دہشت گردی کے خاتمے کا پختہ عزم
دہشت گردی کے سر چشمے جہاں سے پھوٹتے ہیں ان کی تزویراتی بندش کا پہلے انتظام ہونا چاہیے
دہشت گردی کے سر چشمے جہاں سے پھوٹتے ہیں ان کی تزویراتی بندش کا پہلے انتظام ہونا چاہیے . فوٹو: آئی ایس پی آر
چیف آف آرمی اسٹاف جنرل راحیل شریف نے کوئٹہ میں سمنگلی اور خالد ایئر بیس پر دہشت گردوں کے حملے کو ناکام بنانے پر سیکیورٹی فورسز کو مبارکباد پیش کرتے ہوئے کہا ہے کہ ہم قوم کی دعاؤں سے دہشت گردوں کا خاتمہ کر دیں گے، دہشت گرد پاکستان کو نقصان پہنچانے کی کوشش کر رہے ہیں، سیکیورٹی فورسز ان کی کسی بھی کوشش کا بھر پور جواب دیں، دہشت گردوں کو ملک میں اب کہیں بھی جگہ نہیں ملے گی۔
وزیر اعظم نواز شریف نے کوئٹہ میں ایئر بیس پر دہشت گردوں کے حملے کی مذمت کرتے ہوئے حملہ ناکام بنانیوالے سیکیورٹی اہلکاروں کی جرات کو خراج تحسین پیش کیا۔ ان خوش آیند بیانات سے قوم کو یقین ہو گیا ہے کہ کثیر جہتی اور وحشت ناک دہشت گردی کے خلاف چاہے وہ پاک افغان سرحدی صورتحال ہو، بلوچستان میں بدامنی اور علیحدگی کی مزاحمتی جنگ کے دعوے ہوں یا منی پاکستان میں طالبان کی خاموش اور پراسرار موجودگی اور نیٹ ورک کی سرگرمیاں ہوں ان سب سے نمٹنے کے لیے چومکھی لڑنے کی ضرورت ہے۔
اس جنگی حکمت عملی کا کامیاب مظاہرہ کوئٹہ بیسز کے موثر دفاع کی شکل مین سامنے آیا ہے، اس لیے اس امر میں کوئی شبہ نہیں ہونا چاہیے کہ سیکیورٹی فورسز مکمل طور پر مستعد، الرٹ اور چوکس ہیں اور بلوچستان کو فوکس کرنے والے انتہا پسند گروپوں کا تعاقب اب پوری شدت کے ساتھ حکمت عملی کا حصہ بنے گا۔ اطلاعات کے مطابق دہشت گردی کی واردات کے بعد ہی سے کوئٹہ سمیت پورے بلوچستان میں سرچ آپریشن کو وسعت دینے کا فیصلہ کیا گیا ہے تا کہ جو گروپ ارباب اختیار اور فورسز کو اپنی طرف سے رد عمل یا ''بلو بیک'' کا تاثر دینا چاہتے ہیں انھیں اس میں بھی شکست فاش ہو گی جب کہ تحریک طالبان پاکستان کا کوئی بھی سر کش دھڑا ملکی سلامتی کو نقصان پہنچانے اور بلوچستان کی سیاسی صورتحال سے فائدہ اٹھانے میں کامیاب نہیں ہو سکے گا۔
تاہم دہشت گردی کے سر چشمے جہاں سے پھوٹتے ہیں ان کی تزویراتی بندش کا پہلے انتظام ہونا چاہیے، اس ضمن میں افغان حکام اور قیادت کے مایوس کن رویے کو پیش نظر رکھنا ہو گا کیونکہ افغانستان کی تیزی سے تبدیل ہوتی ہوئی سیمابی صورتحال پاکستان کے خلاف مستقل الزام تراشی اور بہتان طرازی کے محور پر گھوم رہی ہے جب کہ پاکستان کی ہمیشہ سے کوشش رہی ہے کہ غیر ملکی فوجوں کے انخلا کے بعد بھی افغانستان میں قیام امن کی کسی بھی کوشش میں عالمی طاقتیں پاکستان کو اپنے قریب پائیں گی۔ مگر کیا کیجیے کہ الزام تراشی کا کوئی موقع افغان قیادت ہاتھ سے جانے نہیں دیتی، اگلے روز افغان حکام نے یہ بوگس الزام لگایا کہ 800 طالبان نے پاک فوج کی مدد سے کنڑ میں افغان چوکیوں پر حملہ کیا، جب کہ افغان فورسز کی طرف سے 77 طالبان کی ہلاکت کا دعوی بھی کیا گیا، مزید براں جنگجوؤں نے 5 جاسوسوں کو پھانسی دے دی۔
حالانکہ دنیا کا کوئی بھی غیر جانبدار مبصر افغان حکام کے طالبان کی مدد کے بے سر و پا الزام کو درست قرار نہیں دے سکتا، اس لیے کہ پاک فوج تو پورے شمالی وزیرستان میں طالبان کے خلاف آپریشن میں مصروف ہے اور ریاستی رٹ کو تسلیم نہ کرنے والے طالبان کمانڈر اپنے ٹھکانوں سمیت تباہی سے دو چار ہیں، ان کا تعاقب شد و مد سے جاری ہے، چنانچہ طالبان کی مدد کا الزام محض دیوانگی کا احساس اور مخاصمانہ طرز عمل ہے۔ ادھر دہشت گرد گروپوں کی بلوچستان میں کارروائی اور اپنی جارحانہ موجودگی کا احساس دلانا بھی خطے کی مجموعی صورتحال سے جڑی ہوئی ہے، نیٹو فوجوں تک لاجسٹک روٹ کراچی سے شروع ہو کر بلوچستان سے گزرتا ہے، جب کہ افغان فورسز بھتہ نہ دینے پر ڈرائیوروں کو تشدد کا نشانہ بنا رہی ہیں، بلوچستان میں متحرک طالبان اور ازبک کمانڈروں اور کارندوں کا اجتماع نئے خطرات کا پیش خیمہ ہے، عالمی میڈیا بھی بلوچستان کی علیحدگی کی تحریک کے بارے میں بھارتی مداخلت اور پس پردہ را کی مذموم سرگرمیوں کی نشاندہی ہو رہی ہے۔
یہ تناظر بلاشبہ تشویش ناک ہے اس لیے دہشت گردوں اور ان کے بچے کھچے انفرا سٹرکچر کو تہس نہس کرنے کے لیے صوبہ بلوچستان میں فورسز کو ان ''ہائی پروفائل ازبک دہشت گردوں'' کی نقل و حمل اور موجودگی کا جلد کھوج لگانا چاہیے جو ممکنہ طور پر کارروائیوں کے مختلف اہداف رکھتے ہونگے۔
آئی ایس پی آر کے مطابق کوئٹہ حملے میں11 دہشت گرد مارے گئے،3 گرفتار کیے گئے، 5 دہشت گرد پی اے ایف سمنگلی کے باہر مارے گئے، 3 گرفتار ہوئے، پی اے ایف اور آرمی ایسوسی ایشن کے تمام اثاثے محفوظ ہیں۔
کوئٹہ میں قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکاروں نے خالد ایئر بیس اور سمنگلی ایئر بیس پر حملوں کی کوشش ناکام بناتے ہوئے 11 دہشت گردوں کو ہلاک کر دیا اور آپریشن مکمل ہونے کے بعد خالد ایئربیس و سمنگلی ایئربیس کو کلیئر کر دیا گیا۔ ادھر قانون نافذ کرنے والے اداروں اور کوئٹہ میں جناح ٹاؤن پولیس نے کلی پائند خان میں ایک مکان پر چھاپہ مار کر وہاں سے تیار شدہ 3 خودکش جیکٹ،8 عدد دستی بم، پستول اور کلاشنکوف کے اسٹینڈ برآمد کر کے قبضے میں لے لیے۔
