امریکا کے سابق وزیر خزانہ ایپسٹین جنسی اسکینڈل میں نام آنے پر مستعفی
امریکا کے سابق وزیر خزانہ لیری سمرز نے استعفیٰ دیدیا
امریکا کے سابق وزیرِ خزانہ لیری سمرز ایپسٹین سے تعلقات کے معاملے پر ہارورڈ یونیورسٹی میں عہدہ چھوڑنے کا اعلان کردیا۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق لارنس ہنری سمرز امریکا کے سابق وزیرِ خزانہ اور ہارورڈ یونیورسٹی کے سابق صدر بھی رہ چکے ہیں۔
انھوں نے اپنے تعلیمی عہدوں سے استعفیٰ دینے کا اعلان کیا ہے۔ ہارورڈ یونیورسٹی نے اعلان کیا ہے کہ سمرز اپنی پروفیسر شپ اور تمام اکیڈمک عہدوں سے اس تعلیمی سال کے اختتام پر ریٹائر ہو جائیں گے۔
وہ نو نومر مورساوار-رحمانی سنٹر فار بزنس اینڈ گورنمنٹ میں اپنے لیڈرشپ کے عہدے سے بھی مستعفی ہو چکے ہیں۔
یہ اقدام بدنام زمانہ مجرم جیفری ایپسٹین کے ساتھ تعلقات سے متعلق سامنے آنے والے دستاویزات کے بعد سامنے آیا ہے۔
سمرز نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ یہ مشکل فیصلہ تھا اور انھوں نے اپنی 50 سال سے زیادہ کی تعلیمی خدمات کے دوران طالب علموں اور ساتھیوں کے ساتھ کام کرنے کے لیے اپنی قدردانی کا اظہار کیا ہے۔
انھوں نے کہا ہے کہ وہ تحقیق، تجزیے اور عالمی اقتصادی مسائل پر تبصرے کے ذریعے مستقبل میں اپنی شراکت جاری رکھیں گے۔
یاد رہے کہ سمرز نے کلنٹن انتظامیہ کے دوران امریکا کے وزیرِ خزانہ کے طور پر خدمات انجام دیں جب کہ بعد میں انھوں نے ہارورڈ یونیورسٹی کے صدر کے طور پر پانچ سال کام کیا۔
ان کا نام ایپسٹین فائلز میں اس لیے سامنے آیا تھا کیونکہ ایپسٹین نے ہارورڈ کو بڑی رقم کے عطیات دیے تھے، جس کے بعد سمرز اور ایپسٹین کے درمیان متعدد خط و کتابت ظاہر ہوئی۔
اس سے قبل سمرز نے OpenAI کے بورڈ سے بھی استعفیٰ دیا تھا جبکہ انہیں امریکی اکنامک ایسوسی ایشن نے عمر بھر کے لیے پابندی عائد کی تھی جس کا تعلق بھی ایپسٹین فائلز میں سامنے آنے والی معلومات سے تھا۔