ہنری کسنجر بمقابلہ پروفیسر جیانگ

دونوں کی کم از کم دو دو پیش گوئیاں درست ثابت ہوچکی ہیں

sohailyaqoob

حالیہ مشرق وسطی جنگ کے حوالے سے ذرائع ابلاغ میں ہنری کسنجر اور چینی پروفیسر جیانگ کی پیش گوئیوں کا بڑا چرچا ہے۔

دونوں کی کم از کم دو دو پیش گوئیاں درست ثابت ہوچکی ہیں لیکن تیسری پیش گوئی دونوں کی ایک دوسرے سے بالکل متضاد ہے اور اب یہ وقت ہی بتائے گا کہ دونوں میں سے کون درست ثابت ہوتا ہے۔

ہم پہلے ہنری کسنجرکی پیش گوئیوں کا جائزہ لیتے ہیں۔ ہنری کسنجر نے کہا تھا کہ اگر آپ کے کان تیسری عالمی جنگ کے نقارے نہیں سن رہے تو آپ بہرے ہیں۔ اس نے یہ بھی کہا تھا کہ دنیا تیسری عالمی جنگ کے دہانے پرکھڑی ہے۔

یہ جنگ مشرق وسطیٰ سے شروع ہوگی اور ایران اس کا نقطہ آغاز ہوگا۔ اب مشرق وسطیٰ سے جنگ تو شروع ہوچکی ہے اور اس کا آغاز بھی ایران سے ہوا ہے لیکن یہ جنگ تیسری عالمی جنگ میں تبدیل ہوتی ہے یا نہیں؟ اس کا فیصلہ ہونا ابھی باقی ہے۔

مشرق وسطی کے حالیہ فدویانہ بلکہ غلامانہ کردار کے بعد امید نہیں تھی کہ جنگ کا آغاز مشرق وسطیٰ سے ہوگا۔ ویسے تو اسرائیل کے قیام کے بعد جنگ کبھی بھی مشرق وسطی سے کی ہی نہیں تھی لیکن ایک ایسی جنگ کہ جس میں تقریباً پورا مشرق وسطیٰ جلنے لگے، اس کے آغازکی بھی امید نہیں تھی ویسے تو امن کو جنگوں کے درمیان وقفہ ہی قرار دیا جاسکتا ہے اور لگتا ہے کہ ’’ تجارتی وقفہ‘‘ اب ختم ہوگیا ہے۔

اندازے تو یہ بھی تھے کہ امریکا کبھی بھی ایران پر حملہ نہیں کرے گا۔ سب کے اندازے غلط ثابت ہوئے اور ہنری کسنجر نے ان دو پیش گوئیوں میں جو کہا تھا وہ حرف بحرف پورا ہوا۔ ہنری کسنجر نے اپنی پیش گوئی میں آگے یہ بھی کہا تھا کہ اس جنگ کے نتیجے میں عرب بہت بڑی تعداد میں ہلاک ہوجائیں گے اور اسرائیل مشرق وسطیٰ کے ایک بڑے حصے پر قابض ہوجائے گا۔

اب ان حالات میں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا اس کی پیش گوئی کا یہ حصہ بھی پورا ہوگا؟ یا کچھ نیا ہونے جارہا ہے؟اب ہم پروفیسر جیانگ کی پیش گوئیوں کی طرف آتے ہیں۔ یہ پروفیسر جیانگ وہی ہے کہ جنھوں نے پچھلے امریکی چناؤ میں ڈونلڈ ٹرمپ کے جیتنے کی پیش گوئی کی تھی جب کہ پوری دنیا کو امید تھی کہ کملا دیوی ہیرس جیتے گی۔

پروفیسر جیانگ نے یہ بھی پیش گوئی کی تھی کہ چناؤ جیتنے کے بعد صدر ٹرمپ ایران پر حملہ کریں گے اور ایسا ہی ہوا۔ اب یہاں تک تو ان کی بھی دو پیش گوئیاں درست ہوچکی ہیں لیکن مستقبل قریب کی صورتحال پیچیدہ ہے۔

