علامہ اقبال کی نظم ’’ذوق و شوق‘‘
ڈاکٹرعابد شیروانی کی چوتھی کتاب شوق محمد ﷺ حال ہی میں منصہ شہود پر اپنا جلوہ دکھا چکی ہیں اس کتاب سے قبل ان کی تین کتابیں بعنوانات ’اسپین اقبال کا دوسرا خواب‘، ’محمد سے وفا‘ اور ’ابلیس سے جفا‘ ان چاروں کتابوں کی اہمیت اپنی جگہ مسلم ہے، علامہ کی نظموں کے شارح ڈاکٹر عابد شیروانی ہیں۔
ڈاکٹر صاحب کو علامہ اقبال کی شاعری سے محبت نہیں بلکہ عشق ہے اس کی وجہ وہ اپنے مذہب اور دین اسلام سے بے پناہ محبت کرتے ہیں اور جس کے کلام کے وہ عاشق ہیں ان کی شاعری میں بھی اللہ اور اس کے رسول ﷺ سے محبت و عقیدت کی مہک دور تک پرواز کرتی ہے۔ علامہ اقبال نے قرآنی تعلیمات کو اپنے دل میں اتار لیا تھا، اسی وجہ سے ان کی روح اسلامی تعلیم سے لبریز ہے۔
نظم ذوق و شوق کا پس منظر یہ ہے کہ علامہ اقبال دوسری گول میز کانفرنس میں شرکت کے لیے انگلستان روانہ ہوتے ہیں، ان کا یہ سفر کئی اعتبار سے اہمیت کا حامل تھا۔
انگلستان میں انھوں نے نہ کہ برصغیرکے دستوری معاملات میں مسلمانوں کو سوچ و فکر سے آشنا کیا بلکہ کئی علمی و ادبی انجمنوں نے ان کے اعزاز میں تقاریب کا انعقاد کیا، ان محافل میں علامہ کے خطابات سے وہاں کے علما و دانشور متاثر ہوئے بغیر نہ رہ سکے۔
واپسی میں اٹلی کی رائل اکیڈمی کی دعوت پر روم تشریف لے گئے، یہاں کے اہل علم نے انھیں بے پناہ عزت و توقیر سے نوازا۔ اٹلی میں مرد آہن مسولینی نے علامہ اقبال سے ملاقات کا شرف حاصل کیا، روم کے بعد علامہ مصر پہنچے، مصر میں بھی علمی و سیاسی شخصیات نے ان کا بھرپور طریقے سے استقبال کیا۔
مفتی امین الحسینی مفتی اعظم فلسطین کی دعوت پر علامہ قاہرہ سے موتمر عالمی اسلامی کے اجلاس میں شرکت کے لیے بیت المقدس پہنچے اور اسی مقام پر علامہ نے ’’ ذوق و شوق‘‘ جیسی نظم لکھی اور پھر لاہور واپس تشریف لے آئے۔
6 دسمبر 1931 کے مبارک سال آپ نے بیت المقدس کے لیے سفر اختیارکیا اور خوش قسمتی سے شب معراج کے جشن میں شریک ہوئے۔ بیت المقدس کے شہر مسجد اقصیٰ میں حاضری بہت بڑی سعادت تھی جو اللہ نے ان کے مقدر میں لکھ دی تھی۔
ڈاکٹر عابد شیروانی پر اللہ کی مہربانی اورکرم ہے کہ وہ عشق رسول ﷺ کی محبت سے سرشار ہیں۔ علامہ اقبال کے کلام کو سمجھنے کے لیے دین اسلام سے عقیدت و محبت کا ہونا بہت ضروری ہے۔
اسلامی معلومات کا خزانہ ان کے دل و دماغ میں پنہاں ہے، شاید یہی وجہ ہے کہ اپنی وقیع سوچ و فکر کے نتیجے میں علامہ اقبال کے کلام سے بالواسطہ جڑ گئے ہیں۔ علامہ کی شاعری نہ کہ انھیں متاثرکرتی ہے بلکہ علامہ کے ایک ایک شعر اور مصرعوں پر غور و فکرکرتے ہیں اور لاشعوری طور پر علامہ کی نظموں کو قلب و جگر میں اتارتے ہیں اور علامہ کے فکر و اعلیٰ سوچ کے ساتھ شامل ہو جاتے ہیں۔
