ریاستی ڈھانچے کی تنظیمِ نو کی اشد ضرورت

اس ملک کی تاریخ میں تین وزرائے اعظم ایسے اقتدار میں آئے جو حقیقی طور پر سادگی کا نمونہ تھے۔

tauceeph@gmail.com

اس ملک کی تاریخ میں تین وزرائے اعظم ایسے اقتدار میں آئے جو حقیقی طور پر سادگی کا نمونہ تھے۔ ان میں سے ایک پیپلز پارٹی کے رہنما ملک معراج خالد تھے جب کہ دوسرے پیر پگارا کے نامزد کردہ محمد خان جونیجو تھے اور تیسرے عبوری وزیر اعظم ڈاکٹر معین قریشی تھے۔ جب سابق صدر فاروق لغاری نے اپنی پیپلز پارٹی کی تیسری حکومت کو برطرف کیا تو پیپلز پارٹی کے منحرف رہنما ملک معراج خالد کو عبوری وزیر اعظم بنایا گیا۔ ملک معراج خالد نے وزیر اعظم ہاؤس سے کچھ نہ لیا ۔اپنا پروٹوکول محدود کردیا، نہ اپنے کسی چہیتے کارکن کو پلاٹ الاٹ کیا۔ملک معراج خالد کیونکہ عبوری وزیر اعظم تھے اس بناء پر وہ نظامِ حکومت کو سادہ کرنے کے لیے کچھ نہ کرسکے۔

جب مسلم لیگ کے صدر اور پہلی دفعہ وزیر اعظم کے منصب پر فائز ہونے والے میاں نواز شریف اور اس وقت کے بیوروکریٹ صدر غلام اسحاق خان کے درمیان جھگڑا بڑھ گیا اور غلام اسحاق خان نے نواز شریف کی حکومت کو برطرف کردیا مگر سپریم کورٹ کے سابق چیف جسٹس نسیم حسن شاہ نے میاں نواز شریف کی حکومت کو بحال کردیا تھا مگر میاں نواز شریف دوبارہ وزیر اعظم بنے تو پھر ان کا غلام اسحاق خان سے جھگڑا اس حد تک بڑھا کہ اس وقت نواز شریف اورغلام اسحاق خان دونوں کو اقتدار چھوڑنا پڑا اور سنگاپور میں مقیم ڈاکٹر معین قریشی کوعبوری وزیر اعظم کا عہدہ سونپ دیا گیا۔

ڈاکٹر معین قریشی نے پہلی دفعہ یہ شرط عائد کی کہ انتخابات میں حصہ لینے والے امیدوار کے بینکوں کے قرضوں کی ادائیگی کی دستاویز، تمام یوٹیلیٹی بلز کی ادائیگی کے علاوہ سرکاری رہائشی سہولتیں اختیار کرنے والے افراد کا ان سہولتوں کے چارجز ادا کرنا لازمی ہوگا، یوں بہت سے افراد اس شرط پر پورے نہیں اترے اور خاصی تعداد میں لوگوں نے سرکاری اخراجات ادا کیے۔ ڈاکٹر معین قریشی نے کسی فرد کو پلاٹ نہیں دیا۔ انھوں نے پی ٹی وی اور ریڈیو پاکستان کو آزاد ادارہ بنانے کے لیے قانونی ضروریات پوری کیں مگر محترمہ بے نظیر بھٹو کی قیادت میں اقتدار میں آنے والی پیپلز پارٹی کی حکومت نے ڈاکٹر معین قریشی کی اصلاحات کو رول بیک کردیا۔

