’’ذاتِ اُودروازۂ شہرِ علوم‘‘
آپؓ کے سارے فرامینِ حمیدہ اور اقوالِ زریں یقیناً نہایت جامع، بہترین، نایاب اور لاجواب ہیں۔ فوٹو : فائل
تاج دار اقلیم فقر و غنایت، نازش میدان جرأت و بسالت، سیدنا علی کرم اﷲ وجہہ الکریم کے فضائل و کمالات، بے پایاں محامد و محاسن اور لامحدود اوصاف خصائص سے انکار یا پہلوتہی وہی کرسکتا ہے جسے روز محشر سرکار رسالت مآب ﷺ کی شفاعت کا انکار ہو، جو حضور سرور کائناتؐ سے محبت نہ رکھتا ہو، جو آقا ﷺ کی قُربت کا خواہش مند اور تمنائی نہ ہو، جو آپؐ کی زلف واللیل کی خُوش بُو سے مشام جاں معطر نہ کرنا چاہتا ہو، جو آپ ﷺ کے رخ والضحیٰ کی رعنائی سے تاریک دل کو منور کرنے کا آرزو مند نہ ہو، جو آپؐ کی چشم التفات سے محروم رہنا چاہتا ہو اور جو آپؐ کے اعزہ سے بہ باطن مخاصمت و عداوت رکھتا ہو۔ کیوں کہ حضور سیّد المرسلینؐ کا یہ واضح فرمان ذی شان اس بات کی عکاسی کررہا ہے: ’’علی ؓ سے محبت رکھنے کا مطلب اﷲ اور رسول ﷺ سے محبت رکھنا ہے اور علیؓ سے عداوت رکھنا اﷲ اور رسول ﷺ سے عداوت رکھنا ہے۔‘‘
غزوۂ خیبر کے موقع پر محسن انسانیت ﷺ کا یہ ارشاد گرامی جبین ارض و سما پر تابندگی بکھیر رہا ہے : ’’میں کل عَلمِ اسلام ایسے شخص کو دوں گا جو اﷲ اور رسول ﷺ سے محبت رکھتا اور اﷲ اور رسول ﷺ اس سے محبت رکھتے ہیں۔‘‘
آپؐ نے یہ بات شام کو اس وقت ارشاد فرمائی جب جیّد صحابہ ؓ کی سرتوڑ کوشش کے باوجود قلعہ یہود فتح نہیں ہو رہا تھا۔ یہ رات صحابہ کرام ؓ نے بڑے تذبذب میں گزاری کہ وہ خوش نصیب کون ہے، جس کے ہاتھ میں دست نبوت ﷺ علَم اسلام تھمائے گا۔ صبح ہوتے ہی آپؐ نے علی ابن ابی طالبؓ کو بلایا۔ اس وقت آپؓ کو آشوب چشم کا عارضہ تھا۔ رسول کریمؐ نے اپنا لعاب دہن علیؓ کی آنکھوں میں لگایا۔ تکلیف فوراً کافور ہوگئی اور پھر اہل دنیا نے دیکھا کہ حضور اکرم ﷺ کا فرمان ذی شان کتنا سچا، کتنا معتبر و محتشم ٹھہرا کہ ذوالفقار حیدری کی ایک ہی ضرب سے عَلم یہودیت ہمیشہ کے لیے سَر نگوں ہوگیا۔
حضور ﷺ نے ارشاد فرمایا: ’’جس کا میں مولا ہوں، علی ؓ بھی اس کے مولا ہیں۔‘‘ حضور ﷺ کے اس پُرجلال فرمان سے حرمت و شوکت علی المرتضیٰ طلوع آفتاب روز روشن کی طرح عیاں ہوگئی، جس کا صاف مطلب ہے کہ سیدنا علی ؓ سے عداوت بہ راہ راست حضور ﷺ سے عداوت رکھنا ہے اور آپ ﷺ سے عقیدت و محبت کا صاف مطلب حضور ﷺ سے ارادت و محبت رکھنا ہے اور حضور ﷺ سے محبت رکھنا ازروئے قرآن خالق کائنات سے محبت رکھنا ہے۔ گویا اﷲ اور رسول اﷲ ﷺ اور علی ؓ سے محبت کی تکون اہل اسلام کے ایمان کا جز و لاینفک ہے۔ اسی لیے اقبال ؒ نے کہا ہے :