پروفیسر جیانگ نے کہا ہے کہ اس جنگ میں امریکا کو شکست ہوگی، مشرق وسطیٰ کا نقشہ تبدیل ہوجائے گا اور پیٹرو ڈالر معاہدہ ختم ہوجائے گا۔ آپ پہلے ہی پڑھ چکے ہیں کہ ہنری کسنجر نے اس جنگ میں عربوں کی بڑی تعداد میں ہلاکت اور اسرائیل کی بڑے حصے پر قبضے کی پیش گوئی کی ہے۔

اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ آگے کیا ہوگا؟ میری ذاتی رائے میں ہنری کسنجر اپنی آخری پیش گوئی میں یہودی مدبر سے صرف یہودی ہوگئے تھے اور ان کی پیش گوئی کے اس حصے کو آپ ان کی پیش گوئی سے زیادہ ان کی خواہش سمجھ سکتے ہیں۔

میرے خیال سے دنیا اس وقت تیسری عالمی جنگ کے لیے بالکل بھی تیار نہیں ہے۔ آپ موجودہ جنگ کو تیسری عالمی جنگ سے پہلے آخری بڑی جنگ قرار دے سکتے ہے۔

چین دنیا کا سپر پاور بننا چاہتا ہے اور یہ بھی چاہتا ہے کہ امریکا ایشیا اس کے لیے چھوڑ دے لیکن امریکا کو بھی پتہ ہے کہ اس کی ساری عیاشی عربوں کی مرہون منت اور عربوں کو ڈرانے کے لیے پہلے وہ اسرائیل کا استعمال کرتا رہا ہے اور بعد میں اس نے ایران کو بھی استعمال کیا کہ جس کی وجہ سے ایران کے بارے میں غلط فہمی کا آغاز ہوا۔

ہم دوبارہ چین کی طرف آتے ہیں۔ موجودہ حالات میں چین اپنے اہداف تیسری عالمی جنگ کے بغیر زیادہ بہتر اور سرعت انداز میں حاصل کر رہا ہے تو اس کو کیا ضرورت پڑی کہ خواہ مخواہ تیسری عالمی جنگ کے جھمیلے میں پڑے۔

چین کا مقصد امریکا کو معاشی اور عسکری طور پرکمزورکرنا ہے تاکہ اس کو نہ صرف ایشیا چھوڑنے پر آمادہ کیا جاسکے بلکہ اس پر بھی آمادہ کیا جاسکے کہ وہ چین کو سپر پاور تسلیم کرتے ہوئے اس کے لیے جگہ چھوڑے اور وہ یہ سب جنگ کے بغیر ہی حاصل کر رہا ہے اور زیادہ بہتر انداز سے حاصل کررہا ہے۔

یہ تو دنیا جانتی ہے کہ امریکا یہ بات آسانی سے مانے گا نہیں تو خطرہ امریکا سے ہے کہ کہیں وہ اپنی حماقت یا بے صبری میں ایسا کچھ کرسکتا ہے کہ جو تیسری عالمی جنگ کا نقطہ آغاز ہوسکتا ہے۔

اس کے لیے چین، شمالی کوریا یا روس کے کسی شہر پر پرل ہاربر جیسا حملہ ہوسکتا ہے اور وہ کون کرسکتا ہے، یہ میں آپ کے قیاس پر چھوڑتا ہوں۔ ویسے چین پر حملے والا کام اسرائیل اور ہمارا پڑوسی مل کر بھی کرسکتے ہیں، اگر ہمارے پڑوسی کو اس کی مناسب قیمت دی جائے اور قیمت پاکستان کی صورت میں بھی ہوسکتی ہے۔

اس صورتحال میں تو تیسری عالمی جنگ کا آغاز یقینی ہے۔ اس کے علاوہ حالیہ مشرق وسطیٰ جنگ تیسری عالمی جنگ میں تبدیل ہوتی نہیں نظر آرہی۔ اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ حالیہ جنگ کا انجام کیا ہوگا؟

ایک بات تو طے ہے کہ امریکا نے نہ صرف اس جنگ کے بارے میں غلط اندازہ لگایا تھا اور وہ اب تک اپنے اہداف بھی حاصل کرنے میں ناکام ہے۔ جنگ کی حکمت عملی کے حوالے سے بھی اس کے اور اسرائیل کے درمیان اختلافات کی خبریں آرہی ہیں۔

