امریکی سیکیورٹی ضمانتوں پر عدم اطمینان؛ فرانس کا جوہری ہتھیاروں میں اضافے کا فیصلہ

فرانسیسی صدر کے بقول عالمی بدلتی ہوئی صورت حال پر پالیسی تبدیل کرنے پر مجبور ہوئے

جوبائیڈن نے نیتن یاہو کے وارنٹ گرفتاری پر عالمی عدالت کی سخت مذمت کی تھی اور اسے اشتعال انگیز قرار دیا تھا (فوٹو: فائل)

فرانس کے صدر ایمانوئیل میکرون نے یورپ کی بدلتی ہوئی سکیورٹی صورتحال کے تناظر میں ملک کے جوہری ہتھیاروں کی صلاحیت میں اضافے کا اعلان کیا ہے۔

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق روس، جرمنی اور نیٹو نے بھی ایران سے متعلق جاری کشیدگی پر اپنے اپنے مؤقف واضح کر دیے ہیں۔

فرانسیسی صدر ایمانوئیل میکرون نے ایک بیان میں کہا کہ یورپی اتحادیوں کے لیے امریکی سکیورٹی ضمانتوں کے حوالے سے غیر یقینی صورتحال پائی جاتی ہے۔

انھوں نے مزید کہا کہ فرانس کو اپنی دفاعی حکمت عملی کا ازسرنو جائزہ لینا پڑا اپنی خودمختار دفاعی پالیسی کے تحت جوہری ہتھیاروں کی استعداد میں اضافہ کریں گے۔

خیال رہے کہ فرانس یورپی یونین کی واحد ایٹمی طاقت ہے اس لیے اس کا یہ فیصلہ پورے یورپ کی سیکیورٹی پالیسی پر اثرانداز ہوسکتا ہے۔

ادھر روسی صدر ولادیمیر پیوتن نے سعودی ولی عہد محمد بن سلمان سے ٹیلیفون پر گفتگو کی۔ دونوں رہنماؤں نے مشرق وسطیٰ کی موجودہ صورتحال اور خطے میں کشیدگی کم کرنے کے طریقوں پر تبادلہ خیال کیا۔

سفارتی ذرائع کے مطابق گفتگو میں اس بات پر زور دیا گیا کہ بحران کا حل سیاسی اور سفارتی ذرائع سے تلاش کیا جانا چاہیے۔

دوسری جانب جرمنی نے واضح کیا کہ وہ ایران کے خلاف کسی بھی فوجی کارروائی میں حصہ نہیں لے گا۔

جرمن وزیر خارجہ نے کہا کہ حکومت کا اس تنازع میں عسکری شمولیت کا کوئی ارادہ نہیں ہے اور برلن سفارتی حل کو ترجیح دیتا ہے۔

نیٹو اتحاد نے بھی ایران سے متعلق کسی ممکنہ جنگ میں براہ راست شمولیت سے انکار کیا ہے۔

اتحاد کے ذرائع کا کہنا ہے کہ نیٹو اس وقت خطے کی صورتحال پر نظر رکھے ہوئے ہے، تاہم کسی مشترکہ فوجی کارروائی کا فیصلہ نہیں کیا گیا۔

 

Load Next Story