امریکا کی ایران پر نئی پابندیاں، تیل کی برآمدات اور میزائل پروگرام کو نشانہ بنایا
پلان بی؛ ٹرمپ نے حملے میں ناکامی پر ایرانی حکومت گرانے کا منصوبہ بنالیا؛ رپورٹ
امریکا نے جنگ کے دباؤ اور جوہری مذاکرات کے دوران ایک بار پھر ایران پر پابندیاں عائد کردیں۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق امریکا نے ایران کے خلاف نئی پابندیاں عائد کی ہیں جس میں خاص طور پر وہ جہاز نشانہ بنائے گئے ہیں جو ایرانی تیل فروخت کر کے ملک کے بیلسٹک میزائل پروگرام کے لیے فنڈز فراہم کر رہے ہیں۔
پابندیوں کے تحت 12 جہازوں، متعدد کمپنیوں اور افراد کو نشانہ بنایا گیا ہے جن کے امریکا میں موجود اثاثے منجمد کر دیے جائیں گے اور امریکی شہریوں کے لیے ان کے ساتھ مالی لین دین ممنوع ہو جائے گا۔
یہ پابندیاں صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے انتظامیہ کے "زیادہ سے زیادہ دباؤ" مہم کے تحت لگائی گئی ہیں۔
امریکی وزارت خزانہ کے سکریٹری اسکاٹ بیسنٹ نے کہا کہ ایران غیر قانونی تیل کی فروخت کے ذریعے مالیاتی نظام کا غلط استعمال کرتا ہے جس سے ہتھیار خریدے جاتے ہیں اور دہشت گرد گروہوں کی مدد کی جاتی ہے۔
دوسری جانب امریکا نے خطے میں اپنے فوجی وسائل بھی بڑھا دیے ہیں جن میں دو ایئرکرافٹ کیریئرز اور بڑی لڑاکا ہوائی جہاز کی فلیٹس شامل ہیں تاکہ ایران کے خلاف ممکنہ فوجی کارروائی کے لیے تیاری کی جا سکے۔
امریکا نے یہ پابندیاں صدر ٹرمپ کی پہلی مدت میں 2018 میں ایران کے ساتھ جوائنٹ کمپریہنسیو پلان آف ایکشن (عالمی جوہری معاہدے) کو ختم کرنے کے بعد عائد کرنا شروع کیں۔
خیال رہے کہ اس عالمی جوہری معاہدے کے تحت ایران نے اپنے جوہری پروگرام میں کمی کی تھی جس کے بدلے بین الاقوامی پابندیاں ختم کی گئی تھیں۔
صدر ٹرمپ کی 2025 میں دوبارہ صدارت سنبھالنے کے بعد ایران کے تیل کے برآمدات کو روکنے کے لیے معاشی دباؤ کی مہم کو دوبارہ تیز کیا گیا ہے۔