روزے کی افادیت

ماہرین کے مطابق انسان ’’ تین سو ستر‘‘ کھرب سے زائد خلیات کا مجموعہ ہے

خان ثمرقند سلطان طمخاج کے زمانے کی بات ہے کہ ایک مرتبہ شہر کے قصائیوں نے ان کے دربار میں آ کر درخواست کی کہ گوشت کے موجودہ نرخ میں فائدہ نہیں ہوتا۔

جب کہ کام اتنا ہے کہ بکریوں کی تلاش میں گاؤں گاؤں جانا پڑتا ہے، خرید کر ذبح کرنا، پھرگوشت کاٹتے ہیں، تب کہیں جا کر فروخت کرتے ہیں۔

اس محنت کے مقابلے میں آمدنی بہت کم ہے، اگر بادشاہ سلامت گوشت مہنگا کرنے کی اجازت مرحمت فرمائیں تو نذرانے کے طور پر ایک ہزار دینار خزانے میں پہنچا سکتے ہیں۔ بادشاہ نے حکم دیا کہ رقم پہنچا دی جائے اور نرخ بڑھا دیے جائیں۔

قصائیوں نے ایک ہزار دینار داخل کیے اورگوشت کے نرخ بڑھا دیے گئے، اب بادشاہ نے شہر میں منادی کرا دی کہ جو شخص قصائیوں سے گوشت خریدے گا اسے سزا دی جائے گی۔

چنانچہ لوگوں نے گوشت خریدنا چھوڑ دیا۔ چار چار، چھ چھ آدمی بکرا خریدنے اور گوشت تقسیم کرنے لگے۔ اس کے نتیجے میں قصائیوں کی آمدنی بالکل بند ہو گئی اور وہ ہاتھ پر ہاتھ دھرکر بیٹھ گئے۔ آخرکار انھوں نے ایک رقم اور خزانے میں داخل کی اور پچھلے نرخ پرگوشت فروخت کرنے کی حامی بھر لی۔

تب بادشاہ نے اپنا حکم واپس لیا اور قصائیوں نے سکھ کا سانس لیا کہ ان کی اس مصیبت سے جان چھوٹی۔

کسی نے ماجرا دریافت کیا تو طمخاج نے کہا ’’یہ اچھی بات نہ تھی کہ میں اپنی رعایا کو ایک ہزار دینار میں قصائیوں کے ہاتھ بیچ دیتا۔‘‘

طمخاج کا زمانہ گزر چکا ہے 2026 اور اس زمانے میں نہ جانے کتنے برس حائل ہیں لیکن رشوت ستانی اور اس کا ایک خوش گوار انجام عقل مندی کی اعلیٰ مثال تھا۔ رمضان المبارک کے اس بابرکت مہینے میں رب العزت کی جانب سے ہم مسلمانوں کو اس قدر ریلیف دیا جاتا ہے کہ پہلا عشرہ رحمتوں کا ہے، لوٹ لو خوب عبادت کرو اور دوسرا عشرہ مغفرت کا ہے، رو دھو، گڑگڑاؤ اور اپنے رب کو منا لو۔

تیسرا عشرہ دوزخ سے نجات کا ہے، بس لگ جاؤ اور اپنے رب سے لگ کر مانگ لو، دوزخ سے نجات کا اجازت نامہ۔ بات سمجھنے کی ہے کہ پورا سال گیارہ مہینے انسان زندگی کی مستیوں میں چور رہتا ہے لیکن اس ایک مہینے میں بندوں کو چھوٹ مل جاتی ہے کہ اسے اچھی طرح سمجھ بوجھ کر گزارو اور اس چھوٹ کا فائدہ اٹھاؤ۔

یہ سال بھر کی سیل آفر تو نہیں جو کم داموں دستیاب ہے لیکن اس میں چھوٹ اتنی ہے کہ ہر ثواب دگنا اور خسارہ بہت کم، پر بات سمجھنے اور سمجھانے کی ہے جسے کم لوگ ہی سمجھتے ہیں۔

رمضان المبارک کا مہینہ شروع ہوا تو ایک دن پہلے ریٹ معقول اور ایک دن کی دوری سے ریٹ ڈبل، یہ کیسا دوغلا نظام ہے جسے ہم نے خود اپنے اوپر عائد کیا ہے کہ سارا منافع بس اسی ایک مہینے میں ہے۔

میں نے دو دو سو میں یہ دوپٹے خریدے وہ (بیچنے والا) کہہ رہا تھا کہ یہ وہ مال ہے جو گودام میں رکھا تھا، اس لیے سستے بیچ رہا ہوں، صبح تو ساڑھے تین سو روپے کا ایک دوپٹہ بیچا تھا، بس اب ختم کرنا ہے اور میں نے سات آٹھ خرید لیے کہ ایک دوپٹے کی قمیض تو دوسرے کی شلوار بن جائے گی۔ 

گرمیاں آ رہی ہیں ابھی شروع رمضان میں آسانی سے مل گئے پر گھر آ کر دیکھا تو سارے دوپٹے پرانے تھے جو گلاس برنی والے گلی گلی خواتین سے پلاسٹک کے برتن دے کر لیتے ہیں۔ مجھے اتنا غصہ آیا کہ دیکھو اس نے پرانے پہنے ہوئے دوپٹے بیچ دیے اور جھوٹ بولا رمضان کا بھی خیال نہ کیا۔