وزیر اعلیٰ بلوچستان ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ نے خالد ایئربیس اور سمنگلی ایئربیس پر ہونے والے حملوں کو ناکام بنانے والے اہلکاروں کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا ہے کہ عام عوام کے تعاون سے ایسا ممکن ہوا عوام اور فورسز متحد ہو جائیں تو کوئی ہمیں شکست نہیں دے سکتا، ہمیں پہلے سے ہی اندازہ تھا کہ یہاں قومی تنصیبات کو نقصان پہنچانے کی کوششیں کی جائیں گی اسی لیے تمام فورسز مکمل طور پر الرٹ تھیں، ایئربیس میں لائٹس اور دیگر ضروریات کا بروقت بندوبست کیا گیا تھا۔ چیف آف ایئر اسٹاف ایئر چیف مارشل طاہر رفیق بٹ نے کوئٹہ پر دہشت گردوں کے حملوں کو ناکام بنانے پر سیکیورٹی فورسز کی تعریف کرتے ہوئے کہا ہے کہ ہمیں سمجھنا چاہیے کہ ہم چھپے ہوئے دشمن کے خلاف حالت جنگ میں ہیں یہ بزدلانہ حملے ہمارے مادر وطن کے خلاف دفاع کے جذبے کو کمزور نہیں کر سکتے۔
ایئر فورس کی ملکی ایئر بیسز اور انفرا اسٹرکچر کے ایک ایک رینج کا دفاع کیا جائے گا۔ اگر یہی جذبہ سلامت رہا تو بلاشبہ کوئی باطل طاقت ریاستی عزم کو چیلنج نہیں کر سکے گی۔ حقیقت یہ ہے کہ ملکی داخلی سیاسی صورتحال، لانگ اور انقلاب مارچ کے وسیع تر سیناریو کے تناظر میں ارباب اختیار کو تاریخی شعور، عملیت پسندی اور معاملہ فہمی کا بے مثال عملی نمونہ پیش کرنے کا سنہرا موقع ملا ہے، مستقبل کا مورخ دہشت گردی کے خلاف پاک فوج کے عزم اور غیر متزلزل عوامی حمایت کی زندہ و تابندہ لہر کو ایک دائمی حوالہ کے طور پر رقم کرے گا۔ آزمائش کی اس نازک گھڑی میں جمہوریت کے پائے استقلال میں کوئی لغزش نہیں آنی چاہیے۔
وزیر اعظم نواز شریف نے کوئٹہ میں ایئر بیس پر دہشت گردوں کے حملے کی مذمت کرتے ہوئے حملہ ناکام بنانیوالے سیکیورٹی اہلکاروں کی جرات کو خراج تحسین پیش کیا۔ ان خوش آیند بیانات سے قوم کو یقین ہو گیا ہے کہ کثیر جہتی اور وحشت ناک دہشت گردی کے خلاف چاہے وہ پاک افغان سرحدی صورتحال ہو، بلوچستان میں بدامنی اور علیحدگی کی مزاحمتی جنگ کے دعوے ہوں یا منی پاکستان میں طالبان کی خاموش اور پراسرار موجودگی اور نیٹ ورک کی سرگرمیاں ہوں ان سب سے نمٹنے کے لیے چومکھی لڑنے کی ضرورت ہے۔
