عالمی ٹیرف کا نیا دور اور پاکستان کی معیشت
واشنگٹن کی سیاست میں ایک بار پھر ہلچل ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے امریکی عدالتِ عظمیٰ کے فیصلے کے باوجود دس فیصد نیا عالمی محصول نافذ کرنے کا اعلان کردیا ہے۔
عدالت نے چھ کے مقابلے میں تین ججوں کی اکثریت سے یہ قرار دیا کہ صدر نے اپنے اختیارات سے تجاوز کیا تھا اور گزشتہ برس عائد کیے گئے بیشتر عالمی محصولات قانونی حدود سے باہر تھے۔
چیف جسٹس جان رابرٹس نے واضح کیا کہ جب کانگریس صدر کو محصولات عائد کرنے کا اختیار دیتی ہے تو وہ اسے واضح شرائط اور حدود کے ساتھ دیتی ہے۔ اس فیصلے کی تائید نہ صرف لبرل ججوں نے کی بلکہ صدر کے نامزد کردہ دو ججوں، ایمی کونی بیرٹ اور نیل گورسچ نے بھی کی، جب کہ کلیرنس تھامس، بریٹ کیوانا اور سیموئیل الیٹو نے اختلافی نوٹ تحریر کیا۔
یہ محض ایک عدالتی تنازع نہیں بلکہ عالمی تجارتی نظام کی سمت کا سوال ہے۔ صدر ٹرمپ نے نادر استعمال ہونے والی شق 122 کے تحت دس فیصد نیا محصول نافذ کیا ہے جو 150 دن تک مؤثر رہے گا، بعد ازاں کانگریس کو مداخلت کرنا ہوگی۔ اس سے پہلے وائٹ ہاؤس نے 1977 کے قانون کا حوالہ دے کر تقریباً دنیا کے ہر ملک سے آنے والی اشیا پر محصولات عائد کیے تھے۔ ابتدا میں یہ دائرہ میکسیکو، کینیڈا اور چین تک محدود تھا، مگر بعد ازاں اسے درجنوں تجارتی شراکت داروں تک پھیلا دیا گیا۔
عدالتی فیصلے کے بعد وال اسٹریٹ میں مثبت ردِعمل دیکھا گیا اور اسٹینڈرڈ اینڈ پورز پانچ سو اشاریہ سات فیصد اضافے کے ساتھ بند ہوا، لیکن ماہرین کے مطابق اصل مسئلہ اب بھی حل نہیں ہوا۔ اگر اربوں ڈالر کے ممکنہ ریفنڈز کا عمل شروع ہوتا ہے تو قانونی پیچیدگیاں برسوں جاری رہ سکتی ہیں۔ اس غیر یقینی صورتحال نے عالمی تجارت کو ایک بار پھر بے یقینی کے دھند میں لپیٹ دیا ہے۔
صدر ٹرمپ کی دلیل یہ ہے کہ محصولات امریکی صنعت اور سرمایہ کاری کو فروغ دیتے ہیں۔ ان کے مطابق سستی درآمدات مقامی صنعت کو نقصان پہنچاتی ہیں اور تجارتی خسارہ بڑھاتی ہیں۔ یہ دلیل بظاہر پرکشش ہے، مگر اقتصادی اصول یہ بتاتے ہیں کہ جب کسی ملک پر درآمدی محصولات عائد کیے جاتے ہیں تو اس کا بوجھ بالآخر صارفین پر پڑتا ہے۔ اشیا مہنگی ہو جاتی ہیں، سپلائی چین متاثر ہوتی ہے اور کاروباری لاگت بڑھتی ہے۔
عالمی تجارت ایک جال کی مانند ہے؛ ایک ملک کی پالیسی کا اثر دوسرے ملک کی صنعتوں تک پہنچتا ہے۔ اگر امریکا بڑے پیمانے پر محصولات عائد کرتا ہے تو جواباً دیگر ممالک بھی جوابی اقدامات کرتے ہیں۔ اس طرح تجارتی جنگ شروع ہو جاتی ہے جس میں سب سے زیادہ نقصان عالمی نمو کو ہوتا ہے۔ ماضی میں بھی اسٹیل، ایلومینیم اور گاڑیوں کے شعبے ایسے تنازعات کا شکار رہے ہیں۔
پاکستان کی معیشت اس وقت ایک نازک مرحلے سے گزر رہی ہے۔ زرمبادلہ کے ذخائر محدود ہیں، بیرونی قرضوں کی ادائیگیاں بڑھ رہی ہیں اور روپے کی قدر دباؤ میں ہے۔ امریکا پاکستان کی برآمدات کے لیے ایک اہم منڈی ہے، خاص طور پر ٹیکسٹائل، گارمنٹس، کھیلوں کے سامان اور چمڑے کی مصنوعات کے شعبوں میں۔ اگر دس فیصد عالمی محصول پاکستانی مصنوعات پر لاگو ہوتا ہے تو ہماری برآمدات کی قیمت بڑھ جائے گی، جس سے آرڈرز میں کمی آ سکتی ہے۔
برآمدات میں کمی کا مطلب ہے زرمبادلہ کی آمد میں کمی، اور زرمبادلہ کی کمی براہِ راست روپے کی قدر پر اثر انداز ہوتی ہے۔ جب روپیہ کمزور ہوتا ہے تو درآمدات مہنگی ہو جاتی ہیں، خاص طور پر تیل، مشینری اور صنعتی خام مال۔ اس کا نتیجہ مہنگائی کی صورت میں نکلتا ہے۔ یوں ایک عالمی تجارتی فیصلہ پاکستان کے عام شہری کی جیب تک اثر انداز ہو سکتا ہے۔
