ڈیجیٹل تعلیم کا دیوالیہ پن : پاکستان کا کیس فائل

یہ واقعات محض اخلاقی لغزشیں نہیں تھیں۔ نہ ہی یہ کسی ایک یا دو مقامات کا نوحہ ہے

کراچی کے ایک امتحانی مرکز کا منظر۔ ایک طالب علم، جس کے سامنے پرچہ رکھا تھا، لیکن اُس کی نظریں سوال نامے پر نہیں بلکہ اپنی آستین میں چھپے موبائل فون پر تھیں جو اسے بیرونی دنیا سے جوڑے ہوئے تھا۔

باہر دفعہ 144 نافذ تھی، پولیس کا پہرہ تھا اور دیواروں پر بڑے بڑے حروف میں ’’ نقل کرنا ممنوع ہے‘‘ کے اشتہارات چسپاں تھے۔ بہ ظاہر انتظام مکمل تھا، لیکن مرکزکے اندرکی کہانی کچھ اور ہی تھی۔

چند لمحوں بعد اسکرین روشن ہوتی ہے، واٹس ایپ کی ایک ’’ نوٹیفکیشن‘‘ اُسے وہ ’’ حل نامہ‘‘ فراہم کر دیتی ہے جو اُس کی منزلِ مراد ہے یا شاید نشانِ منزل تک مٹا دینے والی چمک۔ یہ سب دیکھ کر ایسا لگتا تھا جیسے امتحان نہیں ہو رہا، بلکہ امتحان خود امتحان میں ہے۔

اور یہ صرف کراچی کی کہانی نہیں۔ ہزاروں میل دور نہیں، ایک اور صوبے خیبر پختونخوا میں ایک حویلی کے کمرے میں ایک اور منظر چل رہا تھا اور یہ وہ لوگ تھے جنھیں کل قوم کے معمار بننا تھا، مگر آج وہ خود ایک گراوٹ کے معمار بن رہے تھے،کمرے کے دروازے بند تھے، پرچہ ابھی ابھی باہر نکالا گیا تھا، چند نوجوان میزکے گرد جمع تھے۔

ایک کہتا ’’ یہ سوال نمبر سات کا جواب لکھ دو، جلدی… امیدوار انتظار میں ہیں۔‘‘

دوسرا موبائل پرکسی امیدوارکو تسلی دیتا۔ ’’ گھبرانا نہیں، جواب پہنچ رہے ہیں… آرام سے بیٹھو۔‘‘

اور یوں محسوس ہوتا تھا کہ جیسے امتحانی نظام نہیں، بلکہ ضمیرکا امتحان لیا جا رہا ہے۔ جیسے کسی کمرے میں نہیں، بلکہ ضمیرکی منڈی میں سودے بازی ہو رہی ہو۔

یہ واقعات محض اخلاقی لغزشیں نہیں تھیں۔ نہ ہی یہ کسی ایک یا دو مقامات کا نوحہ ہے۔ اندرونِ سندھ کیا کچھ روا نہیں ہے اور سالہا سال سے۔ اب تو نسلیں بیت چلی ہیں۔

یہ سب اس حقیقت کا اعلان نہیں کہ ہمارا تعلیمی اور امتحانی ڈھانچہ اندر سے کھوکھلا ہو چکا ہے اور جب امتحان بیچ سڑک بکتا ہو، تو قوم کے خواب بھی آہستہ آہستہ نیلام ہونے لگتے ہیں۔

یہ محض کراچی یا خیبر کے امتحانی مراکز کی ’’ بدعنوانی‘‘ کا قصہ نہیں، یہ اِس گہرے زوال کا شاخسانہ ہے جسے ہمارے اعداد و شمار چیخ چیخ کر بیان کر رہے ہیں، مگر ہم نے سماعتوں پر مصلحت کے پہرے بٹھا رکھے ہیں۔

یہی وہ مقام ہے جہاں کہانی خاموشی سے اعداد میں ڈھل جاتی ہے۔ وہی بچہ جس کی آستین میں فون چھپا تھا، ہمارے قومی اشاریوں میں بھی کہیں چھپا ہوا ہے۔ پاکستان کے تعلیمی منظرنامے پر نظر ڈالیں تو اے ایس ای آر 2023کی حالیہ رپورٹ ایک لرزہ خیز حقیقت سامنے لاتی ہے۔

