کرپشن الزامات؛ چین میں 9 اعلیٰ فوجی افسران اور 10 حکومتی شخصیات برطرف
چین میں میں کرپشن کے خلاف جاری سخت مہم کے دوران فوجی قیادت اور اعلیٰ حکومتی شخصیات پر قانون کا شکنجہ تنگ کردیا گیا۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق چین نے آئندہ ہفتے ہونے والے اہم سالانہ سیاسی اجلاس سے قبل غیر معمولی طور پر فوجی افسران سمیت 19 اعلیٰ عہدیداروں کو قانون سازوں کی فہرست سے ہٹا دیا۔
یہ اجلاس 4 مارچ سے 11 مارچ تک دارالحکومت بیجنگ میں منعقد ہوں گے جہاں ہزاروں نمائندے شرکت کریں گے۔ اجلاس کے دوران حکومت آئندہ پانچ سالہ پالیسی اہداف اور سالانہ معاشی ہدف بھی پیش کرے گی۔
چین کے اعلیٰ قانون ساز ادارے کی قائمہ کمیٹی نے بتایا کہ برطرف کیے گئے 19 افراد میں 9 فوجی افسران بھی شامل ہیں تاہم نے ان برطرفیوں کی کوئی وجہ نہیں بتائی گئی۔
یہ اقدام ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب چینی صدر شی جنپنگ ملک میں بدعنوانی کے خلاف وسیع مہم جاری رکھے ہوئے ہیں۔
اقتدار سنبھالنے کے بعد انھوں نے بدعنوانی کو کمیونسٹ پارٹی کے لیے سب سے بڑا خطرہ قرار دیتے ہوئے اعلیٰ اور نچلی سطح دونوں پر کارروائی شروع کی تھی جسے “ٹائیگرز اینڈ فلائز” مہم کہا جاتا ہے۔
حال ہی میں شی جن پنگ نے اپنے قریبی اتحادی اور اعلیٰ فوجی جنرل زاہنگ یوشیا کو بھی عہدے سے ہٹا دیا تھا۔ ان پر سنگین نظم و قانون کی خلاف ورزیوں کا الزام لگایا گیا تھا جو چین میں عام طور پر بدعنوانی کے الزامات کے لیے استعمال ہونے والی اصطلاح ہے۔
اکتوبر 2025 میں بھی فوج کے اندر بڑے پیمانے پر کارروائی کرتے ہوئے نو اعلیٰ جرنیلوں کو ان کے عہدوں سے ہٹا دیا گیا تھا جسے حکومت نے انسدادِ بدعنوانی مہم کا حصہ قرار دیا تھا۔
تاہم بعض ناقدین کا کہنا ہے کہ یہ مہم سیاسی مخالفین کو ہٹانے کا ذریعہ بھی بن سکتی ہے۔