مشرق وسطیٰ کشیدگی، عالمی طاقتوں کی نئی حکمت عملی

خلیجی خطہ دنیا کی توانائی کی ضروریات پوری کرنے میں مرکزی کردار ادا کرتا ہے

مشرقِ وسطیٰ کی تاریخ اس حقیقت کی گواہ ہے کہ یہ خطہ ہمیشہ عالمی سیاست کے مرکز میں رہا ہے۔ یہاں ہونے والی ہر سیاسی، عسکری اور سفارتی پیش رفت نہ صرف علاقائی ممالک بلکہ عالمی طاقتوں کی توجہ بھی اپنی جانب مبذول کراتی ہے۔

حالیہ دنوں میں ایران اور اس کے ہمسایہ ممالک کے درمیان کشیدگی، عالمی طاقتوں کے بیانات اور سفارتی سرگرمیوں نے ایک بار پھر اس خطے کو عالمی خبروں کا محور بنا دیا ہے۔

ایسے میں ایران کے صدر مسعود پزشکیان کی جانب سے یہ اعلان کہ ایران اب ہمسایہ ممالک پر مزید حملے نہیں کرے گا، سوائے اس صورت کے جب ایران پر حملہ انھی ممالک کی سرزمین سے کیا جائے، ایک اہم سفارتی پیش رفت کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔

اس کے ساتھ ہی ان کی جانب سے حالیہ حملوں پر ہمسایہ ممالک سے معذرت کا اظہار بھی ایک ایسا قدم ہے جسے خطے میں کشیدگی کم کرنے کی کوشش قرار دیا جا سکتا ہے۔

تاہم دوسری جانب امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے بیانات اور خطے میں جاری سفارتی سرگرمیاں اس امر کی نشاندہی کرتی ہیں کہ صورتحال ابھی مکمل طور پر مستحکم نہیں ہوئی اور عالمی سیاست کے پیچیدہ کھیل میں ہر بیان اور ہر اقدام کے دور رس اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔

ایران کے صدر کا یہ کہنا کہ ایرانی عبوری قیادت کونسل نے فیصلہ کیا ہے کہ ہمسایہ ممالک کو نشانہ نہیں بنایا جائے گا، دراصل ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب خطے میں عسکری سرگرمیوں کے باعث تشویش کی لہر پائی جا رہی تھی۔

ایران کی قیادت اس حقیقت سے بخوبی آگاہ ہے کہ کسی بھی بڑے عسکری تصادم کے نتیجے میں نہ صرف علاقائی استحکام متاثر ہوگا بلکہ خود ایران کی داخلی معیشت اور سیاسی صورتحال بھی اس کے اثرات سے محفوظ نہیں رہ سکے گی۔

یہی وجہ ہے کہ صدر پزشکیان کی جانب سے معذرت اور حملوں سے گریز کا اعلان بظاہر ایک ذمے دارانہ سفارتی رویے کی علامت سمجھا جا رہا ہے۔

اسی تناظر میں پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان ہونے والی حالیہ سفارتی سرگرمیاں بھی قابل توجہ ہیں۔ پاکستان کے آرمی چیف اور چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کا سعودی عرب کا دورہ اور سعودی وزیر دفاع شہزادہ خالد بن سلمان سے ملاقات دراصل خطے کی موجودہ صورتحال کے تناظر میں خاص اہمیت رکھتی ہے۔

اس ملاقات میں دفاعی تعاون کے مختلف پہلوؤں کے علاوہ سعودی علاقوں پر ایران کے ممکنہ حملوں کو روکنے کے لیے مشترکہ اقدامات پر بھی مشاورت کی گئی۔

پاکستان اور سعودی عرب کے تعلقات کئی دہائیوں پر محیط ہیں اور دونوں ممالک ایک دوسرے کو اسٹرٹیجک شراکت دار سمجھتے ہیں۔

دفاعی تعاون کے علاوہ اقتصادی اور سیاسی میدانوں میں بھی دونوں ممالک کے درمیان قریبی روابط موجود ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ جب بھی خطے میں کوئی بڑا بحران پیدا ہوتا ہے تو دونوں ممالک ایک دوسرے کے ساتھ مشاورت کو ترجیح دیتے ہیں۔

ملاقات کے دوران دونوں فریقوں نے اس امید کا اظہار کیا کہ ایران دانشمندی کا مظاہرہ کرے گا اور کسی بھی قسم کی غلط فہمی سے بچنے کے لیے محتاط طرزِ عمل اختیار کرے گا۔

