ایران اور امریکا اسرائیل جنگ؛ پاکستانی شہریوں کی وطن واپسی کا سلسلہ تیز

سرحدی مقامات پر امیگریشن حکام 24 گھنٹے ڈیوٹی سرانجام دے رہے ہیں، وزیراعلیٰ بلوچستان

کوئٹہ:

ایران اور امریکا اسرائیل جنگ کے بعد پاکستانی شہریوں کی وطن واپسی کا سلسلہ تیز ہوگیا۔

ایکسپریس نیوز کے مطابق بلوچستان کے سرحدی علاقوں تفتان اور گوادر کے راستے پاکستانی طلبہ، زائرین، سیاح اور دیگر شہری ایران سے محفوظ واپس پہنچ رہے ہیں۔ یہ عمل ایران میں بڑھتے ہوئے تنازع کے باعث پاکستانیوں کی حفاظت کو یقینی بنانے کے لیے شروع کیا گیا ہے۔

ڈپٹی کمشنر چاغی کے مطابق گزشتہ شب ایران کے شہر زاہدان سے 19 طلبہ و طالبات تفتان بارڈر کراس کر کے پاکستان پہنچ گئے۔ یہ تمام طلبہ زاہدان میڈیکل یونیورسٹی سے تعلق رکھتے ہیں ان میں سے 12 کا تعلق پنجاب سے جبکہ 7 کا خیبر پختونخوا سے ہے۔ ان طلبہ کو سرحد پر ضروری طبی اور انتظامی چیک اپ کے بعد ان کے آبائی علاقوں کی طرف روانہ کرنے کا انتظام کردیا گیا۔

دوسری جانب ڈپٹی کمشنر گوادر نقیب اللہ کاکڑ نے ایکسپریس کو بتایا کہ گوادر کے راستے گبد-رمدان سرحد سے مجموعی طور پر 51 پاکستانی شہری واپس پہنچ چکے ہیں۔ ان میں 5 طلبہ کے علاوہ زائرین، سیاح اور تاجر بھی شامل ہیں۔ یہ افراد ایران میں پیدا ہونے والی غیر یقینی صورتحال کی وجہ سے مشکلات کا سامنا کر رہے تھے۔

ڈائریکٹر ایف آئی اے بلوچستان محمد بہرام خان نے ایکسپریس سے بات چیت کرتے ہوئے کہا ہے کہ سرحد پر 24 گھنٹے امیگریشن سہولیات فراہم کی جا رہی ہیں تاکہ پاکستانی شہریوں کی واپسی کا عمل بغیر کسی رکاوٹ کے جاری رہے۔ واپس آنے والے تمام شہریوں کو خوراک، رہائش اور سفری سہولیات فراہم کی جا رہی ہیں، اور انہیں جلد از جلد ان کے متعلقہ صوبوں اور شہروں کی طرف بھیجا جائے گا، یہ واپسی کا عمل ایران میں امریکہ اور اسرائیل کے حملوں کے بعد پیدا ہونے والی جنگی صورتحال کا نتیجہ ہے، جس نے علاقائی استحکام کو شدید متاثر کیا ہے۔

پاکستانی حکام نے ایران میں موجود دیگر پاکستانیوں، خصوصاً طلبہ اور زائرین سے اپیل کی ہے کہ وہ دستیاب راستوں سے جلد واپس آئیں حکام نے مزید بتایا کہ تفتان اور گوادر بارڈر پر نقل و حرکت کو برقرار رکھا گیا ہے، اور مزید پاکستانی شہریوں کی آمد متوقع ہے۔ پاکستان حکومت ایران میں پھنسے اپنے شہریوں کی محفوظ واپسی کے لیے تمام ممکنہ اقدامات کر رہی ہے۔

متعلقہ

Load Next Story