اس جنگی حکمت عملی کا کامیاب مظاہرہ کوئٹہ بیسز کے موثر دفاع کی شکل مین سامنے آیا ہے، اس لیے اس امر میں کوئی شبہ نہیں ہونا چاہیے کہ سیکیورٹی فورسز مکمل طور پر مستعد، الرٹ اور چوکس ہیں اور بلوچستان کو فوکس کرنے والے انتہا پسند گروپوں کا تعاقب اب پوری شدت کے ساتھ حکمت عملی کا حصہ بنے گا۔ اطلاعات کے مطابق دہشت گردی کی واردات کے بعد ہی سے کوئٹہ سمیت پورے بلوچستان میں سرچ آپریشن کو وسعت دینے کا فیصلہ کیا گیا ہے تا کہ جو گروپ ارباب اختیار اور فورسز کو اپنی طرف سے رد عمل یا ''بلو بیک'' کا تاثر دینا چاہتے ہیں انھیں اس میں بھی شکست فاش ہو گی جب کہ تحریک طالبان پاکستان کا کوئی بھی سر کش دھڑا ملکی سلامتی کو نقصان پہنچانے اور بلوچستان کی سیاسی صورتحال سے فائدہ اٹھانے میں کامیاب نہیں ہو سکے گا۔
تاہم دہشت گردی کے سر چشمے جہاں سے پھوٹتے ہیں ان کی تزویراتی بندش کا پہلے انتظام ہونا چاہیے، اس ضمن میں افغان حکام اور قیادت کے مایوس کن رویے کو پیش نظر رکھنا ہو گا کیونکہ افغانستان کی تیزی سے تبدیل ہوتی ہوئی سیمابی صورتحال پاکستان کے خلاف مستقل الزام تراشی اور بہتان طرازی کے محور پر گھوم رہی ہے جب کہ پاکستان کی ہمیشہ سے کوشش رہی ہے کہ غیر ملکی فوجوں کے انخلا کے بعد بھی افغانستان میں قیام امن کی کسی بھی کوشش میں عالمی طاقتیں پاکستان کو اپنے قریب پائیں گی۔ مگر کیا کیجیے کہ الزام تراشی کا کوئی موقع افغان قیادت ہاتھ سے جانے نہیں دیتی، اگلے روز افغان حکام نے یہ بوگس الزام لگایا کہ 800 طالبان نے پاک فوج کی مدد سے کنڑ میں افغان چوکیوں پر حملہ کیا، جب کہ افغان فورسز کی طرف سے 77 طالبان کی ہلاکت کا دعوی بھی کیا گیا، مزید براں جنگجوؤں نے 5 جاسوسوں کو پھانسی دے دی۔
حالانکہ دنیا کا کوئی بھی غیر جانبدار مبصر افغان حکام کے طالبان کی مدد کے بے سر و پا الزام کو درست قرار نہیں دے سکتا، اس لیے کہ پاک فوج تو پورے شمالی وزیرستان میں طالبان کے خلاف آپریشن میں مصروف ہے اور ریاستی رٹ کو تسلیم نہ کرنے والے طالبان کمانڈر اپنے ٹھکانوں سمیت تباہی سے دو چار ہیں، ان کا تعاقب شد و مد سے جاری ہے، چنانچہ طالبان کی مدد کا الزام محض دیوانگی کا احساس اور مخاصمانہ طرز عمل ہے۔ ادھر دہشت گرد گروپوں کی بلوچستان میں کارروائی اور اپنی جارحانہ موجودگی کا احساس دلانا بھی خطے کی مجموعی صورتحال سے جڑی ہوئی ہے، نیٹو فوجوں تک لاجسٹک روٹ کراچی سے شروع ہو کر بلوچستان سے گزرتا ہے، جب کہ افغان فورسز بھتہ نہ دینے پر ڈرائیوروں کو تشدد کا نشانہ بنا رہی ہیں، بلوچستان میں متحرک طالبان اور ازبک کمانڈروں اور کارندوں کا اجتماع نئے خطرات کا پیش خیمہ ہے، عالمی میڈیا بھی بلوچستان کی علیحدگی کی تحریک کے بارے میں بھارتی مداخلت اور پس پردہ را کی مذموم سرگرمیوں کی نشاندہی ہو رہی ہے۔
یہ تناظر بلاشبہ تشویش ناک ہے اس لیے دہشت گردوں اور ان کے بچے کھچے انفرا سٹرکچر کو تہس نہس کرنے کے لیے صوبہ بلوچستان میں فورسز کو ان ''ہائی پروفائل ازبک دہشت گردوں'' کی نقل و حمل اور موجودگی کا جلد کھوج لگانا چاہیے جو ممکنہ طور پر کارروائیوں کے مختلف اہداف رکھتے ہونگے۔
