پیدائش اورموت (دوسرا اورآخری حصہ)
barq@email.com
جب کھانے بیٹھتے تو ایک ہی برتن میں کئی ذائقے ہوتے، کسی کسی خوش نصیب کے ہاتھ گوشت کی بوٹی یا مرغا مرغی کی ہڈی بھی لگ جاتی چنانچہ اس سے ایک اصطلاح بھی بن گئی ہے جہاںکسی قسم کا کوئی اجتماع یا پارٹی یاجمگھٹا گوناگوں لوگوں کا ہوتا ہے تو طنزیہ طورپر اسے طالبان کا سالن کہا جاتا ہے ہاں ان چھڑوں کو طالبان بھی کہا جاتا تھا کیوں کہ مسجد میں رہنے کا جواز پیداکرنے کے لیے یہ چھڑے یا طالبان استاد سے کچھ سبق بھی پڑھتے تھے ، قاعدہ ، سپارہ ، قرآن ،ناظرہ ،اذان، اقامت، چند سورتیں دعائیں وظائف کبھی کبھی استاد کی غیر موجودگی میں کوئی طالب آگے ہوکر نماز بھی پڑھا لیتا تھا۔ اس طرح جو طالب یا چھڑا قرآن ناظرہ چند ضروری روزمرہ کے دینی کام سیکھ لیتا تھا تو کسی نہ کسی جگہ امام بھی بن جاتا یوں آہستہ آہستہ اکثر مساجد میں ایسے ہی امام پیدا ہوتے چلے گئے جن کو چند روزمرہ کی چیزوں کے سوا کچھ بھی نہیں آتا تھا، لکھت پڑھت سے بھی عاری ہوتے تھے چنانچہ باقی کام سنی سنائی کہانیوں سے چلاتے تھے ، دم چف بھی کرتے تھے ۔
پھرآہستہ آہستہ تعویذ بھی لکھتے تھے ، لوگ آتے اوربچوں بلکہ بڑوں کی بیماریوں کے لیے یہ پرچ پیالے لکھواتے تھے ، پرچ پیالوں کے اندر یہ لوگ کچھ لکھ دیا کرتے تھے اورپھر بیماروں کو ان پرچ پیالوں میں پانی یا دودھ پلاتے تھے ، ہم نے خود بچپن میں ایسے پرچوں اور پیالوں سے پیا ہے لیکن پھر اس سائیڈبزنس کے ساتھ ایک اورسائیڈ بزنس یہ شروع ہوا کہ ان میں جو شاعر طبع لوگ تھے وہ فارسی کتابوں کو مقامی زبانوں میں منظوم ترجمہ کرتے تھے اورناشر لوگ ان کو چھاپتے تھے ، یوں فارسی سے کہانیوں کی کتابیں بھی ترجمہ ہوئیں، الف لیلیٰ ، داستان امیر حمزہ ، شاہنامہ فردوسی ، فسانہ عجائب، بہرام گل اندام، سیف الملوک ، پدری جمال اوران میں ’’افسانے‘‘ کا اندازہ اس سے لگائیے کہ اس دور میں جو قصے مروج تھا اورگھروں حجروں اورمسجد میں کثرت سے پڑھا اورسنا جاتا تھا۔
خیر ہم اپنے ملا کی بات کرتے ہیں جو چھڑوں سے ترقی کرکے ملا اوراخوند بن گیا یا بنایا گیا کیوں کہ لوگوں کو عالم نہیں بلکہ ایسا ملا چاہیے تھا جو ان ہی کی طرح ہو۔ چنانچہ مسجد میں سب سے آگے اور رتبے میں سب سے پیچھے یہ ملا ایک عجیب وغریب کیریکٹر بن گیا جو دوسرے پیشہ وروں سے بھی کم رتبہ تھا کہ پیشہ ور تو پھر اپنے کام کامعاوضہ وصول کرتے تھے یامقررکرتے اوراپنی مرضی سے چھٹی بھی کرتے تھے اپنے گھر میں اپنی پسندکی کھاتے پیتے ، اوڑھتے پہنتے اورکھاتے پیتے بھی تھے لیکن اس ملا کی نہ کوئی مقررہ تنخواہ تھی نہ معاوضہ اورچوبیس گھنٹے کی بلاناغہ حاضری تھی، لباس جوتے پگڑی وغیرہ ’’میتوں‘‘ کے دیے جاتے تھے اورکھانا بھی معمولی ہوتا تھا۔ اس کااندازہ ایک لطیفے سے لگایاجا سکتا ہے کہ ایک مسجد کے ایک ایسے ہی ملا نے کھانا لانے والے بچے سے کہا کہ بیٹا اپنے باپ سے کہنا کہ اس تکلیف کی کوئی ضرورت نہیں مجھے تھوڑا سا نمک بجھوادے اورساگ کا وہ کھیت بتادے میں خود ہی جاکر اورنمک چھڑک کر کھا لیاکروںگا۔
یہی وہ دورہے جس میں وہ مخصوص اور نئی روایات مروج ہوئیں جس میں نکاحوں، طلاقوں اورحلالہ کی عجیب وغریب شکلیں مروج ہوئیں ۔ امام وہی ’’مسائل ‘‘کتاب سے نکالتے جو پیچھے کھڑے والے چاہتے ، نہ نکالتا تو بغیر کسی نوٹس اور وجہ کے بیک بینی ودوش ودوگوش نکال دیا جاتا چنانچہ سب لوگوں نے اسے نیچے کامقام دیا تو اس نے بھی معاملات دینی کو اپنا کھیت، اپنی دکان اوراپنا پیشہ بنالیا ، علم کی نہ اسے کوئی ضرورت تھی اورنہ ہی رواج۔
ہرہرکام کے لیے دعائیں مخصوص کی گئیں، شادی بیاہ رنج بیماریاں، روزگار میں ترقی، جنگوں، جھگڑوں اورمقدمات میں جیت کے لیے بھی اسے استعمال کیا جانے لگا ، یہاں تک کہ سردرد ، دانت درد، سانپ بچھو بلکہ بھڑ کے کاٹے کے لیے بھی ’’دم‘‘ نکالے گئے ، دوفریقوں کے درمیان دشمنی ہونی، جھگڑا ہونا مقابلہ یامقدمہ ہوتودونوں کے ہاں ختم دلائے جاتے تھے اورہاں ’’کھانے‘‘ کے لیے بھی اورکھلانے کے لیے بھی، ایسا کوئی کام نہ تھا جو انسانوں نے اپنے لیے چھوڑا ہو سارے چھوٹے بڑے کام اس سے لیے جاتے تھے ۔مذہب سے رہنمائی لینے کے بجائے بات دم اور پھونکوں تک محدود ہو گئی۔
اب یہ فیصلہ آپ کو کرنا ہے کہ وہ بیچارا ملا کیا تھا کہ جس کاکچھ بھی اپنے اختیار میں نہ تھا ، ذمے داری دینے والوں نے اسے جس کام کے لیے بنایا تھا وہ کرتا رہا بیچارا، اس نے ’’دین‘‘ کو دین کے طورپر سیکھا ہی نہ تھا ، ایک پیشے ایک روزگار اورایک مزدوری کے طورپر سیکھاتھا اورایک مزدوری کے طورپر کیا اوراسی میں مرگیا۔
اوراب اس کاجو نیا جنم ہوا ہے اس میں وہ وہی سادہ ملا نہیں رہا ہے ،’’سامان‘‘ وہی ہے لیکن آج کے ہنرمند اسے بہت اونچائی پر لے گئے ہیں۔دوسرے پیشوں اورہنروں کی طرح اس میں بے پناہ ترقی ہوئی ہے اب جولاہا ٹیکسٹائل مل کامالک ہے ، موچی جوتوں کاکارخانہ چلارہا ہے ، لوہار نے اسٹیل مل بنالی ہے ، پن چکی والا فلورمل چلارہا ہے ،طبیب فزیشن بن گیا ہے اورجراح نے سرجن کاروپ دھارلیاہے ، ہٹی کی جگہ ڈیپارٹمنٹل اسٹورنے لے لی ہے ۔
عین ممکن ہے کہ ہندی عقائد کے مطابق اپنا انتقام لینے کے لیے وہ نئے جنم میں آگیا ہو۔