 جنرل ضیاء الحق نے ایم آر ڈی کی تحریک کے بعد ملکی اور عالمی دباؤ پر ملک میں غیر جماعتی بنیادوں پر انتخابات کرائے اور جنرل ضیاء الحق نے مسلم لیگ فنکشنل کے صدر پیر پگارا کے نامزد کردہ محمد خان جونیجو کو وزیر اعظم مقرر کیا۔ اگرچہ محمد خان جونیجو سیاسی طور پر ایک کمزور وزیر اعظم تھے مگر انھوں نے سب سے پہلے سیاسی جماعتوں کو بحال کیا اور تاریخ میں پہلی دفعہ سادگی اور سرکاری اخراجات میں زبردست کمی کا اعلان کیا۔ محمد خان جونیجو نے فیصلہ کیا کہ وزیر اعظم، وفاقی وزراء، وزراء اعلیٰ اور تمام سول و غیر سول سرکاری ملازمین کی بڑی گاڑیاں نیلام کردی جائیں گی اور تمام افراد چھوٹی گاڑیوں میں سفر کریں گے۔ حکومتی فیصلے کے تحت بڑی گاڑیوں کو سرکاری پول میں جمع کیا گیا، یوں ہزاروں گاڑیاں اس پول میں جمع ہوگئیں۔ جنرل ضیاء الحق نے کچھ عرصے بعد محمد خان جونیجو کی حکومت کو برطرف کردیا، نئے انتخابات ہوئے۔ پہلے پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ ن کی حکومتیں بنیں۔ ہر حکومت نے کفایت شعاری کا نعرہ تو لگایا مگر عملی طور پر تمام ریاستی اداروں کے اخراجات بڑھتے چلے گئے۔

 جب 2002 میں نیویارک میں ٹوئن ٹاورز کو طیاروں کے حملے میں تباہ کیا گیا، یہ کارنامہ افغانستان میں مقیم سعودی منحرف اسامہ بن لادن کے حصے میں آیا ، تو امریکا نے اپنے اتحادیوں کے ساتھ کابل پر حملہ کیا، یوں War on terror شروع ہوئی۔ پاکستان اس ’مقدس‘ جنگ کا حصہ بنا۔ امریکا اور اتحادیوں نے جنرل ضیاء الحق کے دورِ اقتدار کی طرح اربوں ڈالر بطور امداد لیے جس کا فائدہ سول و غیر سول بیوروکریسی کو ہوا، اور ان کا سائز بڑھتا چلا گیا۔

آئین میں کی گئی 18ویں ترمیم کے بعد قومی مالیاتی ایوارڈ کا فارمولہ تبدیل ہوا۔ صوبوں کی آمدنی میں کئی سو گنا اضافہ ہوا۔ اس اضافی رقم کا کچھ حصہ تو ترقیاتی کاموں پر صرف ہوا جب کہ باقی حصہ کہاںخرچ ہوا تمام صوبوںکے ترجمان اس سوال کا مختلف جواب دیتے ہیں۔ پاکستان کی معیشت ہمیشہ آئی سی یو میں رہی ہے۔ عالمی مالیاتی اداروں اور دوست ممالک کی امداد سے ملک کی معیشت کا پہیہ چلتا ہے۔

 جب بھی کوئی عالمی تنازع ہوتا ہے تو سب سے پہلے پاکستان پر اس کے اثرات پڑتے ہیں۔ امریکا اور اسرائیل نے ایران پر حملہ کیا۔ ایران نے زبردست مزاحمت کی۔ اس تنازع میں آبنائے ہرمز میں جہازرانی مشکل ہوئی۔ خلیجی ممالک میں تیل کی پیداوار رک گئی۔ عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں بڑھنے لگیں۔ پاکستان نے پیٹرول کی قیمت بڑھا کر 322 روپے فی لیٹر کردی جب کہ ڈیزل کی قیمت 335.86 روپے فی لیٹر اور مٹی کے تیل کی قیمت 318.81 کردی گئی۔

البتہ بھارت کی حکومت نے پیٹرولیم کی مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ نہیں کیا۔ وہاں مختلف شہروں میں پیٹرول 103.94 روپے فی لیٹر اور ڈیزل 90.74 روپے فی لیٹر دستیاب ہے۔ اسی طرح بنگلہ دیش میں ڈیزل فی لیٹر 100 ٹکا، پیٹرول فی لیٹر 116 ٹکا اور کروسین آئل فی لیٹر 112 ٹکا پر دستیاب ہے۔ بھارت اور بنگلہ دیش کی کرنسی کی ویلیو پاکستان کی کرنسی سے زیادہ ہے۔ بنگلہ دیش نے پیٹرول کی راشننگ کا فیصلہ کیا۔ صدر ٹرمپ ہر ہفتے پاکستانی قیادت کے گن گاتے ہیں مگر امریکا نے بھارت کو روس سے تیل خریدنے کی خصوصی اجازت دیدی۔ بنگلہ دیش کے نئے وزیر اعظم طارق رحمن نے اپنا عہدہ سنبھالتے ہی فیصلہ کیا کہ وہ اپنی ذاتی کار میں سفر کریں گے اور اپنا پروٹوکول مختصر کردیا۔ حکومت پر یہ تنقید ہوئی کہ جب حکومت کے پاس 28 دن کا پیٹرول موجود تھا تو ابھی سے اس اضافے کی کیا ضرورت تھی؟ تو اس کا کوئی خاطرخواہ جواب نہیں آیا۔ مگر یہ اعداد و شمار وائرل ہوئے کہ اچانک پیٹرول کی قیمت میں 55 روپے فی لیٹر اضافہ سے پیٹرول پمپ مالکان، ڈیلرز اور تیل فراہم کرنے والی کمپنیوں کو کروڑوں روپے مل گئے۔