اس کے ساتھ ہی موجودہ بحران کے پرامن حل کے لیے دوست ممالک کے ساتھ تعاون کی ضرورت پر بھی زور دیا گیا۔ یہ بیان دراصل اس خواہش کی عکاسی کرتا ہے جو خطے کے اکثر ممالک میں پائی جاتی ہے کہ کشیدگی کو جنگ میں تبدیل ہونے سے روکا جائے۔

سعودی وزیر دفاع شہزادہ خالد بن سلمان نے بھی ایران کو خبردار کرتے ہوئے کہا کہ امید ہے ایرانی قیادت غلط اندازوں اور غلط فہمیوں سے گریز کرے گی۔

حالیہ میزائل اور ڈرون حملوں کے بعد سعودی عرب میں سیکیورٹی خدشات میں اضافہ ہوا ہے اور یہی وجہ ہے کہ سعودی مملکت نے اپنے دفاعی انتظامات کو مزید مضبوط بنانے کی کوششیں تیز کر دی ہیں۔

دوسری جانب امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے حالیہ بیانات نے اس صورتحال کو ایک نئے زاویے سے دیکھنے پر مجبور کر دیا ہے۔ ایئرفورس ون میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ان کا یہ کہنا کہ جنگ کے بعد ایران کا نقشہ شاید ویسا نہ نظر آئے جیسا آج ہے، ایک ایسا بیان ہے جس نے بین الاقوامی سطح پر بحث کو جنم دیا ہے۔

عالمی سیاست میں کسی ملک کے نقشے کی تبدیلی کا ذکر عموماً اس وقت کیا جاتا ہے جب کسی بڑی جنگ یا سیاسی تبدیلی کے امکانات پیدا ہوں۔ یہی وجہ ہے کہ تجزیہ کاروں نے اس بیان کو انتہائی سنجیدگی سے لیا ہے اور اسے خطے کے مستقبل کے حوالے سے تشویشناک قرار دیا جا رہا ہے۔

صدر ٹرمپ کا یہ کہنا کہ امریکا ایران کے ساتھ کسی سمجھوتے یا سیٹلمنٹ کی تلاش میں نہیں بلکہ ایسا صدر چاہتا ہے جو ملک کو جنگ کی طرف نہ لے جائے، دراصل ایران کی داخلی سیاست کے حوالے سے ایک واضح اشارہ سمجھا جا رہا ہے۔

عالمی سفارت کاری کے اصولوں کے مطابق کسی بھی ملک کی قیادت کے بارے میں اس نوعیت کے بیانات اکثر حساسیت کا باعث بنتے ہیں کیونکہ انھیں دوسرے ملک کے داخلی معاملات میں مداخلت کے طور پر دیکھا جاتا ہے۔

یہی وجہ ہے کہ ایران کے سیاسی حلقوں اور بعض بین الاقوامی مبصرین نے اس بیان کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر عالمی طاقتیں واقعی خطے میں استحکام چاہتی ہیں تو انھیں ایسے بیانات سے گریز کرنا چاہیے جو کشیدگی میں اضافے کا سبب بن سکتے ہوں۔

امریکی صدر کی جانب سے یہ کہنا کہ وہ نہیں چاہتے کہ کرد فورسز ایران میں داخل ہوں، بھی ایک اہم نکتہ ہے کیونکہ مشرقِ وسطیٰ کی سیاست میں کرد مسئلہ ایک پیچیدہ اور حساس موضوع رہا ہے۔

عراق، شام، ترکی اور ایران میں پھیلی ہوئی کرد آبادی کئی دہائیوں سے اپنی سیاسی اور قومی شناخت کے حوالے سے جدوجہد کر رہی ہے۔ اس مسئلے نے کئی مرتبہ علاقائی سیاست کو متاثر کیا ہے اور بعض مواقع پر یہ تنازعات کا سبب بھی بنا ہے۔

اسی لیے امریکا کی جانب سے اس معاملے پر محتاط موقف اختیار کرنا دراصل خطے میں مزید پیچیدگیوں سے بچنے کی کوشش کے طور پر دیکھا جا سکتا ہے۔

صدر ٹرمپ نے اس موقع پر یہ دعویٰ بھی کیا کہ تیل کی قیمتیں تیزی سے نیچے آئیں گی۔ یہ بیان اس لیے اہم ہے کیونکہ مشرقِ وسطیٰ میں پیدا ہونے والی ہر کشیدگی کا براہ راست اثر عالمی تیل کی منڈیوں پر پڑتا ہے۔