آئی ایس پی آر کے مطابق کوئٹہ حملے میں11 دہشت گرد مارے گئے،3 گرفتار کیے گئے، 5 دہشت گرد پی اے ایف سمنگلی کے باہر مارے گئے، 3 گرفتار ہوئے، پی اے ایف اور آرمی ایسوسی ایشن کے تمام اثاثے محفوظ ہیں۔
کوئٹہ میں قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکاروں نے خالد ایئر بیس اور سمنگلی ایئر بیس پر حملوں کی کوشش ناکام بناتے ہوئے 11 دہشت گردوں کو ہلاک کر دیا اور آپریشن مکمل ہونے کے بعد خالد ایئربیس و سمنگلی ایئربیس کو کلیئر کر دیا گیا۔ ادھر قانون نافذ کرنے والے اداروں اور کوئٹہ میں جناح ٹاؤن پولیس نے کلی پائند خان میں ایک مکان پر چھاپہ مار کر وہاں سے تیار شدہ 3 خودکش جیکٹ،8 عدد دستی بم، پستول اور کلاشنکوف کے اسٹینڈ برآمد کر کے قبضے میں لے لیے۔
وزیر اعلیٰ بلوچستان ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ نے خالد ایئربیس اور سمنگلی ایئربیس پر ہونے والے حملوں کو ناکام بنانے والے اہلکاروں کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا ہے کہ عام عوام کے تعاون سے ایسا ممکن ہوا عوام اور فورسز متحد ہو جائیں تو کوئی ہمیں شکست نہیں دے سکتا، ہمیں پہلے سے ہی اندازہ تھا کہ یہاں قومی تنصیبات کو نقصان پہنچانے کی کوششیں کی جائیں گی اسی لیے تمام فورسز مکمل طور پر الرٹ تھیں، ایئربیس میں لائٹس اور دیگر ضروریات کا بروقت بندوبست کیا گیا تھا۔ چیف آف ایئر اسٹاف ایئر چیف مارشل طاہر رفیق بٹ نے کوئٹہ پر دہشت گردوں کے حملوں کو ناکام بنانے پر سیکیورٹی فورسز کی تعریف کرتے ہوئے کہا ہے کہ ہمیں سمجھنا چاہیے کہ ہم چھپے ہوئے دشمن کے خلاف حالت جنگ میں ہیں یہ بزدلانہ حملے ہمارے مادر وطن کے خلاف دفاع کے جذبے کو کمزور نہیں کر سکتے۔
ایئر فورس کی ملکی ایئر بیسز اور انفرا اسٹرکچر کے ایک ایک رینج کا دفاع کیا جائے گا۔ اگر یہی جذبہ سلامت رہا تو بلاشبہ کوئی باطل طاقت ریاستی عزم کو چیلنج نہیں کر سکے گی۔ حقیقت یہ ہے کہ ملکی داخلی سیاسی صورتحال، لانگ اور انقلاب مارچ کے وسیع تر سیناریو کے تناظر میں ارباب اختیار کو تاریخی شعور، عملیت پسندی اور معاملہ فہمی کا بے مثال عملی نمونہ پیش کرنے کا سنہرا موقع ملا ہے، مستقبل کا مورخ دہشت گردی کے خلاف پاک فوج کے عزم اور غیر متزلزل عوامی حمایت کی زندہ و تابندہ لہر کو ایک دائمی حوالہ کے طور پر رقم کرے گا۔ آزمائش کی اس نازک گھڑی میں جمہوریت کے پائے استقلال میں کوئی لغزش نہیں آنی چاہیے۔