خامنہ ای کے بعد ایران میں حکومت کس کی ہوگی؟ شاہ ایران کی بیوہ کا بیان آگیا
فرح پہلوی 1971 کے ایرانی انقلاب کے بعد فرار ہوکر پیرس میں جلاوطن ہیں
ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای کی اسرائیلی حملے میں شہادت کے بعد پہلے بار شاہِ ایران کی اہلیہ فرح پہلوی کا بیان سامنے آگیا۔
ٹائمز آف اسرائیل کے مطابق ایک انٹرویو میں سابق شاہِ ایران رضا پہلوی کی اہلیہ نے کہا کہ آیت اللہ خامنہ ای کی ہلاکت کو تاریخی اہمیت کا حامل واقعہ قرار دیا ہے۔
فرح پہلوی نے کہا کہ ایک شخص کی موت چاہے وہ طاقت کے ڈھانچے میں کتنے ہی اہم کیوں نہ ہو خودکار طور پر متحرک و سرگرم نظام کے خاتمے کا باعث نہیں بن سکتی۔
انھوں نے اپنی بات جاری رکھتے ہوئے کہا کہ لیکن اس کے بعد بھی اسلامی جمہوریہ ایران کے آمرانہ نظام کا خاتمہ خودبخود نہیں ہوجائے گا۔
فرح پہلوی کا مزید کہنا تھا کہ یہ ایرانی عوام کی صلاحیت ہوگی کہ وہ پُرامن، منظم اور قانون کی حکمرانی پر مبنی نظام قائم کر سکیں۔
انھوں نے انکشاف کیا کہ ان کے بیٹے اور ایران کے سابق ولی عہد رضا پہلوی اس عبوری نظام کے منصوبے کی تیاریوں میں مصروف ہیں۔
یاد رہے کہ ایران میں پہلوی خاندان کی بادشاہت کا خاتمہ 1979 میں ایرانی انقلاب کے ذریعے ہوا تھا اور شاہی خاندان کو جلاوطن ہونا پڑا تھا۔
فرح پہلوی اپنے شوہر اور خاندان کے ہمراہ 1979ء کے انقلاب کے بعد ایران سے جلا وطن ہو کر تاحال پیرس میں مقیم ہیں۔
ان کے بیٹے رضا پہلوی چند ماہ سے امریکا اور برطانیہ کے دورے کرچکے ہیں اور سیاسی طور پر کافی متحرک ہیں۔