علاقائی صورتحال: آئی ایم ایف نے پاکستان سے ہنگامی معاشی پلان طلب کرلیا

2025ء کے اختتام تک54 ہزار سرکاری نوکریاں ختم کرنے سے 56 ارب روپے کی بچت متوقع ہے، حکام

(فوٹو: فائل)

اسلام آباد:

بین الاقوامی مالیاتی فنڈ(آئی ایم ایف) نے پاکستان سے موجودہ علاقائی صورتحال کے تناظر میں ہنگامی معاشی اقدامات پر مبنی جامع پلان طلب کر لیا ہے۔

ذرائع کے مطابق وزارت خزانہ، وزارت توانائی اور وزارت تجارت مشترکہ طور پر ہنگامی اقدامات سے آئی ایم ایف کا پاکستان سے علاقائی کشیدگی پر پلان تیار کریں گی۔  

وزارت خزانہ ذرائع کا کہنا ہے کہ پاکستان کی اقتصادی ٹیم اور آئی ایم ایف جائزہ مشن کے درمیان تیسرے اقتصادی جائزہ پر آن لائن مذاکرات جاری ہیں۔  ذرائع کے مطابق آئی ایم ایف نے پائیدار معاشی ترقی کے لیے جاری اصلاحات کو تیز کرنے اور ٹیکس وصولی بڑھانے کے لیے مزید مؤثر اقدامات پر زور دیا ہے۔

ذرائع کا مزید کہنا ہے کہ ایف بی آر حکام نے آئی ایم ایف کو ٹیکس ہدف حاصل نہ ہونے کی وجوہات سے آگاہ کیا ہے۔ رواں مالی سال کے لیے نظرثانی شدہ 13 ہزار 979 ارب روپے کا ہدف حاصل کرنا مشکل قرار دیا جا رہا ہے۔

آئی ایم ایف وفد کو پیپرا کے 2004 کے قواعد میں مجوزہ ترامیم سے متعلق رپورٹ پر بھی بریفنگ دی گئی۔ وفد کو پروکیورمنٹ ڈیٹا تک سی سی پی، نیب اور آڈیٹر جنرل کی رسائی سے متعلق اقدامات سے بھی آگاہ کیا گیا۔

ذرائع کے مطابق وفاق اور 3 صوبوں میں ای پیڈ سسٹم کے تحت سرکاری خریداری کو مزید وسعت دی جائے گی اور نظام کو اپ ڈیٹ کیا جائے گا۔ اس دوران رائٹ سائزنگ کمیٹی کے تحت کیے گئے فیصلوں، مالیاتی بچت اور ادارہ جاتی ڈھانچے میں تبدیلیوں پر بھی مذاکرات ہوئے۔

حکام کے مطابق 2025 کے اختتام تک 54 ہزار سرکاری نوکریاں ختم کی جا چکی ہیں جس سے سالانہ 56 ارب روپے کی بچت متوقع ہے۔ وزارت خزانہ ذرائع کا کہنا ہے کہ آئی ایم ایف وفد کے ساتھ صوبائی حکام کی بھی ورچوئل میٹنگز شیڈول ہیں۔

Load Next Story