اب تک ایران بہت ہی موثر انداز میں یہ جنگ روسی انٹیلیجنس، چینی اورکورین میزائل اور ٹیکنالوجی کے ساتھ لڑرہا ہے اور کامیاب بھی ہے۔ جنگ میں شمالی کوریا کو شامل کرنے کے لیے امریکا کے قومی سیکیورٹی مشیر جان بولٹن نے الزام لگایا ہے کہ ایران شمالی کوریا سے جوہری اسلحہ یا جوہری ٹیکنالوجی حاصل کر سکتا ہے۔

جنگ میں اسلحہ کس ملک کا ہوتا ہے یہ تو جنگ کے بعد پتا چلتا ہے۔ ہم دوبارہ جنگ کی طرف آتے ہیں۔ امریکا نے پہلے اسے دنوں کی جنگ قرار دیا پھر ہفتوں اور اب وہ مہینوں پرآگیا ہے۔ ان حالات میں اب امریکا ایران سے نکلنا چاہے گا اور وہ کوئی بھی چھوٹی موٹی فتح کو اپنی فتح قرار دیکر یہاں سے نکل سکتا ہے۔

یہ بھی ہوسکتا ہے کہ وہ ایران کو توڑ کرکسی حصے پر اپنی کٹھ پتلی حکومت بنا کر بھاگ جائے۔ یوں سمجھ لیجیے کہ وہ چاہے گا کہ ایران کو غیر مستحکم اور افراتفری کے ماحول میں چھوڑکر بھاگ جائے لیکن روس، چین اور ایرانی قوم ایسا ہونے نہیں دیں گی کیونکہ اگر ایسا ہونا ہوتا تو اب تک ہوچکا ہوتا۔

مشرق وسطیٰ کا مستقبل یقینی طور پر تاریک ہے اور اس جنگ کے بعد بھی مشرق وسطیٰ پہلے والا مشرق وسطیٰ نہیں بن سکے گا۔ عربوں کی باہمی چپقلش آنے والے دنوں میں مزید نمایاں ہوگی اور عربوں کو بالخصوص اور مسلمانوں کو مشرق وسطی کی حکومتوں کے غیر حقیقت پسندانہ عزائم کی قیمت چکانا ہوگی۔

جیسا کہ پروفیسر جیانگ نے کہا ہے کہ مشرق وسطیٰ کا نقشہ تبدیل ہوجائے گا اور وہ کیا ہوگا؟ پروفیسر جیانگ نے تو بحرین، متحدہ عرب امارات اور دیگر عرب ممالک کے بارے میں پیش گوئی بھی کی ہے لیکن حقیقت میں کیا ہوگا یہ تو آنے والا وقت ہی بتائے گا۔

پاکستان کے لیے آنے والے دن ہر لحاظ سے بہت مشکل ہیں کیونکہ ہم نے ڈالروں کے لیے کچھ ایسے معاہدے کیے ہوئے ہیں جو ہماری سالمیت اور بقا کو خطرے میں ڈال سکتے ہیں۔

ہر مشکل صورتحال کا کوئی نہ کوئی مثبت پہلو ضرور ہوتا ہے تو اس میں ہمارے لیے مواقع بھی ہے لیکن ہماری اشرافیہ ابھی تک ٹینکر بیچنے اور سڑکوں کی تعمیر میں کمیشن سے آگے نہیں بڑھ رہی، حالانکہ دنیا کو اس وقت ایک محفوظ اور مضبوط سرمایہ کاری کے خطے کی ضرورت ہے اور پاکستان یہ کردار بآسانی اور بخوبی ادا کرسکتا ہے۔

اگر ہماری قیادت اس فراست اور تدبرکا مظاہرہ کریں جو اس کا متقاضی ہے۔ اب ہماری قیادت اس کی اہل ہے یا نہیں؟ یہ میں آپ کی صوابدید پر چھوڑتا ہوں۔ آنے والے دن سب کے لیے بہت مشکل ہے، مہنگائی کا جن بے قابو رہے گا۔

مشرق وسطیٰ کے حالات کے بعد ہوسکتا ہے کہ ملک میں بیروزگاری میں مزید اضافہ ہوجائے کہ جس کے نتیجے امن و امان کی مخدوش صورتحال مزید مخدوش ہوسکتی ہے۔ اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ ہم سب کو اپنے حفظ و امان میں رکھے۔ (آمین)

Load Next Story