ملک بھر کے پونے تین لاکھ بچوں سے جب گھرگھر جا کر مکالمہ کیا گیا تو معلوم ہوا کہ دیہی علاقوں میں پانچویں جماعت کے نصف طلبہ دوسری جماعت کی ایک سادہ سی کہانی پڑھنے سے بھی قاصر ہیں، اگر اسکول کی دیواریں بلند ہو رہی ہیں اور داخلوں کی شرح میں اضافہ ہو رہا ہے، تو پھر سیکھنے کا معیار اِس تیزی سے نیچے کیوں گر رہا ہے؟

جب صرف 46 فیصد بچے تیسری جماعت کے حساب کے بنیادی سوال حل کر پاتے ہوں، تو یہ سمجھ لینا چاہیے کہ ہم نے تعلیم کے نام پر ’’ عدد شماری‘‘ کا گورکھ دھندا تو سجا لیا ہے، مگر علم کی روح کو رخصت کردیا ہے۔

کووڈ کے ایام میں جب دنیا ڈیجیٹل تعلیم کے گن گا رہی تھی، ہماری جامعات میں آن لائن تدریس کے تجربے نے ایک اور ’’ منصفانہ‘‘ تقسیم کا پردہ چاک کر دیا۔

لاکھوں طلبہ کے پاس نہ تو مستحکم انٹرنیٹ تھا، نہ ڈیوائس اور نہ وہ ڈیجیٹل مہارت جو اسے علم کا وسیلہ بناتی۔ نتیجہ یہ نکلا کہ وہ اعلیٰ تعلیم جو شعورکی بالیدگی کا ذریعہ بننی تھی، وہ محض ایک نامکمل اور غیر منصفانہ مشق بن کر رہ گئی۔

عالمی سطح پر جب آن لائن چیٹنگ (نقل) کی شرح پچاس فیصد سے تجاوزکرگئی، تو ہمارے ہاں بھی ٹیکنالوجی نے سہولت کار کے بجائے ایک ’’منظم مجرم‘‘ کا روپ دھار لیا۔

اس پر ستم یہ کہ ہم نے ’’ یکساں نصاب‘‘ ایس این سی جیسا بڑا خواب تو دیکھا، مگر بغیر تیاری کے۔ ماہرین پکارتے رہے کہ اساتذہ کی تربیت اور صوبائی تناظرکو نظرانداز نہ کیا جائے، لیکن ہم نے متن کو بدلا، روح کو نہیں۔

آج صورت حال یہ ہے کہ ہم یہ سمجھ بیٹھے ہیں کہ ہر بچے کے ہاتھ میں ٹیبلیٹ تھما دینا ہی تعلیم کا حل ہے۔ یہ ایک خطرناک مغالطہ ہے۔ ٹیکنالوجی بذاتِ خود علم نہیں، یہ صرف ایک ’’ رفتار بڑھانے والا‘‘ آلا ہے۔ جہاں نظامِ تعلیم، استاد اور اخلاقیات پہلے سے کم زور ہوں، وہاں ٹیکنالوجی خرابی کی رفتارکو دگنا کردیتی ہے۔

ہم نے اسکرینیں تو روشن کر لیں، مگر ذہنوں کے چراغ بجھنے کے لیے چھوڑ دیے۔ جب بنیاد ہی ریت پر ہو، تو ڈیجیٹل عمارت کا بوجھ اسے مزید تیزی سے زمین بوس کردیتا ہے۔

کہانی کے دونوں مناظر،کراچی کا ہال اور بنّوں کی حویلی، ہمیں بتاتے ہیں کہ مسئلہ محض ٹیکنالوجی نہیں، نظمِ تعلیم ٹوٹا تو ہر نئی ڈیوائس بوجھ بن گئی۔

اسی لیے ری سیٹ کا پہلا تقاضا کلاس روم میں اسکرین گورننس ہے، تفریحی اسکرین کے لیے وقت اور مقصد کی سخت حدیں،کیونکہ پی آئی ایس اے / او ایسی ڈی کے اعداد بتاتے ہیں کہ ایک حد کے بعد ڈیوائسز کارکردگی گراتی ہیں، جب کہ اعتدال میں تعلیمی استعمال فائدہ دے سکتا ہے۔

