزہ کے روشن مستقبل کے لیے کام کر رہے ہیں۔ جس کے لیے یہ بورڈ آف پیس تشکیل دیا ہے۔
صدر ٹرمپ نے کہا کہ بورڈ آف پیس میں بہت سے پیارے ملک شامل ہیں اور آج یہاں معزز قیادت صرف اور صرف امن کے لیے جمع ہوئی ہے۔
انھوں نے مزید بتایا کہ امن بورڈ کے اراکین کی جانب سے غزہ کے لیے 7 بلین ڈالر کا امدادی پیکج دیا جاچکا ہے جس کا ہر ڈالر امن استحکام اور ترقی میں سرمایہ کاری ہے۔
صدر ٹرمپ نے مزید کہا کہ غزہ میں تعمیر نو کے لیے امریکا دس ارب ڈالر دے گا۔ فیفا بھی غزہ میں منصوبوں کے لیے ساڑھے سات کروڑ ڈالر جمع کرنے میں مدد دے گا۔
انھوں نے مزید کہا کہ ہم ایک ہم آہنگ مشرق وسطیٰ چاہتے ہیں۔ ایسا غزہ حاصل کرنا چاہتے ہیں جس پر طرز حکمرانی مناسب طریقے سے ہو اور یہ نہ سوچنا پڑے کہ جنگ کے لیے فوج بھیجنی ضروری ہوگی۔
امریکی صدر نے کہا کہ امن کے قیام کے لیے سب مل کر کام کررہے ہیں۔ انھوں نے اس موقع پر سعودی عرب، متحدہ عرب امارات سمیت پاکستان کا نام بھی لیا۔