یو اے ای دو ارب ڈالر کا قرضہ واپس نہیں مانگ رہا، گورنر اسٹیٹ یبنک
گورنر اسٹیٹ بینک جمیل احمد نے کہا ہے کہ یو اے ای دو ارب ڈالر کا قرضہ واپس نہیں مانگ رہا، پہلے وہ قرضہ سالانہ بنیادوں پر رول اوور کرتا تھا اب ماہانہ بنیادوں پر رول اوور کررہا ہے، پہلے ڈیبٹ سورسنگ چار ارب ڈالر تک پہنچ گئی تھی یہ بھی اب کم ہوگئی ہے، اس وقت ملکی برآمدات دباؤ میں ہیں۔
یہ بات انہوں نے قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی خزانہ میں بریفنگ دیتے ہوئے کہی۔ اجلاس میں کمیٹی کے ارکان، وزیر خزانہ، وزارت خزانہ کے حکام، اسٹیٹ بینک حکام اور دیگر موجود تھے۔
گورنر اسٹیٹ بینک جمیل احمد نے کہا کہ اس سال مہنگائی کی شرح پانچ سے سات فیصد کے درمیان رہنے کی توقع ہے، 2022ء میں کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ ساڑھے سترہ ارب ڈالر تھا جسے کم کرنے کے لیے اقدام اٹھائے جو 2022ء میں کی ڈی پی کے 4.7 فیصد تھا یہ 2023ء میں کم ہوکر جی ڈی پی کے ایک فیصد کے برابر ہوگیا اور پچھلے سال دو ارب ڈالر سرپلس رہا ہے اور چودہ سال بعد کرنٹ اکاؤنٹ سرپلس ہوا ہے۔
گورنر اسٹیٹ بینک نے کہا کہ ابھی بھی کرنٹ اکاؤنٹ کے حوالے سے کمفرٹ ایبل ہیں، پہلے ملک کے زرمبادلہ کے ذخائر 2.8 ارب ڈالر تھے جو صرف دو ہفتے کی درآمد کے برابر تھے ہم نے زرمبادلہ کے ذخائر بڑھانے کی حکمت عملی اپنائی، اس وقت سولہ ارب ڈالر سے زائد ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ ملک کا بیرونی قرضہ سات سال کے دوران 55 ارب ڈالر سے بڑھ کر 103 ارب ڈالر ہوگیا تھا اور پچھلے سال سے یہ قرضہ اسی سطح پر برقرار رکھا ہوا ہے، اس وقت ملک کا کل قرضہ 148ارب ڈالر ہے، اس میں حکومت کا قرضہ 103قرب ڈالر کے لگ بھگ ہے، جون2026ء کے آخر تک زرمبادلہ کے ذخائر بڑھا کر 18 ارب ڈالر تک لے جانے کا ہدف مقرر کر رکھا ہے، دسمبر 2026ء تک زرمبادلہ کے ذخائر بڑھا کر 20 ارب ڈالر تک لے جانے کا ہدف ہے۔
انہوں نے کہا کہ یو اے ای دو ارب ڈالر کا قرضہ واپس نہیں مانگ رہا، فرق صرف یہ ہے کہ پہلے یو اے ای کا قرضہ سالانہ بنیادوں پر رول اوور ہوتا تھا اب ماہانہ بنیادوں پر رول اوور ہورہا ہے، پہلے ڈیبٹ سورسنگ چار ارب ڈالر تک پہنچ گئی تھی یہ بھی اب کم ہوگئی ہے، اس وقت ملکی برآمدات دباؤ میں ہیں۔
چیئرمین کمیٹی سلیم مانڈوی والا نے کہا کہ آپ ایکسپورٹ کی اسکیمیں ختم کرتے جارہے ہیں اس وجہ سے دباؤ میں ہیں۔
گورنر نے کہا کہ ایکسپورٹ ری فنانسنگ اسکیم ختم نہیں کی گئی، برآمدات نہ بڑھنے کی اور بھی وجوہات ہیں، فوڈ آئٹمز کی قیمت میں کمی بھی ایک وجہ ہے ایک تو عالمی منڈی میں قیمتیں کم ہیں اور ڈیمانڈ بھی کم ہوئی۔
گورنر اسٹیٹ بینک نے بتایا کہ اس سال برآمدات میں سات فیصد کمی ہوئی ہے، برآمدات میں کمی کی ایک وجہ چاول کی برآمد میں کمی بھی ہے صرف چاول کی برآمد میں ایک ڈالر کی کمی ہوئی ہے، جب آپ آئی ایم ایف کے پروگرام میں ہوتے ہیں تو سبسڈی اور ری بیٹ اس طرح دے نہیں سکتے۔