آبنائے ہرمز

آج ہندوستان کے پورٹ، امریکی جہازوں کو سہولت کاری فراہم کر رہے ہیں

کچھ نہیں کہا جاسکتا کہ ایران کی جنگ کب تک جاری رہے گی؟ سوال یہ ہے سینتالیس سال سے ایران میں پاسدارانِ انقلاب کا دورکیا، اب اختتام کو پہنچ رہا ہے؟ ایسا گمان کیا جا رہا تھا کہ اگر امریکا اور اسرائیل، ایران پر حملہ کریں گے تو ایران میں نیاانقلاب آجائے گا۔

وہاں کے عوام، حکومت کے خلاف اٹھ کھڑیں ہوںگے، لیکن ایسا کچھ ہوتا ہوا نظر نہیں آرہا ہے، مگر ایسا ہوا کہ ایران کے سپریم لیڈرآیت اللہ خامنہ ای پر حملہ کیا گیا اور وہ اس حملے میں شہید ہوگئے۔

ایسا سمجھا گیا کہ ایسا ہونے کے بعد ایرانی حکومت کے حوصلے پست ہو جائیں گے، مگر ایسا بھی کچھ نہ ہوا۔ تمام نظریاتی اختلافات کو ایک طرف کر کے ایران کے عوام اس وقت ایک ساتھ کھڑے ہیں۔ تمام عرب ممالک اس جنگ کے دوران ایک طرف کھڑے نظر آئے اور ایران دوسری طرف۔

ایران نے ان عرب ممالک کو نشانہ بنایا، حملے کیے جہاں امریکی فوجی اڈے تھے۔ اس ایک ہفتے کی جنگ میں ہزاروں کی تعداد میں چھوٹے اور بڑے میزائل داغ دیے ہیں۔

کیا ایران میزائل ٹیکنالوجی میں اتنی صلاحیت رکھتا ہے کہ وہ مسلسل مہینوں تک ان میزائل سے جنگ لڑسکتا ہے؟ ایران پر بھاری مقدار میں ہتھیاروں کے ساتھ حملے کیے گئے مگر ایران ڈٹ کرکھڑا رہا، اگر یہی صورتحال چند ہفتوں تک رہی تو امریکا اس جنگ میں اربوں ڈالر ہار جائے گا۔

امریکا کی یہ خواہش ہے کہ حالات کو اس نہج تک لایا جائے کہ امریکا اپنی فوج کو ایران کی سر زمین پر اتارے۔ ایران کے عوام کو بغاوت پر اکسائے اور اس طرح رضا پہلوی کو ایران کا اقتدار دے دیں۔

اس منصوبہ بندی کے تحت اسرائیل کا اثرورسوخ ایران کی حدود میں بڑھے گا، اگر اس جنگ کا دورانیہ طویل ہوتا ہے تو مفاہمت کا کوئی راستہ بھی ضرور نکلے گا۔ پاسدارانِ انقلاب کے اندر ایسے لوگوں کی اہمیت بڑھے گی جو مفاہمت کی طرف جائیں گے۔

امریکا کے اندر یہ بیانیہ مضبوط ہو رہا ہے کہ امریکا کو اس جنگ میں اسرائیل نے دھکیلا ہے اور اس بات کا حل یہی ہے کہ ایران کی موجودہ حکومت اور امریکا کے درمیان مذاکرات کا آغاز ہو۔

موجودہ رجیم امریکا کی شرائط پر ایران کے اندر ریفارمز لانے پر آمادہ ہوجائے اور یہی طریقہ ہوگا اسرائیل کے اثر و رسوخ کو روکنے کا۔ اسرائیل کی تشویش بڑھ رہی ہے کہ امریکا کہیں کوئی ایسا قدم نہ اٹھا لے اسرائیل کو اعتماد میں لیے بغیر۔

ایران میں اگر موجودہ حکومت یا رجیم قائم نہیںرہتا تو یہ خبر دوسرے عرب ممالک کے لیے بھی اچھی نہیں۔ وہ بھی اسرائیلی تسلط کا شکار ہو جائیں گے۔

اسرائیل اور ہندوستان کے روابط تو پہلے سے ہی مضبوط تھے مگر دونوں کے مشترکہ عزائم نے ان کو مزید قریب کر لیا ہے۔

پچھلے دو، تین سالوں میں ان دونوںکے تعلقات کو مزید تقویت ملی ہے۔ دونوں کا ہدف یہ ہے کہ پاکستان کو غیر مستحکم کیا جائے ۔ ان عزائم میں اب افغانستان بھی ہیں۔

جب ہم گوادر میں گوادر سٹی اور پورٹ بنا رہے تھے، سی پیک منصوبے کو آگے لے کر بڑھ رہے تھے تو ہندوستان، ایران کا دوست تھا۔

ایران نے گوادر سے چند میلوں کے فاصلے پر اپنا چاہ بہار پورٹ ہندوستان کے حوالے کردیا اور ہندوستان نے وہ وفاداریاں نبھائیں اور موقع پرستی دکھائی کہ جنگ کے معاملے میں ایران کے خلاف تیسرا بڑا اتحادی بن گیا۔

آج ہندوستان کے پورٹ، امریکی جہازوں کو سہولت کاری فراہم کر رہے ہیں اور امریکا نے ایران کے جنگی سمندری جہاز سری لنکا کے قریب تباہ کردیے۔ ایران کے سو سے زائد لوگ مارے گئے۔ ہندوستان نے اس جنگ میں ایران کو پیٹھ دکھائی اور موقعہ پرستی کا مظاہرہ کیا۔