اس کے ساتھ ہی علم کے سمندر سے جو نگینے اپنی وسعت نظر کے تحت حاصل کرتے ہیں، اسے بے دریغ ضرورت مندوں کی نذر کر دیتے ہیں۔ ہر شعرکا ترجمہ، تفسیر اور معانی سے اپنے قارئین کو آشنا کرتے ہیں۔
اس دور تاریکی میں جب علم و ہنر کی وقعت پر جہلا نے شب خون مارا ہے تو اندھیرا بڑھتا چلا گیا اور علم کی روشنی اور نور آہستہ آہستہ تاریکی میں گم ہو رہا ہے، نہ اس المیے کی فکر اہل علم کو ہے اور نہ ہی حکومتی سطح پر اس کا سدباب کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔
ایسے پرآشوب دور میں علامہ کے روشن کیے چراغوں کی لوکو بڑھانے کے لیے ڈاکٹر عابد شیروانی جیسے اکابرین بہت کم رہ گئے ہیں جو اندھیروں کی جگہ علم کی روشنی لانے کی سعی میں مصروف ہیں۔
ڈاکٹر عابد شیروانی کی تشریحات قرآن پاک کی آیات و تراجم سے اس قدر پراثر ہو گئی ہیں کہ ان کی تحریرکا قاری غور و خوض کرنے پر مجبور ہو جاتا ہے وہ تخلیق کائنات پر غور و فکرکرتا ہے، ستاروں پرکمند ڈالنے کے لیے بے چین رہتا ہے، یہی طلب اور بے چینی اس سے بڑے بڑے کام اور ایجادات کروانے کا باعث بنتی ہے۔
وہ طالب علموں کو سمجھانے کے لیے آسان راستہ اختیارکرتے ہیں اور آیات ربانی کے ذریعے سچائی سے روشناس کراتے ہیں، انھوں نے کن فیکون کی معنویت اور اہمیت کو ترجمہ کے ساتھ اس طرح اجاگر کیا ہے کہ اللہ تعالیٰ جب کسی کام کا ارادہ کرتا ہے تو کن فیکون یعنی ہو جا تو وہ فوراً ہو جاتا ہے۔
یہ پوری کائنات اور اس کے حسن کا جلوہ اس کی زینت درخت پہاڑ سمندر، آبشار، پھل پھول سمندر و باغات اللہ کے کن کہنے کا مظہر ہے۔ ڈاکٹر عابد شیروانی علامہ اقبال کی نظموں کے شارح کے طور پر سامنے آئے ہیں اور انھوں نے بہت جلد اپنا مقام و مرتبہ اپنی محنت اور لگن سے حاصل کیا ہے۔
علم کی اہمیت اور خصوصاً علامہ اقبال کی شاعری کو زیادہ سے زیادہ پڑھنے، سمجھنے، استفادہ کرنے اور دوسروں تک پہنچانے کے لیے انھوں نے علامہ اقبال اسٹوڈیو بھی قائم کیا ہے جہاں علامہ کی فکر و نمود، ان کا پیغام اور خودی کی تشریح بیان کرنے اور اس کی ترویج کے لیے باقاعدہ کام کیا جاتا ہے۔
کتاب ’’ شوق محمد ﷺ ‘‘ کے موضوعات کو بے حد سلیقے سے ترتیب دیا گیا ہے ، کتاب کا سرورق دیدہ زیب اور اس قدر خوبصورت ہے کم ہی دیکھنے میں آیا ہے۔
میں ڈاکٹر عابد شیروانی کو خلوص دل کے ساتھ مبارک باد پیش کرتی ہوں۔