کھانا ہی کھانا …
Shireenhaider65@hotmail.com
’’میں اپنے شوہر کے ساتھ کچھ کھانا تقسیم کرنے کے لیے نکلی، شام کا وقت تھا اور جگہ جگہ دستر خوان لگے ہوئے نظر آ رہے تھے۔ لوگ زمین پر بچھی دریوں پر اپنے اپنے سامنے کھانا رکھے ہوئے بیٹھے تھے مگر انتظار ہو رہا تھا افطار کا سائرن بجنے کا کہ کھانا شروع کیا جائے۔ میںنے اپنی گود میں رکھے ہوئے ڈبے میں سے کھڑکی کھول کر راہ چلتے لوگوں کو کھانے کے پیکٹ پکڑانا شروع کیے تو ان بیٹھے ہوئے لوگوں میں سے کئی اٹھ کر ہماری گاڑی کی طرف آگئے۔
سامنے رکھا ہوا کھانا انھیں بھول گیا تھا اور وہ سو چ رہے ہوں کہ شاید ہمارے والا کھانا زیادہ بہتر ہے۔ جب ان کی تعداد بڑھ گئی تو میں نے خوفزدہ ہو کر گاڑی کا شیشہ بند کر دیا اور وہ لوگ گاڑی کا شیشہ کھٹکھٹانے لگے۔ میں نے گھبرا کر اپنے شوہر سے کہا کہ گاڑی چلائیں مبادا کہ وہ ہماری گاڑی کا شیشہ توڑ دیں ۔‘‘ وہ بات سنا رہی تھی اور میں سوچ رہی تھی کہ ماہ رمضان میں ہمارے ہاں یہ منظر اکثر ہی دیکھنے کو ملتا ہے ۔ جگہ جگہ دستر خوان سجے ہیں، لوگ کھانا بانٹ رہے ہیں اور مساجد میں افطاری کا انتظام ہوتا ہے، تراویح سے پہلے بھی چائے پانی کا انتظام کیا جاتا ہے۔
اس کی وجہ غالباً یہی ہے کہ کھانا ہمارے ہاں لوگوں کو اپنی طرف کھینچتا ہے ، جینا مرنا، لڑنا جھگڑنا، آگ لگے، زلزلے آئیں یا سیلاب… سب کچھ کھانے کے لیے ہی ہوتا ہے، اصل آگ تو پیٹ کی ہے کہ بجھنے میں ہی نہیں آتی۔ ہمیں بھی بھوکوں کو کھانا کھلانے کی ساری توفیق صرف رمضان میں ہی کیوں ہوتی ہے اور بھوکوں کو بھی اتنی بھوک کہ سامنے پڑا کھانا چھوڑ کر اس کی طرف لپکتے ہیں جس کے بارے میں علم ہی نہیں کہ اس بند پیکٹ میں کیا ہے ۔
جس طرح کہانیوں میں پہلے پہل بادشاہ خوشیوں کے مواقع پر اپنے خزانوں کے منہ کھول دیا کرتے تھے اسی طرح ہم پاکستانی بالخصوص ماہ رمضان میں اپنی زکوۃ کی رقم سے خشک راشن اور کھانوں کے منہ کھول دیتے ہیں اور کوشش کرتے ہیں کہ اس ماہ مبارکہ کی فضیلتوں سے فیضیاب ہوں ۔ ہمیں لگتا ہے کہ ہم اوپر سے لے کر نیچے تک پوری قوم کو بھکاری بنا کر ان پر کوئی احسان کر رہے ہیں۔ انھیں بنا محنت کیے یوں ہر روز کھانا کھلا کر ان کے اندر ہوس کو گھٹا رہے ہیں تو یہ ایک چھوٹا سا واقعہ ہی بتانے کے لیے کافی ہے کہ ان کی ہوس اور بھوک اس طرح ختم نہیں ہوتی، کسی بھی طرح نہیں ہوسکتی!!
