جب آبنائے ہرمز نے پٹرول آدھا کر دیا(حصہ اول)

آبنائے ہرمز کے تنگ سمندری راستے میں ذرا سی بھی رکاوٹ پیدا ہو جائے تو دنیا کی معیشت میں ہلچل مچ جاتی ہے۔

آبنائے ہرمز سے گزرنے والے تیل بردار جہازوں کی قطار ایسے دکھائی دیتی ہے جیسے دنیا کی معیشت کی نبض انھی کے سینوں میں دھڑک رہی ہو۔ ان جہازوں میں لدا ہوا تیل آج عالمی سیاست، جنگ، معیشت اور عوامی زندگی کا سب سے بڑا کردار بن چکا ہے۔ ہرمز نامی سمندر سے اٹھنے والی ایک خبر نے اسلام آباد کے ایوانوں میں ہلچل مچا دی اور یہ ایک حقیقت تھی کہ جنگ کے باعث تیل کی قیمتوں میں اضافہ ہو رہا تھا جوکہ 119 ڈالر فی بیرل تک پہنچ چکی تھی۔ تازہ اطلاعات کے مطابق جی سیون ملکوں نے ہنگامی ذخائر کے استعمال کا اشارہ دیا اور قیمت میں کمی ہوئی۔

یہ وہی آبنائے ہرمز ہے جہاں سے دنیا کے تقریباً 20 فی صد تیل کے ٹینکرز گزرتے ہیں۔ پاکستان جیسے ملک کے لیے یہ خبر کسی زلزلے سے کم نہیں۔ اس کے فوری اثرات یہ مرتب ہوئے کہ وزیر اعظم پاکستان شہباز شریف نے ایران، مشرق وسطیٰ اور خلیج سمیت پورے خطے میں جنگی صورت حال کے پیش نظر معیشت کے استحکام کے لیے کفایت شعاری، سادگی اور توانائی کی بچت کے لیے 14 نکاتی فیصلوں کا اعلان کیا ہے جن میں دو ماہ کے لیے فوری طور پر سرکاری گاڑیوں کے پٹرول کی مد میں 50 فی صد کٹوتی، سرکاری گاڑیوں کے استعمال میں 60 فی صد کمی، 4 دن کام، تعلیمی ادارے 16 تا 31 مارچ بند اور دیگر کئی کفایت شعاری کے اہم فیصلے کیے گئے۔

آبنائے ہرمز کے تنگ سمندری راستے میں ذرا سی بھی رکاوٹ پیدا ہو جائے تو دنیا کی معیشت میں ہلچل مچ جاتی ہے۔ پاکستان جیسے ملک کے لیے یہ خبر کسی زلزلے سے کم نہیں ہوتی۔ کیونکہ پاکستان اپنی ضرورت کا 85 فی صد تیل درآمد کرتا ہے۔ مالی سال 2025-26 کے پہلے 7 ماہ کے دستیاب ڈیٹا کے مطابق پٹرولیم گروپ کی کل درآمدات 9 ارب 4 کروڑ ڈالرز کی رہیں۔ جب کہ ایل این جی کی درآمدات میں 26.20 اور ایل پی جی میں 4.98 فی صد کمی ریکارڈ کی گئی تھی۔

سال 2024-25 کے مالی سال کے تجارتی اعداد و شمار کے مطابق پاکستان نے تیل اور پٹرولیم مصنوعات کی درآمد پر تقریباً 17 سے 18 ارب ڈالر خرچ کیے اور یہی درآمدی بل پاکستان کے تجارتی خسارے کو بڑھانے کا سب سے بڑا سبب ہے۔ جب عالمی منڈی میں خام تیل 70 ڈالر فی بیرل سے بڑھ کر 100 ڈالر فی بیرل ہو جائے تو اسلام آباد کی وزارت خزانہ میں فائلوں کے انبار لگ جاتے ہوں گے کیونکہ 10 ڈالر اضافے سے پاکستان کا سالانہ درآمدی بل تقریباً ڈیڑھ ارب ڈالر بڑھ جاتا ہے اور ایک ایک ارب ڈالر کی خاطر ہم آئی ایم ایف کے سامنے کس طرح گڑگڑاتے ہیں ،حکام بخوبی جانتے ہیں۔ ایسے حالات میں حکومت نے نہایت ہی اہم فیصلہ کیا کہ سرکاری پٹرول آدھا کر دیا، اس 50 فی صد سرکاری پٹرول کی کٹوتی سے معیشت پر اچھا اثر پڑے گا۔

