غیر اخلاقی، غیر اصولی جارحیت
m_saeedarain@hotmail.com
غزہ پر بے اصولی جنگ مسلط کر کے اسرائیل دنیا میں اپنی بے حسی، غیر اخلاقی جارحیت و بربریت کا نیا ریکارڈ بنا ہی چکا تھا مگر اب سپرپاور امریکا نے بھی ایران پر جنگ مسلط کرکے دنیا کو یہ پیغام دے دیا ہے کہ طاقتور جو چاہے کرسکتا ہے۔ امریکی صدر نے ایران کے نئے سپریم لیڈرکی مجوزہ تقرری میں کے حوالے سے کہا ہے کہ نئی تقرری میں میرا کردار ہونا چاہیے، ورنہ میں نئے سپریم لیڈر کی تقرری قبول نہیں کروں گا۔ ایسا کہنے کا کسی کو حق حاصل نہیں ہے،ایسی بات تو اسرائیلی وزیر اعظم نے بھی نہیں کہی۔ اصولاً ایران میں نئے لیڈر کی تقرری سے دونوں کا کوئی تعلق نہیں ہے کیونکہ یہ ایران کا داخلی معاملہ ہے کہ وہ جس کو چاہے اپنا سپریم لیڈر منتخب کرے۔ لیکن ایران نے امریکی صدر کی دھمکی کو خاطر میں نہ لاتے ہوئے شہید رہبر کے بیٹے مجتبیٰ خامنہ ای کو ایران کا نیا سپریم لیڈر منتخب کرلیا ہے۔
ایرانیوں نے اپنے سپریم لیڈر کی شہادت پر جس اتحاد اور محبت کا ثبوت دیا، اس کو دیکھ کر امریکا کو اپنی غلطی کا احساس ہو جانا چاہیے تھا کہ ایرانی عوام امریکی صدر کے نہیں بلکہ اپنے سپریم لیڈر کے ساتھ ہیں اور انھوں نے امریکی خواہش کے برعکس اپنے اتحاد کا فقید المثال ثبوت دے دیا ہے اور گزشتہ سال ایران میں امریکی حمایت سے جو احتجاج ہوئے تھے وہ بھی سپریم لیڈر کی شہادت سے ختم ہو گئے اور عوام نے اپنے ملک اور اپنے مذہبی رہنما سے محبت کا ثبوت دے کر دنیا کو دکھا دیا کہ وہ سب ایک ہیں اور امریکی و اسرائیلی جارحیت انھیں اپنی قیادت کے خلاف نہ کر سکی کیونکہ امریکا و اسرائیل کا خیال تھا کہ ایرانی عوام اپنے مذہبی رہنما اور ایرانی حکومت کے ساتھ نہیں بلکہ ان کے تسلط میں ہیں اور وہ اپنے سپریم لیڈر کی شہادت کو اپنی آزادی سمجھ کر سڑکوں پر آ جائیں گے جس سے ایران دشمنوں کی رجیم تبدیلی کی خواہش پوری ہو جائے گی مگر ایرانی عوام نے اپنے اتحاد کو مزید مضبوط کیا اور امریکی جارحیت سے مرعوب ہوئے بغیر لاکھوں کی تعداد میں امریکا و اسرائیل کے خلاف کسی خوف کے بغیر سڑکوں پر نکل کر امریکی سازش ناکام بنائی۔
غزہ میں اسرائیل نے فلسطینی بچوں کو ہزاروں کی تعداد میں شہید کرکے اپنی بربریت کا دنیا میں نیا ریکارڈ بنایا تھا اور نوزائیدہ بچوں تک کو نہیں بخشا تھا اور اب امریکا نے ایران میں اسکول پر بم گرائے جس سے بیسیوں معصوم بچے شہید ہوئے جن کی تدفین کے مناظر دنیا نے بھی دیکھے کہ کس طرح لاکھوں ایرانی سڑکوں پر نکلے اور انھوں نے امریکی و اسرائیلی حملوں کا خوف کیے بغیر اپنے بچوں کی ہمت و حوصلے سے تدفین کی اور گھروں سے باہر آ کر امریکی بربریت کی سخت مذمت کرکے اپنے غم و غصے کا اظہار کیا۔
ہندوستان کے مشہور مسلمان شاعر اور بھارتی پارلیمنٹ کے رکن عمران پرتاب گڑھی نے غزہ میں اسرائیل کے ہاتھوں ہزاروں بچوں کی شہادت پر غم زدہ ہو کر اپنی دکھ بھری نظم میں کہا تھا کہ دنیا میں جنگ کے موقع پر بھی کچھ عالمی آداب اور اصول ہوا کرتے ہیں مگر اسرائیل نے غزہ میں سارے عالمی اصول پامال کر دیے۔ اسرائیل کے بعد امریکا نے بھی انسانی آداب بھلا دیے۔
دنیا کو پتا ہے کہ ایران کے امریکا سے مذاکرات چل رہے تھے جو کامیابی کے قریب تھے مگر امریکا نے اسرائیل کے کہنے پر خود ان مذاکرات کو سبوتاژ کیا اور معاہدے سے قبل ہی ایران پر امریکا اور اسرائیل نے مل کر حملہ کیا اور ایران کے سپریم لیڈر کو شہید کرکے ایران کی کمر توڑنے کی کوشش کی مگر ایران اس عظیم شہادت کے بعد بھی نہیں جھکا بلکہ ایران نے مذاکرات تو کیا اپنے امریکی اہداف پر حملے روکنے سے بھی انکار کر دیا ہے اور جنگ بندی نہیں کی۔
امریکا اور اسرائیل نے غزہ کے بعد ایران پر حملے میں وہ کچھ کر دکھایا جو مہذب دنیا میں نہیں ہوتا۔ شہری آبادی، تعلیمی اداروں، اسپتالوں کو جنگوں میں محفوظ رکھا جاتا ہے مگر اسرائیلی بربریت و جارحیت میں غزہ میں خوراک کی فراہمی اور طبی امداد تک فراہم کرنے نہیں دی تھی اور اب امریکا نے بھی ایران میں عالمی اقدار اور اخلاقیات تک فراموش کر دیں مگر ایرانیوں کے حوصلے پست نہیں کر سکا ۔