کئی لوگوں سے میں نے سوال کیا جن کے بارے میں مجھے علم ہے کہ وہ کافی زیادہ راشن اور کھانا تقسیم کرتے ہیں، ہزاروں میں نہیں لاکھوں میں ان کا خرچہ ہوتا ہے۔ بلاشبہ ہمارے ہاں ایسے لاکھوں لوگ ہیں جن کی زکوۃ ہی لاکھوں اور کروڑوں میں بنتی ہے اگر وہ ادا کریں تو!! اس پر ایک اور حقیقت کہ زکوۃ دیں تو ٹیکس نہیں دیتے اور ٹیکس دیں تو کہتے ہیں وہی ہماری زکوۃ نکل گئی، زکوۃ بھی تو ایک قسم کا ٹیکس ہی ہے۔ چلیں اس منطق یا نکتے پر بحث ہرگز مقصد نہیں۔ اگر آپ لاکھوں خرچ کر کے ہزاروں لوگوں کو ماہ رمضان کے دوران دو وقت کا کھانا پیٹ بھر کر کھلاتے ہیں، سحری اور افطاری میں اور عموماً عید والے دن بھی وہ پیٹ بھر کر کھانے والے روکھی سوکھی کھا رہے ہوتے ہیں… تو ایسی ’عبادت‘ کو منقطع کرنے کا کیا فائدہ۔ عید سے اگلے دن سے وہ لوگ پھر یا مزدوری کر رہے ہوتے ہیں یا بھیک مانگ رہے ہوتے ہیں۔ کیا ہم زکوۃ کے فلسفے کو سمجھتے ہیں؟؟
ہمارے مذہب میں کوئی بھی عبادت یا عمل بے مقصد نہیں ہے، آج کے دور میں سائنس بتاتی ہے کہ روزہ جسم کے تزکیے کے لیے کتنا اہم ہے، ہمارے مذہب نے سیکڑوں برس پہلے بتا دیا تھا کہ روزہ تزکیہء جسم اور نفس ہے۔ صرف یہ نہیں کہ روزے سے ہمیں دوسرے کی بھوک کا احساس ہوتا ہے بلکہ روزہ رکھنے سے ہمیں اپنے سفلی جذبات اور اپنی زبان پر قابو پانے اور خود کو برائی سے روکنے کی عادت ہوتی ہے، اگر ہم واقعی روزے کی اصل روح پر عمل کریں تو۔ روزے کی حالت میں ہمارا جسم اپنی مرمت کا کام کرتا ہے، یہ بات آج کی سائنس بتا رہی ہے۔ ہم سائنس کے بتائے ہوئے اس عمل کی بھی دھجیاں اوقات سحر اور افطار میںاڑاتے ہیں، پراٹھے، بریانی نہاری، پائے، پکوڑے، سموسے اور چاٹ کھا کھا کر اور شربت پی کر۔ کیا نفس پر قابو اور کیا زبان پر… سب کچھ ملیامیٹ ہوجاتا ہے جب ہمارا روزہ ’ کھل ‘ جاتا ہے تو۔
اسی طرح نماز ہے تو اللہ کو کہاں ضرورت ہے ہماری عبادت کی یا ماتھا زمین پر ٹیکنے کی؟ اس کی عبادت کو کون سے کم فرشتے اور دیگر مخلوقات ہیں۔ ہماری نماز کا مقصد ہمارے اندر عاجزی پیدا کرنا اور ماتھا زمین پر ٹیکنے کا مقصد یہی ہے کہ ہم اللہ کے سامنے زیرو ہو جاتے ہیں۔
اب اس عمل کو بھی آپ کی آج کی سائنس کہتی ہے کہ حالت سجدہ میں انسانی دماغ کو چند لمحوں کے لیے خون کی وہ سپلائی ہوتی ہے جو کہ عام حالات میں نہیں ہو پاتی کیونکہ کشش ثقل کے باعث خون کی دماغ تک جانے کی وہ رفتار نہیں بن پاتی جو درکار ہوتی ہے اور سجدہ میں انسانی جسم جس ساخت میں ہوتا ہے وہ ساخت ہے جس میں انسان اس دنیا میں آنے سے پہلے رہتا ہے اور اس ساخت میں جانے کا عمل جسم میں لچک اور پٹھوں کی مضبوطی کے لیے ضروری ہے ۔ کمر اور ریڑھ کی ہڈی کے لیے بھی یہ فائدہ مند ہے اور حالت سجدہ میں جو اعضاء زمین کو چھوتے ہیں، ماتھا اور ہتھیلیاں… ان پر کئی ایسے پریشر پوائنٹ ہوتے ہیں جن سے ان اعضاء کو فائدہ پہنچتا ہے ۔