بعض ذرائع کے مطابق حکومت کے پاس سرکاری استعمال کے لیے ایک لاکھ سے زائد گاڑیاں موجود ہیں۔ ان گاڑیوں پر سالانہ اربوں روپے کا پٹرول خرچ ہوتا ہے۔ اب نصف سے زائد گاڑیاں خاموشی سے سرکاری اداروں کے احاطے میں کھڑی رہیں گی، لیکن ایک قباحت در آسکتی ہے۔ غیر استعمال شدہ گاڑیوں کو کچھ افراد اپنے استعمال کے لیے بھی لے کر جا سکتے ہیں۔ اس سے قبل بے شمار مثالیں ایسی ہیں کہ سرکاری گاڑیاں نجی استعمال میں نظر آتی رہی ہیں۔ اب اس میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے۔ حکومت کا کفایت شعاری کا مقصد فوت ہو جائے گا۔ پٹرول کی کھپت میں کفایت شعاری کی جا رہی ہے جب نجی استعمال میں اضافہ ہوگا تو ساتھ ہی ملک میں پٹرول کی کھپت میں بھی اضافہ ہوگا۔ پاکستان کے تجارتی خسارے میں سب سے اہم کردار تیل کی درآمد کا ہے کیونکہ صرف پٹرولیم مصنوعات ہی پاکستان کے درآمدی بل کا 30 فیصد سے زیادہ حصہ بن جاتی ہیں۔

کراچی کی بندرگاہ پر جب بھی کوئی تیل بردار جہاز لنگرانداز ہوتا ہے تو اس کے ساتھ صرف ایندھن نہیں آتا بلکہ ایک کمزور معیشت کی امیدیں اور خدشات بھی اس کے ساتھ بندھے چلے آتے ہیں۔ پاکستان جیسے ملک کے لیے تیل محض توانائی کا ذریعہ نہیں بلکہ وفاقی بجٹ تجارتی خسارے درآمدات کی بڑھتی ہوئی ہولناکیوں کو کم یا زیادہ کرنے کا اہم ذریعہ اور غریب عوام کی زندگی پر اثر کرنے والی مہنگائی کو کم یا زیادہ کرنے کا ایک بنیادی عنصر ہے۔

جب تیل کی قیمت 60 سے 70 ڈالر فی بیرل تھی تو پاکستان اپنی ضرورت پر تیل کی درآمد کے لیے تقریباً 18 ارب ڈالر خرچ کرتا رہا ہے اور جب قیمت میں مسلسل اضافہ ہوگا تو معیشت پر شدید بوجھ پڑے گا۔ لہٰذا حکومت کا فیصلہ دو ماہ سے بھی زیادہ عرصے کا ہونا چاہیے۔ بشرطیکہ دیگر عوامل کو مدنظر رکھ کر فیصلے کی سختی میں کمی یا بیشی کی جا سکتی ہے کیونکہ آبنائے ہرمز کی لہروں نے ہمیں سکھا دیا ہے کہ معیشت کی بہتری کے لیے درآمدات کے بوجھ کو کم کرنے کے لیے اور فضول سرکاری پٹرول کے خرچے کو کم کرنے کے لیے پٹرول آدھا کرنا ہوگا۔

(جاری ہے)

Load Next Story