اسی کے ساتھ ابتدائی جماعتوں میں ’’کاغذ پہلے، اسکرین بعد میں‘‘ ہینڈ رائٹنگ، پیپر ٹیکسٹ بک اورکم خلفشار والا ماحول، تاکہ بنیادی خواندگی کی کمزور اینٹیں سیدھی رکھی جا سکیں، یہی وہ اینٹیں ہیں جنھیں اے ایس ای آر 2023 کے نتائج مسلسل کمزور بتا رہے ہیں۔

کاغذ اورکتاب اُس وقت تک کافی نہیں جب تک امتحانی نظام قابل ِبھروسا نہ ہو۔ ہمیں انکرپٹڈ لاجسٹکس، جیو ٹیگڈ نگرانی، ہائی رسک مراکز میں جیمرز اور سالانہ انٹیگریٹڈ رپورٹس کی سطح تک جانا ہوگا،کیونکہ کراچی کے پرچے لیکس اورکے پی کے، کے بھرتی ٹیسٹس کی دھاندلی نے دکھا دیا کہ موجودہ بندوبست چور راستوں سے چھلنی ہے۔

اسی کے متوازی اساتذہ کو نئی تربیت چاہیے۔ تدریس کی تکنیک،کلاس روم نظم اور ڈیجیٹل منیمَلزم وہ خلا جس پر خود ایس این سی مباحثے نے بھی روشنی ڈالی ہے۔

جہاں ڈیجیٹل ڈیوائیڈ طلبہ کو اوّل ہی دن غیر مساوی دوڑ میں دھکیل دیتی ہے، وہاں حل صرف ’’مزید ایپس‘‘ نہیں، بلکہ آف لائن قابلِ انضمام راستے ہیں۔

پرنٹیبل پیکٹس، ریڈیو/کمیونٹی کلاسز، تاکہ رسائی اور مہارت دونوں میں فرق کم ہو۔ سیکھنے کی گرتی بنیادیں ضلع وار بوٹ کیمپس سے سنبھلتی ہیں۔ 8 تا 12 ہفتے کے ایف ایل این پروگرام جن میں پڑھائی کی روانی اور بنیادی حساب مرکز ہوں اور یہ کام تشخیصی جانچ اور ہدفی ٹیوٹنگ کے ساتھ ورلڈ بینک کے ریپڈ جیسے فریم ورک پر ہونا چاہیے، نہ کہ صرف’’ آن لائن کلاس‘‘ کے اضافے سے۔

شفافیت کے بغیر اعتماد نہیں بنتا، رفرانزک: چیٹنگ انسیڈنٹ ڈیش بورڈ، آڈٹس اور ہائی رسک مراکزکی خصوصی نگرانی اس لیے کہ وبا کے برسوں میں آن لائن چیٹنگ کی خود اعترافی شرح دنیا بھر میں خوفناک حد تک بڑھی، ہم نے اس کے مقامی مظاہر اپنی آنکھوں سے دیکھے اورگھر میں والدین بہ طور شریک نگران، نوٹیفکیشن بند، ایک وقت میں ایک اسائنمنٹ،کیوں کہ بچوں کے اسکرین رویوں پر بالغ مداخلت کے مثبت اثرات مستند تحقیق سے ثابت ہیں۔

یہ سب اقدامات کسی آئی ٹی انقلاب کا انتظار نہیں چاہتے، یہ نظمِ تعلیم کی واپسی چاہتے ہیں، ورنہ اے ایس ای آر کے اعداد و شمار چیختے رہیں گے کہ داخلہ بڑھا، سیکھنا گھٹا اور ہم کاغذ پر خواب لکھتے رہیں گے، جنھیں واٹس ایپ کی ایک نوٹیفکیشن نیلام کردیتی ہے۔

ٹیکنالوجی کی تلوارکند نہیں، ہم نے نیام غلط پکڑ رکھی ہے۔ کتاب کو مرکز اور اسکرین کو معاون بنا لیجیے، ورنہ امتحان نہیں، قوم خود امتحان میں رہے گی اور ہماری آنے والی نسلیں اندر سے تاریک اور علمی طور پر مفلوج ہوں گی۔

Load Next Story