خلیجی خطہ دنیا کی توانائی کی ضروریات پوری کرنے میں مرکزی کردار ادا کرتا ہے اور یہاں ہونے والی کسی بھی غیر یقینی صورتحال سے عالمی معیشت متاثر ہو سکتی ہے، اگر تیل کی قیمتیں بڑھتی ہیں تو اس کا اثر دنیا کے تقریباً ہر ملک کی معیشت پر پڑتا ہے، اسی لیے عالمی طاقتیں اس خطے میں استحکام برقرار رکھنے میں دلچسپی رکھتی ہیں۔

دوسری جانب چین نے بھی اس صورتحال پر اپنا واضح موقف پیش کیا ہے۔ چین کے وزیر خارجہ وانگ ای نے ایران پر حملے فوری روکنے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ یہ جنگ ہونی ہی نہیں چاہیے تھی اور طاقت کا استعمال مسئلے کا حل نہیں۔

چین کی خارجہ پالیسی عموماً عدم مداخلت اور سفارت کاری کے اصولوں پر مبنی رہی ہے، اسی لیے بیجنگ اکثر عالمی تنازعات کے حل کے لیے مذاکرات کی حمایت کرتا ہے۔

وانگ ای کا یہ کہنا کہ حکومت کی تبدیلی کے منصوبے کو مقبولیت نہیں ملی، دراصل اس عالمی رجحان کی طرف اشارہ ہے جس میں طاقت کے ذریعے حکومتوں کو تبدیل کرنے کی پالیسی کو تنقید کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔

چین نے ایران اور خلیجی ممالک کی سلامتی اور خود مختاری کے احترام پر زور دیتے ہوئے کہا کہ جنگ کو پھیلنے سے روکا جائے اور بڑی طاقتیں تعمیری کردار ادا کریں۔ یہ بیان اس حقیقت کو ظاہر کرتا ہے کہ چین نہ صرف خطے میں استحکام چاہتا ہے بلکہ وہ عالمی سفارت کاری میں ایک ذمے دار کردار ادا کرنے کی کوشش بھی کر رہا ہے۔

گزشتہ برسوں میں چین نے مشرقِ وسطیٰ میں سفارتی سرگرمیوں کو بڑھایا ہے اور بعض اہم تنازعات میں ثالثی کی کوششیں بھی کی ہیں۔

مشرقِ وسطیٰ کے موجودہ حالات اس بات کی یاد دہانی کراتے ہیں کہ یہ خطہ اب بھی عالمی سیاست کا حساس ترین علاقہ ہے۔ یہاں ہونے والی کسی بھی کشیدگی کے اثرات صرف علاقائی ممالک تک محدود نہیں رہتے بلکہ عالمی معیشت اور بین الاقوامی امن و سلامتی پر بھی مرتب ہوتے ہیں۔

ایسے میں ضروری ہے کہ تمام فریق دانشمندی، تحمل اور ذمے داری کا مظاہرہ کریں۔ایران کی جانب سے حملوں سے گریز اور معذرت کا اعلان اگرچہ ایک مثبت قدم ہے، مگر اس کے ساتھ ساتھ اعتماد سازی کے مزید اقدامات بھی ضروری ہیں۔

اسی طرح عالمی طاقتوں کو بھی ایسے بیانات اور اقدامات سے اجتناب کرنا چاہیے جو کشیدگی کو بڑھا سکتے ہوں۔ تاریخ ہمیں یہ سبق دیتی ہے کہ جنگیں عموماً مسائل کو حل کرنے کے بجائے انھیں مزید پیچیدہ بنا دیتی ہیں۔

آج کی دنیا پہلے سے کہیں زیادہ باہم جڑی ہوئی ہے اور کسی بھی خطے میں پیدا ہونے والا بحران پوری دنیا کو متاثر کر سکتا ہے۔

اسی لیے ضروری ہے کہ عالمی برادری اس صورتحال کو سنجیدگی سے لے اور سفارت کاری کے ذریعے ایک ایسا حل تلاش کرے جو نہ صرف مشرقِ وسطیٰ بلکہ پوری دنیا کے لیے امن اور استحکام کی ضمانت بن سکے۔

اگر تمام فریق بردباری اور حکمت کا مظاہرہ کریں تو یہ ممکن ہے کہ موجودہ بحران ایک بڑے تصادم میں تبدیل ہونے کے بجائے مذاکرات اور مفاہمت کے ذریعے حل ہو جائے، اور یہی وہ راستہ ہے جو خطے کے عوام اور عالمی امن دونوں کے مفاد میں ہے۔

Load Next Story