ان خاتون کا گلہ ہی الگ تھا جب کہ بازار میں اور سڑکوں، گلی محلے میں پھلوں کے بھرے ٹھیلے لیکن ان کے دام آسمان کی بلندیوں کو چھوتے۔

درجہ دوم کا مال، درجہ اول کا نرخ پر فروخت ہو رہا ہے۔ ہم اپنی زندگی کے خطرناک ترین دور سے گزر رہے ہیں جہاں رشوت ستانی ایک ٹیکس کی مانند عائد کر دی گئی ہے۔ لوگ بڑے حق سے اس رشوت ٹیکس کی وصولیابی کرتے ہیں۔

رمضان میں شیطان کو جکڑ دیا جاتا ہے یہ تو سنا ہی ہے لیکن اسی مبارک مہینے میں لڑائی جھگڑے فساد بھی خوب جم کر ہوتے ہیں۔ ہاں! بھوکا رہ کر روزہ رکھنے کا فرض بخوبی نبھایا جاتا ہے لیکن اس میں بھی دبلا ہونے اور بلڈ پریشرکو کنٹرول رکھنے کا وصف بخوبی نظر آتا ہے۔

ہم ذاتی اور ملی حیثیت سے کرپشن کی دلدل میں گرتے جا رہے ہیں، یہ امر ہمارے لیے تشویش کا باعث ہے۔

کیا ہم جانتے ہیں کہ رب العزت نے اس مبارک مہینے میں ہمارے لیے اپنی برکتوں سے کیا فوائد ہمیں عطا کیے ہیں جو ہم باآسانی حاصل کرسکتے ہیں لیکن ہمارے یہاں ان فوائد کو ایک طرف عام طور پر یہی کہا جاتا ہے کہ اسی مہینے میں تو کمائی ہوتی ہے۔

روزوں پر عرصہ دراز سے تحقیق کرنے والے پروفیسر والٹر لونگو امریکا کی ایک یونی ورسٹی سے منسلک ہیں اور خلیاتی حیاتیات داں ہیں، ان کا کہنا ہے کہ اس نظام کی وجہ سے انسانی جسم زہریلے عناصر اور کوڑے کرکٹ سے نجات پاتا ہے،کیونکہ انسان ہر وقت کھاتا پیتا رہتا ہے لہٰذا کوڑے کرکٹ سے نجات کا فارمولا غیر فعال ہو چکا ہے، ایسی صورت میں روزے کارگر ثابت ہوتے ہیں۔

ماہرین کے مطابق انسان ’’ تین سو ستر‘‘ کھرب سے زائد خلیات کا مجموعہ ہے یہ خلیات جینز کی ہدایات پر عمل کرتے ہیں۔ تحقیق سے پتا چلا کہ جب انسانی جسم میں بھوک پیاس جنم لے اور اسے کیلوریز نہ ملیں تو ایسے جین متحرک ہو جاتے ہیں وہ خلیوں کو حکم دیتے ہیں کہ وہ اپنی سرگرمیاں روک دیں تاکہ وسائل محفوظ رہ سکیں۔

اس عمل کو آٹوفیگی کہتے ہیں اور اس عمل میں کوئی مرض خلیوں پر اثرانداز نہیں ہو پاتا، وہ دباؤ اور سوزش سے بھی محفوظ رہتے ہیں جو بڑھاپا لانے والے عناصر ہیں اور اعضا کے خراب حصوں کی مرمت ہونے لگتی ہے اور اس عمل میں جو فضلہ جمع ہوگیا، اسے باہرکیا جاتا ہے۔ یہ قدرتی عمل جس کا تخلیق کردہ ہے وہ اپنے ایک ایک خلیے کی خوب خبر رکھتا ہے۔

اسی طرح نیورو سائنس دان پروفیسر مارک  مئیسن کے مطابق بارہ گھنٹے سے زائد عرصہ کھانے پینے سے پرہیز کی وجہ سے جسم میں گلائیکو جن کم ہو جاتا ہے یہ گلوکوز کی ایک ایسی قسم ہے جسے خلیے ایندھن کے طور پر استعمال کرتے ہی۔

 اب روزوں میں اس کی کمی کے باعث انسانی جسم میں محفوظ چربی کو ایندھن کے طور پر استعمال کرتے ہیں، اس سے کیٹون پیدا ہوتے ہیں، یہ انرجی پیدا کرنے والے ہیں جنھیں جگر بناتا ہے۔

یہ تبدیلی انسان کو تندرستی عطا کرتی ہے گویا انرجی پیدا کرنے والے ایک جنریٹر کو روزے دوسرے جنریٹر پر منتقل کرتے ہیں، یہ تبدیلی انسان کے لیے صحت کا پیغام لاتی ہے۔

رمضان المبارک میں رب العزت کی رحمتوں، برکتوں کا ایسا حسین پیکیج ہمیں دستیاب ہے اور ہم بار بار بک جاتے ہیں سوچتے ہی نہیں کہ ہمارا رب اپنی محبتوں کے خزانے لٹا رہا ہے وہ خالق نظر نہیں آتا، پر اس کی عطا کردہ نعمتیں احساس دلاتی ہیں کہ شکر ادا کرو سنبھلو ۔۔۔۔ اور ہم۔۔۔!

Load Next Story