اس کے ساتھ سازشی تھیوریاں بھی سوشل میڈیا پر وائرل ہونے لگیں۔ ان سازشی تھیوریز کی اگرچہ کوئی حقیقت نہیں مگر غریب آدمی جس پر پیٹرول کا بم گرا ہے اپنے ناگفتہ بہ حالات کی بناء پر اس سازشی تھوریز پر یقین کرنے پر مجبور ہوئے، یوں عام آدمی اور حکومت میں فاصلے بڑھ گئے۔ عجیب حیرت کی بات ہے کہ جب وزیر خزانہ نے پیٹرولیم کی مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کا اعلان کیا تو حکومت نے سرکاری اخراجات میں کمی کے لیے باقاعدہ طور پر کوئی اعلان نہیں کیا۔ خیبر پختون خوا کے وزیر اعلیٰ نے جب یہ اعلان کیا کہ ہر رجسٹرڈ موٹرسائیکل سوار کو 2 ہزار 200 روپے دیے جائیں گے تو وفاق ، پنجاب اور سندھ کی حکومتوں نے مختلف اعلانات کیے۔پیٹرول ملک میں بہت کم پیدا ہوتا ہے اور پیٹرول کی بیشتر مقدار درآمد ہوتی ہے۔ پاکستان سعودی عرب، خلیجی ممالک کے علاوہ ایران سے بھی تیل خریدتا تھا۔ پھر پیٹرولیم کے وزیر ڈاکٹر مصدق ملک کی کوششوں سے روس سے بھی تیل منگوایا گیا۔ امریکا نے روس سے تیل منگوانے پر سخت اعتراض کیا۔ پاکستان کو پہلی دفعہ امریکا سے تیل خریدنا پڑا جس کی بناء پر ٹرانسپورٹیشن کے اخراجات بڑھ گئے۔

خارجہ تعلقات کے طالب علموں کا کہنا ہے کہ پاکستان نے صدر ٹرمپ کو نوبل انعام کے لیے نامزد کیا مگر پاکستان امریکا کو اس بات پر آمادہ نہ کرسکا کہ امریکا تیل رعایتی قیمتوں پر فراہم کرے۔ یہی صورتحال گلف اور سعودی عرب سے درآمد ہونے والے تیل کے بارے میں ہے۔ میڈیا کے امور پر تحقیق کرنے والے ڈاکٹر سعید عثمانی کاکہنا ہے کہ ہمارے حکمران اور وزرا مہینہ میں 20 سے 25 دن مختلف ممالک کے کامیاب دورہ پر ہوتے ہیں مگر پھر بھی پاکستان کو کہیں سے بھی ریلیف نہیں ملتا۔ وزیر اعظم نے پیٹرول کی بچت کے لیے جو اعلانات کیے ہیں وہ قابلِ ستائش ہیں مگر ان اعلانات سے عام آدمی کا مسئلہ حل نہیں ہوتا۔ اس پیٹرول بم کے متوسط اور نچلے متوسط طبقے پر گہرے اثرات رونما ہونگے۔ ڈاکٹر فاروق ستار کی یہ بات درست ہے کہ اس فیصلے سے غربت بڑھے گی اور لوگ خودکشیوں پر آمادہ ہونگے۔ اس کے علاوہ ملک میں جرائم میں اضافہ ہوگا۔ مسئلہ کا حل ریاست کے پورے نظام کی ازسرِنو تنظیمِ نو میں مضمر ہے۔ حکمران طبقہ اپنی ذاتی زندگیوں میں جب سادگی کو اپنالے گا تو عوام بھی اس بارے میں سوچنے پر مجبور ہونگے۔

Load Next Story