حالات کیا رخ اختیارکرتے ہیں اورکیا صورتحال ہوتی ہے، وہ اگلے دو ہفتوں میں واضح ہو جائے گا۔ سیستان اور نارتھ موجودہ کرد قبیلوں کو اکسایا جا رہا ہے کہ وہ ایرانی حکومت کے خلاف گوریلا وارکی شروعات کریں۔

ایسی صورت میں فارسی بولنے والے لوگ ایک دوسرے کے قریب ہوںگے، پھر وہ چاہے حکومت کے مخالف ہی کیوں نہ ہوں۔

امریکا نے اگر ایسی حکمتِ عملی پر عمل کیا تو وہ ان کے گلے میں پڑے گی۔ یہ خانہ جنگی ایران کو تین حصوں میں بانٹنے کی کوشش ہوگی جو کہ فارسی بولنے والی اکثریت ایسا کبھی بھی نہیں چاہے گی۔

یہ ضرور ہے کہ اسرائیل اور امریکا عراق کی طرح، ایران کوکچھ وقت کے لیے تین حصوں میں تقسیم کریں، دو حصوں میں اپنی فوجیں رکھیں۔

ہم نے افغانستان میں بھرپور فوجی طاقت کا مظاہرہ کیا ہے اور اب افغانستان سے پاکستان کے خلاف پراکسی جنگ لڑنا آسان نہیں رہا۔ آبنائے ہرمزکی بندش کے باعث قطر نے گیس کی فراہمی بند کردی ہے، لہٰذا ہمارے تیل کے اخراجات بڑھ گئے ہیں۔

ہماری برآمدات اس رسد سے ہوتی تھیں وہ بھی متاثر ہوئی ہیں۔ صرف چند ہفتوں تک اس مشکل کو برداشت کیا جا سکتا ہے لیکن مزید نہیں۔ جاپان جیسے ممالک میں تیل کی فراہمی غیر یقینی بن گئی ہے اور یہ پریشر یقینا تمام ممالک پر بڑھے گا۔

فیس سیونگ کے لیے امریکا اور ایران کے درمیان ثالثی کرکے اس جنگ کو مزید بڑھنے سے روکا جاسکتا ہے۔ اس لیے ثالثی کی اہمیت بڑھ گئی ہے۔ اس پسِ منظر میں پاکستان کے لیے بہت کچھ سیکھنے کو ہے !

پاکستان کے لیے ضروری ہے کہ وہ اپنی بنیادیں تاریخ سے جوڑے، اس سے یہاں حب الوطنی کا جذبہ بڑھے گا نہ کہ عرب اور افغانیوں سے جن کو ہم نے اپنی تاریخ کا ہیرو بنایا ہے۔

ایران کی تہذیب چھ ہزار سال پرانی ہے اور اس تہذیب کے اثرات ہم پر بھی واضح ہیں جو کہ مثبت اثرات ہیں۔ ان کے شاعر جامی، رومی، عطا اور عمرِ خیام کی شاعری کے اثرات ہمارے شاعروں کی شاعری میں واضح ہیں جیساکہ بابا بلھے شاہ، سلطان باہو، شاہ عبداللطیف کی شاعری جو ہماری قوم کا لاشعور اور حقیقی بیانیہ ہے۔

ہمیں اس تہذیب کو اجاگرکرنا ہوگا۔ فارسی انگریزوں کے آنے سے پہلے ہماری دفتری زبان تھی۔ سندھ میں تالپروں کے دورِ حکومت میں فارسی زبان کو بہت فروغ ملا اور مغل دور میں فارسی دفتری زبان رہی۔

ایران کو مذاکرات اور صلح کا راستہ نکالنے کی ضرورت ہے۔ جس کے ذریعے وہ دنیا میں اپنا کھویا ہوا مقام حاصل کرسکے۔ ایک ایسا ایران جو Plural ہو۔ وہ سیکولر نہ سہی لیکن رواداری رکھتا ہو اور یہی سب سے بڑا ہتھیار ہے اسرائیل جیسے ممالک کو منہ توڑ جواب دینے کا۔

تمام مسلم مالک اس بات کو محسوس کریں کہ ہمیں آپس میں لڑوایا جاتا ہے۔ فرقہ واریت کو ہوا دی جاتی ہے۔ لیکن جب ایران ڈٹ کرکھڑا ہوا تو سب نے ایران اپنا ہیرو تصورکیا۔ اسرائیل نے امریکا کو استعمال کیا اور تمام مسلم امہ کا غم و غصہ امریکا کے حصے میں ڈال دیا۔

ہمارے لیے بھی راستے بنائے گئے۔ سوویت یونین کے خلاف، امریکا نے ہماری سرزمین کو استعمال کیا، عرب ریاستوں نے فنڈنگ کی۔

مجاہد آئے اور پھر وہ ہی 9/11 کے حصے دار بنے۔ یہاں ہتھیاروں کا استعمال عام ہوا۔ ہندوستان نے ہمارے خلاف واویلا مچایا ۔ دنیا کے سامنے پاکستان کا کیس کمزور پڑگیا۔

اس بھنور سے سے تو ہم نکل آئے مگر اب بھی بہت کچھ کرنا باقی ہے۔ بہرحال یہ بات قابلِ ذکر ہے کہ پاکستان کی سرزمین کو ایران کے خلاف استعمال نہیں کیا گیا۔

Load Next Story