محمد رضوان کا دورہ بنگلادیش سے متعلق بڑا بیان!

بنگلا دیش کے خلاف دورہ ہمیشہ مشکل رہا ہے: محمد رضوان

پاکستان کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان اور سینئر وکٹ کیپر بیٹر محمد رضوان نے کہا ہے کہ اگر کپتان اپنی ذمہ داری نہ ادا کر سکے تو اسے اپنے عہدے پر قائم نہیں رہنا چاہیے۔ بنگلا دیش کے خلاف دورہ ہمیشہ مشکل رہا ہے۔مقامی کنڈیشنز میزبان ٹیم کے لیے سازگار رہتی ہیں جبکہ مہمان سائیڈز کو سخت مقابلے کا سامنا رہتا ہے۔

دورہ بنگلا دیش کے لیے دو روزہ مختصر تربیتی کیمپ کے آخری دن ہفتہ کو نیشنل اسٹیڈیم کراچی میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے سابق کپتان نے کہا کہ بنگلا دیش کے خلاف دورہ ہمیشہ مشکل رہا ہے۔مقامی کنڈیشنز میزبان ٹیم کے لیے سازگار رہتی ہیں جبکہ مہمان سائیڈز کو سخت مقابلے کا سامنا رہتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ دورہ بنگلا دیش کے لیے پاکستان کرکٹ ٹیم میں سینئر کھلاڑیوں کے ساتھ نئے کرکٹرز کی شمولیت بہترین امتزاج ہے،کرکٹ میں ہر جگہ دباؤ ہوتا ہے، کلب سطح پر بھی ٹیمیں دباؤ کا شکار ہوتی ہیں،کپتان کو ذمہ داری ادا کرنے کے لیے وقت درکار ہوگا،اگر قومی کپتان کو سلیکشن کمیٹی یا ہیڈ کوچ نہیں مانتا تو قیادت کرنے والے کے لیے مشکل ہو جاتی ہے ،ماضی میں بھی ایسا ہوتا رہا ہے، پروفیشنلزم کا ہونا بہت ضروری ہے۔

انہوں نے کہا کہ قوم کی توقعات ہم سے زیادہ ہیں، پاکستان کرکٹ ٹیم کی کارکردگی میں کمی ہے، جس میں بہتری لانے کی ضرورت ہے،دنیا کی ٹیمیں ہم سے آگے ہیں، وہ زیادہ بہتر انداز میں دباؤ کا سامنا کرتی ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ  عالمی کپ ٹی ٹوئنٹی کرکٹ ٹورنامنٹ2026 میں ناقص کارکردگی کی بنیاد پر کھلاڑیوں پر جرمانے کے حوالے سے ابھی تک پی سی بی نے سرکاری اعلان نہیں کیا،جب تک پی سی بی کا موقف سامنے نہیں آتا،  اس پر کچھ نہیں کہا جاسکتا

انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان کرکٹ ٹیم میں جگہ بنانے والا نوجوان وکٹ کیپر بیٹرغازی پرفامنس کرکے ٹیم میں آیا ہے،غیر ملکی کوچنگ اسٹاف نے بھی اعتراف کیا ہے کہ پاکستانی کھلاڑی بہت بہادر ہوتے ہیں،پاکستان کے حالات بھی سمجھنے کی ضرورت ہے۔

Load Next Story