اسی طرح زکوۃ اگرچہ سخاوت کا عمل ہے جس سے دولت مند لوگ غریبوں کی مدد کرتے ہیں لیکن اس کا ایک اہم مقصد دولت کی طہارت ہونا ہے، آپ کی دولت سے جب کچھ حصہ منہا ہوتا ہے تو اس سے دوسروں کو فائدہ پہنچتا ہے اور اس سے آپ کو دعائیں ملتی ہیں۔ اس سے اللہ کی خوشنودی حاصل ہوتی ہے اور ساتھ ہی آپ کو یہ احساس بھی ہوتا ہے کہ جو کچھ اللہ نے آپ کو دیا ہے وہ آپ کے لیے آزمائش ہے، وہ آپ کو دے کر آزما رہا ہے۔ اگر آپ اس کے دیے میںسے دیتے ہوئے ہچکچائیں گے تو وہ آپ سے چھین بھی سکتا ہے ۔ آپ کی زکوۃ سے کسی غریب کا گھر چل جائے، اس کا علاج ہو جائے، اس کے بچے تعلیم حاصل کرلیں تو آپ کے لیے اطمینان قلب کا باعث ہو گا۔
زکوۃ دینے کا اصل مقصد یہ ہے کہ مانگنے والا مانگنا چھوڑ دے ، وہ وقت آئے کہ آپ سے زکوۃ لینے والا خود زکوۃ دینے کے قابل ہو جائے۔ اپنا گھر بھی چلائے اور دوسروں کی حتی الامکان مدد بھی کرسکے ۔ اس کا بہترطریقہ یہ ہے کہ آپ یوں راشن اور کھانا بانٹنے کی بجائے کوئی آٹھ دس لوگوں کو اپنی زکوۃ کی رقم سے اس قابل بنا دیں کہ وہ اپنا کام شروع کر لیں اور اس سے انھیں اتنی آمدن ہوجائے کہ وہ اپنے گھر کا ذمہ خود اٹھا لیں ۔ آٹھ دس نہ سہی تو پانچ ، پانچ نہ سہی تو دو اور کچھ نہیں تو صرف ایک شخص کو اس قابل بنا دیں کہ وہ اگلے سال آپ سے زکوۃ نہ مانگے ، یا آپ کی زکوۃ کا حقدار نہ رہے ۔ یوں رمضان کا راشن دے کر تو ہم انھیں بھکاری کا بھکاری ہی رکھیں گے۔ ان کی عزت نفس ہو گی اور نہ محنت کی طلب و عادت۔
ماہ رمضان میں پھل اور سبزی کی ریڑھیاں، دودھ اور دہی کی دکانیں ، چھوٹی چھوٹی کریانے کی دکانیں جہاں پر سارا سودا تقریبا ادھار پر ہی رکھا جاتا ہے اور کمپنیوں کو اس وقت ادائیگی کرنا ہوتی ہے جب سامان بک جاتا ہے ۔ پکوڑوں سموسوں کے خوانچے جو ماہ رمضان میں ہم جتنی بھی کوشش کریں ، ختم نہیں ہو سکتے اور جتنے بھی ہوں ان پر اسی طرح رش ہوتا ہے، کسی کو ہنر سکھا کر اس کی دکان کھلوا دیں… درزی، نائی، موچی، رنگساز۔ سیمنٹ یا سلنڈر کی ایجنسیاں لے کر انھیں بنیادی سرمایہ دے دیں کہ وہ اپنے پاؤں پر کھڑے ہو جائیں۔ کتابوں اور یونیفارم کی دکانیں ، غرض سوچتے جائیں تو کئی تجاویز نکل آتی ہیں۔ جن کی مدد کرنا ہے، ان سے پوچھ لیں کہ ہو کیا کر سکتے ہیں یا کیاکرنا چاہتے ہیں۔
قناعت، برداشت، صبر، توکل… ایسی ہی دیگر خاصیتیں کوئی سیکھنے سے تو نہیںآتیں، یہ تو اپنے من کا کام ہے کہ کہاں رکے اور کہاں حد سے بڑھے۔ وہ جنھیں عام حالات میں اچھا تو کیا، وقت پر کھانا بھی نصیب نہیں ہوتا، جب یوں وافر ملتا ہے تو ان کے نفس کا گھوڑا بے لگام ہو جاتا ہے اور اس طرح کے مظاہرے دیکھنے کو ملتے ہیں۔