پاکستان کی صنعت بڑی حد تک درآمدی خام مال اور مشینری پر انحصار کرتی ہے۔ اگر عالمی سپلائی چین متاثر ہوتی ہے یا اشیا کی قیمتیں بڑھتی ہیں تو مقامی صنعت کی پیداواری لاگت بھی بڑھ جائے گی۔ اس سے مسابقتی برتری کمزور ہو سکتی ہے۔ خاص طور پر ٹیکسٹائل کا شعبہ، جو پہلے ہی توانائی کی قیمتوں اور مالیاتی لاگت سے دباؤ میں ہے، مزید مشکلات کا شکار ہو سکتا ہے۔
تاہم ہر بحران میں مواقع بھی پوشیدہ ہوتے ہیں۔ اگر امریکا چین یا دیگر بڑی معیشتوں پر سخت محصولات عائد کرتا ہے تو عالمی خریدار متبادل منڈیوں کی تلاش کریں گے۔
پاکستان اگر اپنی صنعتی صلاحیت بہتر بنائے، معیار اور ترسیل کے نظام کو مضبوط کرے تو وہ کچھ حصہ حاصل کر سکتا ہے۔ انفارمیشن ٹیکنالوجی، زرعی مصنوعات اور حلال فوڈ جیسے شعبے نئی راہیں کھول سکتے ہیں۔
پاکستان کو اس بدلتی ہوئی صورتحال میں متوازن سفارتی حکمتِ عملی اپنانا ہوگی۔ امریکا کے ساتھ تجارتی تعلقات کو برقرار رکھتے ہوئے چین، یورپی یونین، مشرقِ وسطیٰ اور افریقی منڈیوں میں تنوع لانا ضروری ہے۔ علاقائی تجارت کو فروغ دینا، وسطی ایشیا اور جنوبی ایشیا کے ممالک کے ساتھ راہداری منصوبوں کو فعال بنانا بھی وقت کی ضرورت ہے۔
حکومت کو چاہیے کہ برآمد کنندگان کو ٹیکس ریلیف، سستی توانائی اور آسان قرضوں کی سہولت فراہم کرے تاکہ وہ عالمی منڈی میں مسابقت برقرار رکھ سکیں۔ اس کے ساتھ ساتھ برآمدی مصنوعات میں جدت اور ویلیو ایڈیشن پر توجہ دینا ہوگی۔ محض خام مال یا کم قیمت مصنوعات بیچنے کے بجائے اعلیٰ معیار کی مصنوعات تیار کرنا ہوں گی۔
یہ معاملہ صرف امریکا تک محدود نہیں۔ اگر وائٹ ہاؤس قومی سلامتی یا غیر منصفانہ تجارتی طریقوں کے نام پر دیگر شقوں کا استعمال کرتا ہے تو عالمی تجارتی نظام مزید پیچیدہ ہو جائے گا۔ عالمی تجارتی تنظیم پہلے ہی کمزور پڑ چکی ہے۔ ایسے میں دوطرفہ اور علاقائی معاہدوں کی اہمیت بڑھ جائے گی۔
پاکستان کے لیے یہ لمحہ ایک انتباہ ہے کہ وہ اپنی معیشت کو محض ایک یا دو منڈیوں پر انحصار سے نکالے۔ معاشی خود انحصاری، صنعتی تنوع اور برآمدی اصلاحات کے بغیر ہم ہر عالمی بحران کا شکار ہوتے رہیں گے۔
امریکی صدر اور عدالتِ عظمیٰ کے درمیان یہ کشمکش عالمی معیشت کے لیے غیر یقینی کا پیغام ہے۔ مگر پاکستان کے لیے یہ محض تشویش کا باعث نہیں بلکہ اصلاحِ احوال کا موقع بھی ہے۔ ہمیں اپنی اقتصادی پالیسی کو طویل المدت بنیادوں پر استوار کرنا ہوگا۔ اگر ہم نے بروقت اقدامات نہ کیے تو عالمی تجارتی جنگوں کا بوجھ ہماری کمزور معیشت پر مزید بڑھ جائے گا۔ لیکن اگر ہم نے تنوع، جدت اور سفارتی توازن کی حکمتِ عملی اپنائی تو یہی بحران ہمارے لیے نئی راہیں کھول سکتا ہے۔
عالمی معیشت ایک مسلسل بدلتی ہوئی تصویر ہے۔ اس میں وہی قومیں کامیاب ہوتی ہیں جو وقت سے پہلے حالات کا اندازہ لگا لیں۔ پاکستان کے لیے یہ وقت جذباتی ردِعمل کا نہیں بلکہ سنجیدہ منصوبہ بندی اور ٹھوس اصلاحات کا ہے۔ کیونکہ عالمی منڈی میں بقا کا اصول واضح ہے: جو تیار ہے وہی کامیاب ہے۔
نوٹ: ایکسپریس نیوز اور اس کی پالیسی کا اس بلاگر کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں۔
اگر آپ بھی ہمارے لیے اردو بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو قلم اٹھائیے اور 800 سے 1,200 الفاظ پر مشتمل تحریر اپنی تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بک اور ٹوئٹر آئی ڈیز اور اپنے مختصر مگر جامع تعارف کے ساتھ blog@express.com.pk پر ای میل کردیجیے۔