مُسلمِ اوّل شہہِ مرداں علیؓ۔ ( پہلے مسلمان اور مَردوں کے سردار علیؓ ہیں)
عشق را سرمایۂ ایماں علیؓ۔ (عشق کے لیے ایمان کا سرمایہ علیؓ ہیں)
اقبال نے اپنا ذاتی تعارف پیش کرتے ہوئے بانگ درا کی معروف نظم ’’زہد اور رندی‘‘ میں یہ کہا ہے:
ہے اس کی طبیعت میں تشیّع بھی ذرا سا
تفضیل علی ؓ ہم نے سنی اُس کی زبانی
تو فطرت و حقائق کے عین مطابق تھا کیوں کہ فضائل و مناقب علیؓ کا بیان سنت رسول مکرم ﷺ ٹھہرتا ہے۔ اقبالؒ نے سیدنا علیؓ کی ہمہ صفت و ہمہ جہت شخصیت کے حضور اپنے کلام میں جا بہ جا کیوں خراج عقیدت پیش کیا ؟ اس ضمن میں دو تین امور بڑے اہم نوعیت کے ہیں جس سے کوئی صاحب فہم و ذکاء اور حامل تدبر کسی صورت انکار نہیں کرسکتا۔ ایک تو یہ کہ علی ابن ابی طالبؓ کو عہد طفولیت سے ہی آغوش رسالت مآبؐ کی زینت بننے کا شرف حاصل ہوگیا۔ جب جناب عبدالمطلب کے بعد حضور سیدالکونینؐ کو والد گرامی علی المرتضیٰ جناب ابوطالب کا سایۂ عاطفت میسر آیا اس وقت سے چشم علیؓ حضور ﷺ کے معمولات کا مشاہدہ کرنے میں مصروف ہوگئی۔ حضور سیدالمرسلینؐ کے دل نواز اور سرتا پا شفقت و محبت چچا جناب ابوطالب حضور ﷺ کواپنے بستر پر لٹا لیتے، گلیوں میں چلتے ہوئے اس بات کی احتیاط اور خیال رکھتے کہ کہیں کوئی معمولی سا سنگ ریزہ یا نوک خار آپؐ کے نرم و نازک تلوؤں کے لیے موجب آزار نہ بنے، کوئی چشم بد میرے پاک باز و نفیس بھتیجے کو زخم حسد سے گزند نہ پہنچائے۔ باد سموم کا کوئی معمولی سا جھونکا بھی حضورؐ کے لطیف و نازک اندام جسم اطہر کے لیے باعث حدت نہ بنے، تمازت آفتاب کی غایت کہیں امانت عبدالمطلب کو رنج و غم میں مبتلا نہ کرے، آفات و بلیات زمن کہیں اس لکّہ حسن کبریا کو پریشان نہ کردیں۔ ریگ زار عرب کی دل خراش ہوائیں آمنہ کے دُرّیتیم اور جگر گوشہ عبداﷲ کی زلف عنبریں کے پیچ و خم کو الجھا نہ دیں۔
حضور ﷺ سے جناب ابوطالب کی کیف آور محبت ان کے صاحب زادے سیدنا علیؓ کے دل و دماغ میں گھر کرتی رہی۔ حضرت علی ؓ اس کیفیت محبت کا نظارہ گہرے غور و فکر سے کرتے رہے اور اسے اپنی زندگی کا جزو بناتے رہے۔ بعد ازاں ابوطالب کی وفات کے بعد حضور کے یہ چچازاد (علیؓ) بہ راہ راست آپؐ کے سایۂ باراں کی لطافت سے مفیض ہونے کے لیے آپؐ کے ہاں فروکش ہوگئے۔ اس لیے سیدنا علی ؓ کا یہ اعزاز و اکرام حضرت علامہ اقبالؒ کے لیے باعث کشش و محبت بنا کہ آپ کا عرصہ قربت نبوت سب سے زیادہ بنتا ہے۔ سیدنا علیؓ کا قربت نبوتؐ کا یہ اعزاز و عظمت تحرم و تقدم کسی اور کو حاصل نہیں ہے۔ یہ تو عہد طفولیت کی بات ہے حضورؐ کے وصال مبارک کے وقت بھی آقا کے وجود اقدس کو لحد میں اتارنے کا بھی عز و شرف آپؓ کو حاصل ہے۔ اس طرح یہ ہستی حضور ﷺ کے وصال مبارک تک آپؐ کے ساتھ رہی اور پھر حق رفاقت بھی بے مثال طریقے سے ادا کرتی رہی۔
