فلسطینی مفادات نظر انداز ہوئے تو ’بورڈ آف پیس‘ سے الگ ہو جائیں گے؛ انڈونیشیا
انڈونیشیا غزہ میں 5 ہزار سے 8 ہزار فوجی ٹرمپ کے امن مشن کا حصہ بنائے گی
دنیا کے سب سے بڑے مسلم اکثریتی ملک انڈونیشیا کے صدر نے کہا ہے کہ اگر امریکی صدر ٹرمپ کے مجوزہ پلیٹ فارم بورڈ آف پیش سے فلسطینیوں کو فائدہ نہ پہنچا تو اس سے علیحدہ ہو جائیں گے۔
حکومتی بیان کے مطابق صدر پرابووو نے جمعرات کی شام مقامی اسلامی تنظیموں کے رہنماؤں سے ملاقات کی جس میں انہوں نے اس بورڈ میں شمولیت کے فیصلے کی وضاحت کی۔
صدر نے یقین دہانی کرائی کہ اگر اس پلیٹ فارم سے فلسطین یا انڈونیشیا کے قومی مفادات کو فائدہ نہ پہنچا تو حکومت غزہ بورڈ آف پیس سے فوری طور پر دستبردار ہو جائے گی۔
انڈونیشیا کے صدر نے واضح کیا ہے کہ اگر انہیں محسوس ہوا کہ یہ اقدام فلسطینی مفاد میں نہیں یا انڈونیشیا کے قومی مفادات سے مطابقت نہیں رکھتا تو وہ فوراً بورڈ سے علیحدگی اختیار کر لیں گے۔
اندرون ملک تنقید
انڈونیشیا کی اس بورڈ میں شمولیت اور غزہ میں استحکام کے لیے ممکنہ فوجی دستہ بھیجنے کے فیصلے پر ملک کے ماہرین اور مذہبی حلقوں کی جانب سے تنقید سامنے آئی ہے۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ اس اقدام سے فلسطینی کاز کی طویل عرصے سے جاری انڈونیشی حمایت متاثر ہو سکتی ہے۔
علما اور مذہبی تنظیموں کا مؤقف
اس سے قبل انڈونیشیا کی علما کونسل نے مطالبہ کیا تھا کہ ایران کے خلاف جاری جنگ میں امریکا کے کردار کے باعث انڈونیشیا کو اس بورڈ سے الگ ہو جانا چاہیے۔
دوسری جانب ملک کی سب سے بڑی اسلامی تنظیم کا بھی کہنا تھا کہ حکومت اس پلیٹ فارم کو مشرق وسطیٰ میں کشیدگی کم کرنے کے لیے استعمال کر سکتی ہے۔
تنظیم کے سربراہ کے مطابق انڈونیشیا اس بورڈ کے ذریعے ایران کے خلاف امریکی اور اسرائیلی کارروائیوں کے تناظر میں جنگ بندی اور مذاکرات کی ضرورت پر زور دے سکتا ہے۔
بورڈ آف پیس کی سرگرمیاں معطل
انڈونیشیا کے وزیر خارجہ پہلے ہی بتا چکے ہیں کہ ایران جنگ کے باعث بورڈ آف پیش کی تمام سرگرمیاں فی الحال معطل کر دی گئی ہیں۔