امریکی ایوان نمائندگان میں ایران جنگ پر ٹرمپ کے اختیارات محدود کرنے کی قرارداد پر ووٹنگ
امریکی ایوان نمائندگان میں ایران کے ساتھ جاری جنگ کے معاملے پر صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اختیارات محدود کرنے کے لیے وار پاورز قرارداد پر آج ووٹنگ متوقع ہے۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق اس قرارداد کا مقصد صدر ٹرمپ کو پابند کرنا ہے کہ وہ ایران کے خلاف جنگ جاری رکھنے سے پہلے کانگریس سے باقاعدہ اجازت حاصل کریں۔
ایوانِ نمائندگان کی خارجہ امور کمیٹی کے سرکردہ ڈیموکریٹ رہنما نے کہا کہ ڈونلڈ ٹرمپ بادشاہ نہیں ہیں۔ اگر وہ سمجھتے ہیں کہ ایران کے ساتھ جنگ امریکا کے قومی مفاد میں ہے تو انہیں کانگریس میں آ کر اس کا جواز پیش کرنا ہوگا۔
دوسری جانب ریپبلکن رہنما ایران جنگ اور ممکنہ دہشت گرد حملوں کے خدشے کو بنیاد بنا کر محکمہ ہوم لینڈ سکیورٹی کی فنڈنگ کے لیے بھی ووٹنگ کرانا چاہتے ہیں۔
امریکی ایوانِ نمائندگان کے اسپیکر مائیک جانسن کا کہنا ہے کہ ایران میں جاری فوجی کارروائیوں کے باعث محکمہ ہوم لینڈ سکیورٹی کو مکمل فنڈنگ اور عملہ فراہم کرنا پہلے سے زیادہ ضروری ہو گیا ہے۔
خیال رہے کہ امریکی آئین کے مطابق جنگ کا اعلان کرنے کا اختیار صرف کانگریس کو حاصل ہے اور صدر کو جنگ سے پہلے کانگریس کی اجازت لینا بے حد ضروری ہے۔
یاد رہے کہ گزشتہ روز امریکی سینیٹ میں اسی نوعیت کی قرارداد پارٹی بنیادوں پر ووٹنگ کے باعث مسترد ہو گئی تھی۔
امریکی میڈیا نے دعویٰ کیا کہ ایوانِ نمائندگان میں اس قرارداد پر ووٹنگ کے لیے حق اور مخالفت میں پڑنے والے ووٹوں کی تعداد میں زیادہ فرق نہیں ہوگا۔
اسی دوران امریکی محکمہ دفاع نے حالیہ ڈرون حملے میں ہلاک ہونے والے دو مزید فوجیوں کے نام بھی جاری کیے ہیں جن کی شناخت چیف وارنٹ آفیسر رابرٹ مارزن اور میجر جیفری اوبرائن کے طور پر کی گئی ہے۔
امریکہ میں سیاسی محاذ پر ایک اور پیش رفت میں ریپبلکن سینیٹر نے اچانک اپنی تیسری مدت کے لیے انتخاب لڑنے کا ارادہ ترک کر دیا ہے۔
سابق امریکی صدر باراک اوباما ورجینیا میں انتخابی حلقہ بندیوں کی نئی مہم کی حمایت کر رہے ہیں جو رواں سال کے وسط مدتی انتخابات سے قبل اہم سیاسی معاملہ بن چکی ہے۔