حضرت علی ؓ کی ایک اور فضیلت و شان جو آپؓ کو اس کائنات ارضی کے ہر فرد سے ممیز کرتی ہے وہ جگر گوشہ رسولؐ سیدہ فاطمۃ الزھراءؓ کا شوہر نام دار ہونا ہے۔ بعض روایات میں آتا ہے کہ اس قابل صد فخر و مباہات اور قابل صد احترام جوڑے کے نکاح کا مژدۂ جاں فزا آسمان سے حضرت جبرائیل لے کر آئے تھے اور حکم خداوندی سے آپؐ نے اس کا اہتمام فرمایا تھا۔ اسی لیے مثنوی میں اقبالؒ نے اسی امتیاز و شرف کی جانب اشارہ کیا ہے۔
بانوے آں تاج دار ھل اتیٰ
مرتضیٰ، مُشکل کُشا، شیرِخدا
حضرت علامہ کے کلام کا گہری نظر سے مطالعہ کیا جائے تو آپ کے نزدیک تفضیل علی کا ایک تاب ناک سبب ذوالفقار حیدری کی چمک ہے۔ اس ضمن میں ایک خصوصی بات کا تذکرہ بھی ضروری ہے کہ معرکۂ خیر و شر کے دوران بڑی سے بڑی ابتلا بھی آپؓ کے پائے ثبات میں ذرا سی جنبش پیدا نہ کرسکی اور آپ ؓ کی ہمیشہ کوشش یہ رہی کہ دشمنوں کی طرف سے پھینکا گیا معمولی سا ناوک نیم کش بھی بانی تحریک حق ﷺ کو نقصان نہ پہنچا دے۔ یہ ٹھیک ہے کہ دین محمد عربی ﷺ کی ترویج و اشاعت اﷲ کے فضل و رحمت، حضور کے وجود مسعود کے تصدق اور آپ کے موقر و محترم رفقاء کی اعانت کی رہین منت ہے مگر بدر و احد و خندق و خیبر کی صورت میں معرکہ ہائے حق و باطل میں ذوالفقار حیدری کچھ اس طرح سے چمکی کہ اس کی ہیبت سے دشت و جبل لرز اٹھے۔ باطل شکنی کے اعتبار سے سیدنا علیؓ کی تیغ براں کتاب جرأت و بسالت کا دل پذیر عنوان بن گئی۔ قدوم علیؓ جس طرف اٹھتے معاندین اسلام کے اجسام ریت کے ذرّوں اور نخل خزاں کے پتوں کی طرح فضائے بسیط میں اڑتے نظر آتے۔ بالخصوص فتح خیبر مسلمانان عالم کی کتاب زیست کے اوراق کو ابد الآباد تک جگ مگاتی رہے گی۔ ہجرت کی شب بستر نبوت پر دراز ہونا گویا اپنی متاع حیات کواپنے ہاتھوں دشمنوں کے سپرد کرنا تھا مگر سیدنا علی ؓ فرماتے ہیں:
’’میں نے اپنی زندگی کی سب سے تسکین آمیز شب حضورؐ کے بستر پر گزاری۔‘‘
علامہ اقبال کے نزدیک سیدنا علی ؓ کے بے عدیل محاسن میں ایک آپ ؓ کا فقر و غنا تھا۔ تہذیب علی المرتضیٰ کا یہ پہلو پرتو نبوت کی صحیح تصویر تھا۔ آپ ؓنے چوں کہ اوائل ہی سے فقر و غناء کے بوریا نشین شہنشاہ حضور سیّد المرسلین ﷺ کی حیات طیبہ کا بہت قریب سے مطالعہ و مشاہدہ کر رکھا تھا اس لیے آپؓ میں بھی خاک نشینی جھلکتی تھی اسی لیے آقا ﷺ نے ایک بار آپؓ کو بے تکلفانہ ابُوتراب کے پرجلال و پُروقار لقب سے نوازا۔